پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے، پھر اگر وہ اسے طلاق دے دے تو (پہلے) دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں رجوع کر لیں، اگر سمجھیں کہ اللہ کی حدیں قائم رکھیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، وہ انھیں ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہے جو جانتے ہیں۔[230]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
فَاِنۡ
طَلَّقَہَا
فَلَا
تَحِلُّ
لَہٗ
مِنۡۢ بَعۡدُ
حَتّٰی
تَنۡکِحَ
زَوۡجًا
غَیۡرَہٗ
فَاِنۡ
طَلَّقَہَا
فَلَا
جُنَاحَ
عَلَیۡہِمَاۤ
اَنۡ
یَّتَرَاجَعَاۤ
اِنۡ
ظَنَّاۤ
اَنۡ
یُّقِیۡمَا
حُدُوۡدَ
اللّٰہِ
وَتِلۡکَ
حُدُوۡدُ
اللّٰہِ
یُبَیِّنُہَا
لِقَوۡمٍ
یَّعۡلَمُوۡنَ
پھر اگر
وہ طلاق دے دے اسے
تو نہیں
وہ حلال ہوسکتی
اس کے لیے
بعد اس کے
یہاں تک کہ
وہ نکاح کرلے
شوہر سے
اس کے علاوہ
پھر اگر
وہ طلاق دےدے اسے
تو نہیں
کوئی گناہ
ان دونوں پر
یہ کہ
وہ باہم رجوع کرلیں
کہ
وہ دونوں سمجھیں
کہ
وہ دونوں قائم رکھیں گے
حدود کو
اللہ کی
اور یہ
حدود ہیں
اللہ کی
وہواضح کرتا ہے انہیں
ان لوگوں کے لئے
جو علم رکھتے ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
فَاِنۡ
طَلَّقَہَا
فَلَا تَحِلُّ
لَہٗ
مِنۡۢ بَعۡدُ
حَتّٰی
تَنۡکِحَ
زَوۡجًا
غَیۡرَہٗ
فَاِنۡ
طَلَّقَہَا
فَلَا
جُنَاحَ
عَلَیۡہِمَاۤ
اَنۡ
یَّتَرَاجَعَاۤ
اِنۡ
ظَنَّاۤ
اَنۡ
یُّقِیۡمَا
حُدُوۡدَ
اللّٰہِ
وَتِلۡکَ
حُدُوۡدُ
اللّٰہِ
یُبَیِّنُہَا
لِقَوۡمٍ
یَّعۡلَمُوۡنَ
پھر اگر
وہ طلاق دے اس عورت کو
تو نہ وہ حلال ہوگی
اس کے لیے
بعداس کے
یہاں تک کہ
وہ نکاح کرے
شوہر سے
اس کے علاوہ
پھر اگر
وہ طلاق دے اس کو
تو نہیں
کوئی گناہ
ان دونوں پر
کہ
وہ دونوں آپس میں رجوع کرلیں
اگر
وہ دونوں سمجھیں
یہ کہ
وہ دونوں قائم رکھیں گے
حدود کو
اللہ تعا لٰی کی
اور یہ
حدود ہیں
اللہ تعا لٰی کی
وہ بیان کرتا ہے ان کو
لوگوں کے لیے
وہ علم رکھتے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
فَاِنْ
طَلَّقَھَا
فَلَا تَحِلُّ
لَهٗ
مِنْ بَعْدُ
حَتّٰي
تَنْكِحَ
زَوْجًا
غَيْرَهٗ
فَاِنْ
طَلَّقَھَا
فَلَاجُنَاحَ
عَلَيْھِمَآ
اَنْ
يَّتَرَاجَعَآ
اِنْ
ظَنَّآ
اَنْ
يُّقِيْمَا
حُدُوْدَ اللّٰهِ
وَتِلْكَ
حُدُوْدُ اللّٰهِ
يُبَيِّنُھَا
لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ
پھر اگر
طلاق دی اس کو
تو جائز نہیں
اس کے لیے
اس کے بعد
یہانتک کہ
وہ نکاح کرلے
خاوند
اس کے علاوہ
پھر اگر
طلاق دیدے اس کو
تو گناہ نہیں
ان دونوں پر
اگر
وہ رجوع کرلیں
بشرطیکہ
وہ خیال کریں
کہ
وہ قائم رکھیں گے
اللہ کی حدود
اور یہ
اللہ کی حدود
انہیں واضح کرتا ہے
جاننے والوں کے لیے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
طلاق:الطلاق اور تسریح دونوں لفظ عورت کی جدائی یا عام مفہوم میں طلاق کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ الطلاق میں تخلیہ ضروری اور ارسال جزوی شرط ہے جب کے تسریخ میں لازمی جز ارسال ہے اور وہ بھی آسانی وسہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔
طلاق:الطلاق اور تسریح دونوں لفظ عورت کی جدائی یا عام مفہوم میں طلاق کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ الطلاق میں تخلیہ ضروری اور ارسال جزوی شرط ہے جب کے تسریخ میں لازمی جز ارسال ہے اور وہ بھی آسانی وسہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔