اس نے کہا کیا تو نے دیکھا جب ہم اس چٹان کے پاس جاکر ٹھہرے تھے تو بے شک میں مچھلی بھول گیا اور مجھے وہ نہیں بھلائی مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں اور اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح سے بنالیا۔[63]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
قَالَ
اَرَءَیۡتَ
اِذۡ
اَوَیۡنَاۤ
اِلَی الصَّخۡرَۃِ
فَاِنِّیۡ
نَسِیۡتُ
الۡحُوۡتَ
وَمَاۤ
اَنۡسٰنِیۡہُ
اِلَّا
الشَّیۡطٰنُ
اَنۡ
اَذۡکُرَہٗ
وَاتَّخَذَ
سَبِیۡلَہٗ
فِی الۡبَحۡرِ
عَجَبًا
اس نے کہا
کیا دیکھا تم نے
جب
پناہ لی تھی ہم نے
طرف چٹان کے
تو بےشک میں
بھول گیا تھا میں
مچھلی کو
اور نہیں
بھلایا مجھے اس کو
مگر
شیطان نے
کہ
میں ذکر کروں اس کا
اور اس نے بنا لیا تھا
راست اپنا
سمندر میں
عجیب طرح سے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
قَالَ
اَرَءَیۡتَ
اِذۡ
اَوَیۡنَاۤ
اِلَی الصَّخۡرَۃِ
فَاِنِّیۡ
نَسِیۡتُ
الۡحُوۡتَ
وَمَاۤ
اَنۡسٰنِیۡہُ
اِلَّا
الشَّیۡطٰنُ
اَنۡ
اَذۡکُرَہٗ
وَاتَّخَذَ
سَبِیۡلَہٗ
فِی الۡبَحۡرِ
عَجَبًا
اُس نے کہا
کیا آپ نے دیکھا
جب
ہم ٹھہرے تھے
ایک چٹان پر
تو بے شک میں
بھول گیا
مچھلی کو
اور نہیں
مجھے بھلوایا اُس کو
مگر
شیطان نے
یہ کہ
میں ذکر کروں اس کا
اور اس نے بنایا تھا
راستہ اپنا
دریا میں
عجیب طرح سے
حافظ نذر احمد حفظه الله
قَالَ
اَرَءَيْتَ
اِذْ
اَوَيْنَآ
اِلَى
الصَّخْرَةِ
فَاِنِّىْ
نَسِيْتُ
الْحُوْتَ
وَ
مَآ اَنْسٰنِيْهُ
اِلَّا
الشَّيْطٰنُ
اَنْ اَذْكُرَهٗ
وَاتَّخَذَ
سَبِيْلَهٗ
فِي الْبَحْرِ
عَجَبًا
اس نے کہا
کیا آپ نے دیکھا
جب
ہم ٹھہرے
طرف۔ پاس
پتھر
تو بیشک میں
بھول گیا
مچھلی
اور
نہیں بھلایا مجھے
مگر
شیطان
کہ میں اس کا ذکر کروں
اور اس نے بنالیا
اپنا راستہ
دریا میں
عجیب طرح
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]