اور آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی کے پاس ہے اور قیامت کا معاملہ نہیں ہے مگر آنکھ جھپکنے کی طرح، یا وہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔[77]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَلِلّٰہِ
غَیۡبُ
السَّمٰوٰتِ
وَالۡاَرۡضِ
وَمَاۤ
اَمۡرُ
السَّاعَۃِ
اِلَّا
کَلَمۡحِ
الۡبَصَرِ
اَوۡ
ہُوَ
اَقۡرَبُ
اِنَّ
اللّٰہَ
عَلٰی
کُلِّ
شَیۡءٍ
قَدِیۡرٌ
اور اللہ ہی کے لیے ہے
غیب
آسمانوں
اور زمین کا
اور نہیں
معاملہ
قیامت کا
مگر
جیسے جھبکنا
آنکھ کا
یا
ہے وہ
اس سے بھی زیادہ قریب
بیشک
اللہ
اوپر
ہر
چیز کے
خوب قدرت رکھنے ولا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَلِلّٰہِ
غَیۡبُ
السَّمٰوٰتِ
وَالۡاَرۡضِ
وَمَاۤ اَمۡرُ
السَّاعَۃِ
اِلَّا
کَلَمۡحِ
الۡبَصَرِ
اَوۡ
ہُوَ
اَقۡرَبُ
اِنَّ
اللّٰہَ
عَلٰی
کُلِّ شَیۡءٍ
قَدِیۡرٌ
اور اللہ تعالیٰ کے لیے
غیب
آسمانوں کا
اور زمین کا
اور نہیں معاملہ
قیامت کا
مگر
جیسے جھپکنا
پلک کا
اور
وہ
زیادہ قریب ہے
یقیناً
اللہ تعالیٰ
اوپر
ہر چیز کے
پوری قدرت رکھنے والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَلِلّٰهِ
غَيْبُ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ
وَمَآ
اَمْرُ السَّاعَةِ
اِلَّا
كَلَمْحِ الْبَصَرِ
اَوْ
هُوَ
اَقْرَبُ
اِنَّ
اللّٰهَ
عَلٰي
كُلِّ
شَيْءٍ
قَدِيْرٌ
اور اللہ کے لیے
پوشیدہ باتیں
آسمانوں
اور زمین
اور نہیں
کام ( آنا) قیامت
مگر (صرف)
جیسے جھپکنا آنکھ
یا
وہ
اس سے بھی قریب
بیشک
اللہ
پر
ہر
شے
قدرت والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔