اور وہ عورتیں جنھیں طلاق دی گئی ہے اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھیں اور ان کے لیے حلال نہیں کہ وہ چیز چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کی ہے، اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ اور ان کے خاوند اس مدت میں انھیں واپس لینے کے زیادہ حق دار ہیں، اگر وہ (معاملہ) درست کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اور معروف کے مطابق ان (عورتوں) کے لیے اسی طرح حق ہے جیسے ان کے اوپر حق ہے اور مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔[228]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَالۡمُطَلَّقٰتُ
یَتَرَبَّصۡنَ
بِاَنۡفُسِہِنَّ
ثَلٰثَۃَ
قُرُوۡٓءٍ
وَلَا
یَحِلُّ
لَہُنَّ
اَنۡ
یَّکۡتُمۡنَ
مَا
خَلَقَ
اللّٰہُ
فِیۡۤ اَرۡحَامِہِنَّ
اِنۡ
کُنَّ
یُؤۡمِنَّ
بِاللّٰہِ
وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ
وَبُعُوۡلَتُہُنَّ
اَحَقُّ
بِرَدِّہِنَّ
فِیۡ ذٰلِکَ
اِنۡ
اَرَادُوۡۤا
اِصۡلَاحًا
وَلَہُنَّ
مِثۡلُ
الَّذِیۡ
عَلَیۡہِنَّ
بِالۡمَعۡرُوۡفِ
وَلِلرِّجَالِ
عَلَیۡہِنَّ
دَرَجَۃٌ
وَاللّٰہُ
عَزِیۡزٌ
حَکِیۡمٌ
اور جو طلاق یافتہ عورتیں ہیں
وہ انتظار میں رکھیں
اپنے آپ کو
تین
حیض/ طہر
اور نہیں
حلال
ان کے لیے
کہ
وہ چھپائیں
جو
پیدا کیا
اللہ نے
ان کے رحموں میں
اگر
ہیں وہ
وہ ایمان رکھتیں
اللہ پر
اور آخری دن پر
اور شوہر ان کے
زیادہ حق دار ہیں
ان کو لوٹانے کے
اس میں
اگر
وہ ارادہ کریں
اصلاح کا
اور ان کے لیے ہے
مانند
اس کے جو
ان کے ذمہ ہے
ساتھ معروف طریقے کے
اور مردوں کے لیے
ان (عورتوں) پر
ایک درجہ ہے
اور اللہ
بہت زبردست ہے
بہت حکمت والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَالۡمُطَلَّقٰتُ
یَتَرَبَّصۡنَ
بِاَنۡفُسِہِنَّ
ثَلٰثَۃَ
قُرُوۡٓءٍ
وَلَایَحِلُّ
لَہُنَّ
اَنۡ
یَّکۡتُمۡنَ
مَا
خَلَقَ
اللّٰہُ
فِیۡۤ اَرۡحَامِہِنَّ
اِنۡ
کُنَّ
یُؤۡمِنَّ
بِاللّٰہِ
وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ
وَبُعُوۡلَتُہُنَّ
اَحَقُّ
بِرَدِّہِنَّ
فِیۡ ذٰلِکَ
اِنۡ
اَرَادُوۡۤا
اِصۡلَاحًا
وَلَہُنَّ
مِثۡلُ
الَّذِیۡ
عَلَیۡہِنَّ
بِالۡمَعۡرُوۡفِ
وَلِلرِّجَالِ
عَلَیۡہِنَّ
دَرَجَۃٌ
وَاللّٰہُ
عَزِیۡزٌ
حَکِیۡمٌ
اور طلاق یافتہ عو رتیں
انتظار میں ر کھیں
اپنےآپ کو
تین
حیض تک
اور نہیں جائز ہے
ان کے لیے
یہ کہ
وہ چھپائیں
اس چیز کو جسے
پیدا کیا
اللہ تعا لیٰ نے
ان کے رحموں میں
اگر
ہو ں وہ
وہ ایمان رکھتی ہو ں
اللہ تعا لیٰ پر
اورآخرت کے دن پر
اور شوہر ان کے
زیادہ حقدار ہیں
انہیں واپس لینے کے
اس (دوران )میں
اگر
وہ ارادہ ر کھتے ہو ں
اصلاح کر نے کا
اور عورتو ں کے لئے (حقوق ہیں )
ویسے ہی
جو
ان کے اوپر (حق ہے )
معروف کےمطابق
اور مردوں کے لیے
ان پر
ایک درجہ ہے
اور اللہ تعا لٰی
سب پر غالب
کما ل حکمت والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَالْمُطَلَّقٰتُ
يَتَرَبَّصْنَ
بِاَنْفُسِهِنَّ
ثَلٰثَةَ
قُرُوْٓءٍ
وَلَا يَحِلُّ
لَهُنَّ
اَنْ يَّكْتُمْنَ
مَا
خَلَقَ
اللّٰهُ
فِيْٓ
اَرْحَامِهِنَّ
اِنْ
كُنَّ يُؤْمِنَّ
بِاللّٰهِ
وَ
الْيَوْمِ الْاٰخِرِ
ۭوَبُعُوْلَتُهُنَّ
اَحَقُّ
بِرَدِّھِنَّ
فِيْ ذٰلِكَ
اِنْ
اَرَادُوْٓا
اِصْلَاحًا
وَلَهُنَّ
مِثْلُ
الَّذِيْ
عَلَيْهِنَّ
بِالْمَعْرُوْفِ
وَلِلرِّجَالِ
عَلَيْهِنَّ
دَرَجَةٌ
وَاللّٰهُ
عَزِيْزٌ
حَكِيْمٌ
اور طلاق یافتہ عورتیں
انتظار کریں
اپنے تئیں
تین
مدت حیض
اور جائز نہیں
ان کے لیے
وہ چھپائیں
جو
پیدا کیا
اللہ
میں
ان کے رحم (جمع)
اگر
ایمان رکھتی ہیں
اللہ پر
اور
یوم آخرت
اور خاوند ان کے
زیادہ حقدار
واپسی ان کی
اس میں
اگر
وہ چاہیں
بہتری (سلوک)
اور عورتوں کے لیے
جیسے
جو
عورتوں پر (فرض)
دستور کے مطابق
اور مردوں کے لیے
ان پر
ایک درجہ
اور اللہ
غالب
حکمت والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
طلاق:الطلاق اور تسریح دونوں لفظ عورت کی جدائی یا عام مفہوم میں طلاق کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ الطلاق میں تخلیہ ضروری اور ارسال جزوی شرط ہے جب کے تسریخ میں لازمی جز ارسال ہے اور وہ بھی آسانی وسہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔