پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھر ے نہیں کہ ان کے لیے ایسے دل ہوں جن کے ساتھ وہ سمجھیں، یا کان ہوں جن کے ساتھ وہ سنیں۔ پس بے شک قصہ یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں اور لیکن وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔[46]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اَفَلَمۡ
یَسِیۡرُوۡا
فِی الۡاَرۡضِ
فَتَکُوۡنَ
لَہُمۡ
قُلُوۡبٌ
یَّعۡقِلُوۡنَ
بِہَاۤ
اَوۡ
اٰذَانٌ
یَّسۡمَعُوۡنَ
بِہَا
فَاِنَّہَا
لَاتَعۡمَی
الۡاَبۡصَارُ
وَلٰکِنۡ
تَعۡمَی
الۡقُلُوۡبُ
الَّتِیۡ
فِی الصُّدُوۡرِ
کیا بھلا نہیں
وہ چلے پھرے
زمین میں
تو ہوتے
ان کے لیے
دل
وہ عقل سے کام لیتے
ساتھ ان کے
یا
کان
وہ سنتے
ساتھ ان کے
تو بےشک بات یہ ہے کہ
نہیں اندھی ہوتیں
آنکھیں
اور لیکن
اندھے ہو جاتے ہیں
دل
وہ جو
سینوں میں ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اَفَلَمۡ
یَسِیۡرُوۡا
فِی الۡاَرۡضِ
فَتَکُوۡنَ
لَہُمۡ
قُلُوۡبٌ
یَّعۡقِلُوۡنَ
بِہَاۤ
اَوۡ
اٰذَانٌ
یَّسۡمَعُوۡنَ
بِہَا
فَاِنَّہَا
لَاتَعۡمَی
الۡاَبۡصَارُ
وَلٰکِنۡ
تَعۡمَی
الۡقُلُوۡبُ
الَّتِیۡ
فِی الصُّدُوۡرِ
تو کیا نہیں
چلے پھرے وہ
زمین میں
کہ ہوں
اُن کے لیے
دل
وہ سمجھتے ہو ں
ساتھ ان کے
یا
کان ہوں
وہ سنتے ہوں
جن سے
پس یقینًا
نہیں اندھی ہوتیں
آنکھیں
لیکن
اندھے ہو جاتے ہیں
وہ دل
جو
سینوں میں ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا
فِي الْاَرْضِ
فَتَكُوْنَ
لَهُمْ
قُلُوْبٌ
يَّعْقِلُوْنَ
بِهَآ
اَوْ
اٰذَانٌ
يَّسْمَعُوْنَ
بِهَا
فَاِنَّهَا
لَا تَعْمَى
الْاَبْصَارُ
وَلٰكِنْ
تَعْمَى
الْقُلُوْبُ
الَّتِيْ
فِي الصُّدُوْرِ
پس کیا وہ چلتے پھرتے نہیں
زمین میں
جو ہوجاتے
ان کے
دل
وہ سمجھنے لگتے
ان سے
یا
کان (جمع)
سننے لگتے
ان سے
کیونکہ درحقیقت
اندھی نہیں ہوتیں
آنکھیں
اور لیکن (بلکہ)
اندھے ہوجاتے ہیں
دل (جمع)
وہ جو
سینوں میں
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]