جب تم اسے ایک دوسرے سے اپنی زبانوں کے ساتھ لے رہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمھیں کچھ علم نہیں اور تم اسے معمولی سمجھتے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی تھی۔[15]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اِذۡ
تَلَقَّوۡنَہٗ
بِاَلۡسِنَتِکُمۡ
وَتَقُوۡلُوۡنَ
بِاَفۡوَاہِکُمۡ
مَّا
لَیۡسَ
لَکُمۡ
بِہٖ
عِلۡمٌ
وَّتَحۡسَبُوۡنَہٗ
ہَیِّنًا
وَّہُوَ
عِنۡدَ
اللّٰہِ
عَظِیۡمٌ
جب
تم لے رہے تھے اسے
اپنی زبانوں سے
اور تم کہہ رہے تھے
اپنے مونہوں سے
وہ جو
نہیں(تھا)
تمہیں
جس کا
کوئی علم
اور تم سمجھ رہے تھے اسے
معمولی
حالانکہ وہ
نزدیک
اللہ کے
بہت بڑا تھا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اِذۡ
تَلَقَّوۡنَہٗ
بِاَلۡسِنَتِکُمۡ
وَتَقُوۡلُوۡنَ
بِاَفۡوَاہِکُمۡ
مَّا
لَیۡسَ
لَکُمۡ
بِہٖ
عِلۡمٌ
وَّتَحۡسَبُوۡنَہٗ
ہَیِّنًا
وَّہُوَ
عِنۡدَ اللّٰہِ
عَظِیۡمٌ
جب
تم ایک دوسرے سے لے رہے تھے اس کو
اپنی زبانوں کے ساتھ
اور تم کہہ رہے تھے
اپنے مونہوں سے
جس کا
نہیں
تمہیں
اس کا
کچھ علم
اور تم سمجھ رہے تھے ایسے
معمولی
حا لانکہ وہ
اللہ تعالیٰ کے نزدیک
بہت بڑی( بات ) تھی
حافظ نذر احمد حفظه الله
اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ
بِاَلْسِنَتِكُمْ
وَتَقُوْلُوْنَ
بِاَفْوَاهِكُمْ
مَّا لَيْسَ
لَكُمْ
بِهٖ
عِلْمٌ
وَّتَحْسَبُوْنَهٗ
هَيِّنًا
وَّهُوَ
عِنْدَ اللّٰهِ
عَظِيْمٌ
جب تم لاتے تھے اسے
اپنی زبانوں پر
اور تم کہتے تھے
اپنے منہ سے
جو نہیں
تمہیں
اس کا
کوئی علم
اور تم اسے گمان کرتے تھے
ہلکی بات
حالانکہ وہ
اللہ کے نزدیک
بہت بڑی (بات)
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]