یہ طلاق (رجعی) دو بار ہے، پھر یا تو اچھے طریقے سے رکھ لینا ہے، یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمھارے لیے حلال نہیں کہ اس میں سے جو تم نے انھیں دیا ہے کچھ بھی لو، مگر یہ کہ وہ دونوں ڈریں کہ وہ اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھیں گے۔ پھر اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھیں گے تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو عورت اپنی جان چھڑانے کے بدلے میں دے دے۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں، سو ان سے آگے مت بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے گا تو یہی لوگ ظالم ہیں۔[229]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اَلطَّلَاقُ
مَرَّتٰنِ۪
فَاِمۡسَاکٌۢ
بِمَعۡرُوۡفٍ
اَوۡ
تَسۡرِیۡحٌۢ
بِاِحۡسَانٍ
وَلَا
یَحِلُّ
لَکُمۡ
اَنۡ
تَاۡخُذُوۡا
مِمَّاۤ
اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ
شَیۡئًا
اِلَّاۤ
اَنۡ
یَّخَافَاۤ
اَلَّا
یُقِیۡمَا
حُدُوۡدَ
اللّٰہِ
فَاِنۡ
خِفۡتُمۡ
اَلَّا
یُقِیۡمَا
حُدُوۡدَ
اللّٰہِ
فَلَا
جُنَاحَ
عَلَیۡہِمَا
فِیۡمَا
افۡتَدَتۡ
بِہٖ
تِلۡکَ
حُدُوۡدُ
اللّٰہِ
فَلَا
تَعۡتَدُوۡہَا
وَمَنۡ
یَّتَعَدَّ
حُدُوۡدَ
اللّٰہِ
فَاُولٰٓئِکَ
ہُمُ
الظّٰلِمُوۡنَ
طلاق
دو بارہے
پھر روک لینا ہے
ساتھ بھلے طریقے کے
یا
رخصت کردینا ہے
ساتھ احسان کے
اور نہیں
حلال ہوسکتا
تمہارے لیے
کہ
تم لے لو
اس میں سے جو
دے دیا ہے تم نے انہیں
کچھ بھی
مگر
یہ کہ
وہ دونوں ڈریں
کہ نہ
وہ دونوں قائم رکھ سکیں گے
حدود کو
اللہ کی
پھر اگر
خوف کھاؤ تم
کہ نہ
وہ دونوں قائم رکھ سکیں گے
حدود کو
اللہ کی
تو نہیں
کوئی گناہ
ان دونوں پر
اس (چیز) میں جو
وہ عورت فدیہ دے دے
ساتھ اس (مال) کے
یہ
حدود ہیں
اللہ کی
تو نہ
تم تجاوز کرنا ان سے
اور جو کوئی
تجاوز کرے گا
حدود سے
اللہ کی
تو یہی لوگ ہیں
وہ
جو ظالم ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اَلطَّلَاقُ
مَرَّتٰنِ۪
فَاِمۡسَاکٌۢ
بِمَعۡرُوۡفٍ
اَوۡتَسۡرِیۡحٌۢ
بِاِحۡسَانٍ
وَلَایَحِلُّ
لَکُمۡ
اَنۡ تَاۡخُذُوۡا
مِمَّاۤ
اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ
شَیۡئًا
اِلَّاۤ
اَنۡ یَّخَافَاۤ
اَلَّا
یُقِیۡمَا
حُدُوۡدَ
اللّٰہِ
فَاِنۡ
خِفۡتُمۡ
اَلَّا
یُقِیۡمَا
حُدُوۡدَ
اللّٰہِ
فَلَا
جُنَاحَ
عَلَیۡہِمَا
فِیۡمَا
افۡتَدَتۡ
بِہٖ
تِلۡکَ
حُدُوۡدُ
اللّٰہِ
فَلَا
تَعۡتَدُوۡہَا
وَمَنۡ
یَّتَعَدَّ
حُدُوۡدَ
اللّٰہِ
فَاُولٰٓئِکَ
ہُمُ
الظّٰلِمُوۡنَ
طلاق
دو با ر ہے
پھر روک لینا ہے
اچھے طریقے سے
یا رخصت کردینا ہے
نیکی کےساتھ
اور نہیں حلال
تمہارے لیے
یہ کہ تم لے لو
اس میں سے جو
تم نے د یا ہےان کو
کچھ بھی
مگر
یہ کہ دونوں کو خوف ہو
یہ کہ نہ
وہ دونو ں قائم رکھ سکیں گے
حدود کو
اللہ تعا لیٰ کی
پھر اگر
خوف ہو تمہیں
یہ کہ نہ
قائم رکھیں گے وہ دونو ں
حدود کو
اللہ تعا لٰی کی
تو نہیں
کوئی گناہ
ان دونوں پر
اس میں جو
فدیے میں دے
اس کو
یہ
حدود ہیں
اللہ تعا لٰی کی
چنانچہ نہ
تم آگے بڑھو ان سے
اور جو
آگے بڑھے گا
حدود سے
اللہ تعا لٰی کی
تو یہی لوگ
وہی ہیں
ظالم
حافظ نذر احمد حفظه الله
اَلطَّلَاقُ
مَرَّتٰنِ
فَاِمْسَاكٌ
بِمَعْرُوْفٍ
اَوْ
تَسْرِيْحٌ
بِاِحْسَانٍ
وَلَا
يَحِلُّ
لَكُمْ
اَنْ
تَاْخُذُوْا
مِمَّآ
اٰتَيْتُمُوْھُنَّ
شَيْئًا
اِلَّآ
اَنْ
يَّخَافَآ
اَلَّا
يُقِيْمَا
حُدُوْدَ اللّٰهِ
فَاِنْ
خِفْتُمْ
اَلَّا يُقِيْمَا
حُدُوْدَ اللّٰهِ
فَلَاجُنَاحَ
عَلَيْھِمَا
فِيْمَا
افْتَدَتْ
بِهٖ
تِلْكَ
حُدُوْدُ اللّٰهِ
فَلَا
تَعْتَدُوْھَا
وَمَنْ
يَّتَعَدَّ
حُدُوْدَ اللّٰهِ
فَاُولٰٓئِكَ
ھُمُ
الظّٰلِمُوْنَ
طلاق
دو بار
پھر روک لینا
دستور کے مطابق
یا
رخصت کرنا
حسنِ سلوک سے
اور نہیں
جائز
تمہارے لیے
کہ
تم لے لو
اس سے جو
تم نے دیا ان کو
کچھ
سوائے
کہ
دونوں اندیشہ کریں
کہ نہ
وہ قائم رکھ سکیں گے
اللہ کی حدود
پھر اگر
تم ڈرو
کہ وہ قائم نہ رکھ سکیں گے
اللہ کی حدود
تو گناہ نہیں
ان دونوں پر
اس میں جو
عورت بدلہ دے
اس کا
یہ
اللہ کی حدود
پس نہ
آگے بڑھو اس سے
اور جو
آگے بڑھتا ہے
اللہ کی حدود
پس وہی لوگ
وہ
ظالم (جمع)
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
طلاق:الطلاق اور تسریح دونوں لفظ عورت کی جدائی یا عام مفہوم میں طلاق کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ الطلاق میں تخلیہ ضروری اور ارسال جزوی شرط ہے جب کے تسریخ میں لازمی جز ارسال ہے اور وہ بھی آسانی وسہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔