جب تیری بہن چلی جاتی تھی، پس کہتی تھی کیا میں تمھیں اس کا پتا دوں جو اس کی پرورش کرے؟ پس ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف لوٹا دیا، تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور وہ غم نہ کرے۔ اور تو نے ایک شخص کو قتل کر دیا تو ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور ہم نے تجھے آزمایا، خوب آزمانا، پھر کئی سال تو مدین والوں میں ٹھہرا رہا، پھر تو ایک مقرر اندازے پر آیا اے موسیٰ![40]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اِذۡ
تَمۡشِیۡۤ
اُخۡتُکَ
فَتَقُوۡلُ
ہَلۡ
اَدُلُّکُمۡ
عَلٰی مَنۡ
یَّکۡفُلُہٗ
فَرَجَعۡنٰکَ
اِلٰۤی اُمِّکَ
کَیۡ تَقَرَّ
عَیۡنُہَا
وَلَا
تَحۡزَنَ
وَقَتَلۡتَ
نَفۡسًا
فَنَجَّیۡنٰکَ
مِنَ الۡغَمِّ
وَفَتَنّٰکَ
فُتُوۡنًا
فَلَبِثۡتَ
سِنِیۡنَ
فِیۡۤ اَہۡلِ مَدۡیَنَ
ثُمَّ
جِئۡتَ
عَلٰی قَدَرٍ
یّٰمُوۡسٰی
جب
چلتی تھی
تیری بہن
پھر وہ کہتی تھی
کیا
میں راہ نمائی کروں تمہاری
اس پر جو
کفالت کرے گا اس کی
تو لوٹا دیا ہم نے تجھ کو
تیری ماں کی طرف
تاکہ ٹھنڈی ہو
آنکھ اس کی
اور نہ
وہ غم کرے
اور تو نے قتل کیا تھا
ایک جان کو
تو نجات دی ہم نے تجھ کو
غم سے
اور آزمایا تھا ہم نے تجھ کو
خوب آزمانا
تو تو ٹھہرا رہا
کئی سال
اہل مدین میں
پھر
آگیا تو
مقرر اندازے پر
اے موسیٰ
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اِذۡ
تَمۡشِیۡۤ
اُخۡتُکَ
فَتَقُوۡلُ
ہَلۡ
اَدُلُّکُمۡ
عَلٰی
مَنۡ
یَّکۡفُلُہٗ
فَرَجَعۡنٰکَ
اِلٰۤی
اُمِّکَ
کَیۡ
تَقَرَّ
عَیۡنُہَا
وَلَا تَحۡزَنَ
وَقَتَلۡتَ
نَفۡسًا
فَنَجَّیۡنٰکَ
مِنَ الۡغَمِّ
وَفَتَنّٰکَ
فُتُوۡنًا
فَلَبِثۡتَ
سِنِیۡنَ
فِیۡۤ اَہۡلِ مَدۡیَنَ
ثُمَّ
جِئۡتَ
عَلٰی قَدَرٍ
یّٰمُوۡسٰی
جب
چل رہی تھی
تمہاری بہن
چنانچہ وہ کہنے لگی
کیا
میں راہنمائی کروں تمہاری
اوپر
جو
اس کی پرورش اچھی طرح کر ے گی
پس لوٹا دیا ہم نے تمہیں
طرف
تمہاری ماں کے
تاکہ
ٹھنڈی رہے
آنکھیں اس کی
اور نہ وہ غم کرے
اور قتل کیا تم نے
ایک شخص کو
پھر نجات دی ہم نے تمہیں
غم سے
اور ہم نے تمہیں آزمایا
خوب آز مانا
پھر رہے تم
کئی سال
اہل ِ مدین میں
پھر
آگئے تم
مقرر اندازے پر
اے موسیٰ
حافظ نذر احمد حفظه الله
اِذْ
تَمْشِيْٓ
اُخْتُكَ
فَتَقُوْلُ
هَلْ اَدُلُّكُمْ
عَلٰي
مَنْ
يَّكْفُلُهٗ
فَرَجَعْنٰكَ
اِلٰٓى
اُمِّكَ
كَيْ تَقَرَّ
عَيْنُهَا
وَلَا تَحْزَنَ
وَقَتَلْتَ
نَفْسًا
فَنَجَّيْنٰكَ
مِنَ الْغَمِّ
وَفَتَنّٰكَ
فُتُوْنًا
فَلَبِثْتَ
سِنِيْنَ
فِيْٓ
اَهْلِ مَدْيَنَ
ثُمَّ
جِئْتَ
عَلٰي قَدَرٍ
يّٰمُوْسٰى
جب
جارہی تھی
تیری بہن
تو وہ کہہ رہی تھی
کیا میں تمہیں بتاؤں
پر
جو
اس کی پرورش کرے
پس ہم نے تجھے لوٹا دیا
طرف
تیری ماں
تاکہ ٹھندی ہو
اس کی آنکھ
اور وہ غم نہ کرے
اور تونے قتل کردیا
ایک شخص
تو ہم نے تجھے نجات دی
غم سے
اور تجھے آزمایا
کئی آزمائشیں
پھر تو ٹھہرا رہا
کئی سال
میں
مدین والے
پھر
تو آیا
وقت مقرر پر
اے موسیٰ
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
فَتَنَ:بذات خود سخت مگر دل کشی سے ہوتی ہے۔ یعنی بالعموم ایسی چیزوں سے ہوتی ہے جن سے انسان کا دلی لگاؤ ہو۔ دوسرے تو کیا بسا اوقات خود مفتون کو بھی اس آزمائش کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔
فَتَنَ:بذات خود سخت مگر دل کشی سے ہوتی ہے۔ یعنی بالعموم ایسی چیزوں سے ہوتی ہے جن سے انسان کا دلی لگاؤ ہو۔ دوسرے تو کیا بسا اوقات خود مفتون کو بھی اس آزمائش کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔