کہا پس جا کہ بے شک تیرے لیے زندگی بھر یہ ہے کہ کہتا رہے ’’ایک دوسرے کو چھونا نہیں‘‘ اور بے شک تیرے لیے ایک اور بھی وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی تجھ سے ہرگز نہ کی جائے گی اور اپنے معبود کو دیکھ جس پر تومجاور بنا رہا، یقینا ہم اسے ضرور اچھی طرح جلائیں گے، پھر یقینا اسے ضرور سمندر میں اڑا دیں گے، اڑانا اچھی طرح۔[97]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
قَالَ
فَاذۡہَبۡ
فَاِنَّ
لَکَ
فِی الۡحَیٰوۃِ
اَنۡ
تَقُوۡلَ
لَامِسَاسَ
وَاِنَّ
لَکَ
مَوۡعِدًا
لَّنۡ
تُخۡلَفَہٗ
وَانۡظُرۡ
اِلٰۤی اِلٰـہِکَ
الَّذِیۡ
ظَلۡتَ
عَلَیۡہِ
عَاکِفًا
لَنُحَرِّقَنَّہٗ
ثُمَّ
لَنَنۡسِفَنَّہٗ
فِی الۡیَمِّ
نَسۡفًا
کہا
پس جاؤ
تو بیشک
تیرے لیے ہے
زندگی میں
یہ کہ
تو کہتا رہے
نہ چھونا
اور بیشک
تیرے لیے
وعدہ کا ایک وقت مقرر ہے
ہر گز نہ
تو پیچھے چھوڑا جائے گا اس سے
اور دیکھ
طرف اپنے الہ کے
وہ جو
رہا تو
اس پر
جم کر بیٹھنے والا
البتہ ہم ضرور جلا ڈالیں گے اس کو
پھر
البتہ ہم ضرور بکھیر دیں گے اسے
دریا میں
بکھیر دینا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
قَالَ
فَاذۡہَبۡ
فَاِنَّ
لَکَ
فِی الۡحَیٰوۃِ
اَنۡ
تَقُوۡلَ
لَامِسَاسَ
وَاِنَّ
لَکَ
مَوۡعِدًا
لَّنۡ
تُخۡلَفَہٗ
وَانۡظُرۡ
اِلٰۤی
اِلٰـہِکَ
الَّذِیۡ
ظَلۡتَ
عَلَیۡہِ
عَاکِفًا
لَنُحَرِّقَنَّہٗ
ثُمَّ
لَنَنۡسِفَنَّہٗ
فِی الۡیَمِّ
نَسۡفًا
اُس نے کہا
پھر جاؤ
تو یقیناً
تیرے لیے
دنیا کی زندگی میں
یہ کہ
تو کہتا رہے
نہ چھونا مجھے
اور یقیناً
تیرے لیے
ایک وعدہ ہے
ہرگز نہیں
تجھ سے ٹالا جائے گا اسے
اور دیکھو
طرف
اپنے معبود کی
وہ جو
بیٹھا تھا تو
اس پر
مجاور بن کر
ہم ضرور جلا دیں گے اسے
پھر
ہم ضرور اڑا دیں گے اس کو
سمندر میں
اچھی طرح اڑانا
حافظ نذر احمد حفظه الله
قَالَ
فَاذْهَبْ
فَاِنَّ لَكَ
فِي الْحَيٰوةِ
اَنْ
تَقُوْلَ
لَا
مِسَاسَ
وَاِنَّ
لَكَ
مَوْعِدًا
لَّنْ تُخْلَفَهٗ
وَانْظُرْ
اِلٰٓى
اِلٰهِكَ
الَّذِيْ
ظَلْتَ
عَلَيْهِ
عَاكِفًا
لَنُحَرِّقَنَّهٗ
ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ
فِي الْيَمِّ
نَسْفًا
اس نے کہا
پس تو جا
بیشک تیرے لیے
زندگی میں
کہ
تو کہے
نہ
چھونا (ہاتھ لگانا)
اور بیشک
تیرے لیے
ایک وقت مقرر
رہ گز تجھ سے خلاف نہ ہوگا
اور دیکھ
طرف
اپنے معبود
وہ جس
تو رہتا تھا
اس پر
جما ہوا
ہم اسے البتہ جلائیں گے
پھر البتہ اسے بکھیر دیں گے
دریا میں
اڑا کر
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]