وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں، کھڑے نہیں ہوں گے مگر جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر خبطی بنا دیا ہو۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے کہا بیع تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا، پھر جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے کوئی نصیحت آئے پس وہ باز آجائے تو جو پہلے ہو چکا وہ اسی کا ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور جو دوبارہ ایسا کرے تو وہی آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔[275]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اَلَّذِیۡنَ
یَاۡکُلُوۡنَ
الرِّبٰوا
لَایَقُوۡمُوۡنَ
اِلَّا
کَمَا
یَقُوۡمُ
الَّذِیۡ
یَتَخَبَّطُہُ
الشَّیۡطٰنُ
مِنَ الۡمَسِّ
ذٰلِکَ
بِاَنَّہُمۡ
قَالُوۡۤا
اِنَّمَا
الۡبَیۡعُ
مِثۡلُ
الرِّبٰوا
وَاَحَلَّ
اللّٰہُ
الۡبَیۡعَ
وَحَرَّمَ
الرِّبٰوا
فَمَنۡ
جَآءَہٗ
مَوۡعِظَۃٌ
مِّنۡ رَّبِّہٖ
فَانۡتَہٰی
فَلَہٗ
مَا
سَلَفَ
وَاَمۡرُہٗۤ
اِلَی اللّٰہِ
وَمَنۡ
عَادَ
فَاُولٰٓئِکَ
اَصۡحٰبُ
النَّارِ
ہُمۡ
فِیۡہَا
خٰلِدُوۡنَ
وہ جو
کھاتے ہیں
سود
نہیں وہ کھڑے ہوں گے
مگر
جیا کہ
کھڑا ہوتا ہے
وہ جو
خبطی بنا دیا ہو اسے
شیطان نے
چھو کر
یہ
بوجہ اس کے کہ وہ
وہ کہتے ہیں
بےشک
تجارت
مانند ہے
سود کے
حالانکہ حلال کیا
اللہ نے
تجارت کو
اور اس نے حرام کیا
سود کو
تو جو کوئی
آجائے اس کے پاس
کوئی نصیحت
اس کے رب کی طرف سے
پھر وہ باز آجائے
تو اس کے لیے ہے
جو
پہلے ہو چکا
اور معاملہ اس کا ہے
طرف اللہ کے
اور جو کوئی
لوٹ آئے
تو یہی لوگ ہیں
ساتھی
آگ کے
وہ
اس میں
ہمیشہ رہنے والے ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اَلَّذِیۡنَ
یَاۡکُلُوۡنَ
الرِّبٰوا
لَا
یَقُوۡمُوۡنَ
اِلَّا
کَمَا
یَقُوۡمُ
الَّذِیۡ
یَتَخَبَّطُہُ
الشَّیۡطٰنُ
مِنَ الۡمَسِّ
ذٰلِکَ
بِاَنَّہُمۡ
قَالُوۡۤا
اِنَّمَا
الۡبَیۡعُ
مِثۡلُ
الرِّبٰوا
وَاَحَلَّ
اللّٰہُ
الۡبَیۡعَ
وَحَرَّمَ
الرِّبٰوا
فَمَنۡ
جَآءَہٗ
مَوۡعِظَۃٌ
مِّنۡ رَّبِّہٖ
فَانۡتَہٰی
فَلَہٗ
مَا
سَلَفَ
وَاَمۡرُہٗۤ
اِلَی اللّٰہِ
وَمَنۡ
عَادَ
فَاُولٰٓئِکَ
اَصۡحٰبُ النَّارِ
ہُمۡ
فِیۡہَا
خٰلِدُوۡنَ
جو لوگ
کھاتے ہیں
سود
نہیں
وہ کھڑے ہوں گے
مگر
جیسے
کھڑا ہوتا ہے
جسے
دیوانا بنا دیا ہواُس کو
شیطان نے
چُھو کر
یہ
اس وجہ سے ہے کہ
انہوں نے کہا
یقیناً
تجارت
مانند ہے
سود کے
حالانکہ حلال کیا
اللہ تعالیٰ نے
تجارت کو
اورحرام کیا اس نے
سود کو
چنانچہ جو کوئی
آئے جس کے پاس
کوئی نصیحت
اس کے رب کی طرف سے
سو وہ باز آجائے
تو اس کے لیے ہے
جو
پہلےگزرچکا
اور معاملہ اس کا
اللہ تعالیٰ کی طرف
اور جو کوئی
دوبارہ کرے
تو وہی لوگ
آگ والے ہیں
وہ سب
اس میں
ہمیشہ رہنے والے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
اَلَّذِيْنَ
يَاْكُلُوْنَ
الرِّبٰوا
لَا يَقُوْمُوْنَ
اِلَّا
كَمَا
يَقُوْمُ
الَّذِيْ
يَتَخَبَّطُهُ
الشَّيْطٰنُ
مِنَ الْمَسِّ
ذٰلِكَ
بِاَنَّھُمْ
قَالُوْٓا
اِنَّمَا
الْبَيْعُ
مِثْلُ
الرِّبٰوا
وَاَحَلَّ
اللّٰهُ
الْبَيْعَ
وَحَرَّمَ
الرِّبٰوا
فَمَنْ
جَآءَهٗ
مَوْعِظَةٌ
مِّنْ
رَّبِّهٖ
فَانْتَهٰى
فَلَهٗ
مَا سَلَفَ
وَاَمْرُهٗٓ
اِلَى
اللّٰهِ
وَمَنْ
عَادَ
فَاُولٰٓئِكَ
اَصْحٰبُ النَّارِ
ھُمْ
فِيْهَا
خٰلِدُوْنَ
جو لوگ
کھاتے ہیں
سود
نہ کھڑے ہوں گے
مگر
جیسے
کھڑا ہوتا ہے
وہ شخص جو
اس کے حواس کھو دئیے ہوں
شیطان
چھونے سے
یہ
اس لیے کہ وہ
انہوں نے کہا
در حقیقت
تجارت
مانند
سود
حالانکہ حلال کیا
اللہ
تجارت
اور حرام کیا
سود
پس جس
پہنچے اس کو
نصیحت
سے
اس کا رب
پھر وہ باز آگیا
تو اس کے لیے
جو ہوچکا
اور اس کا معاملہ
طرف
اللہ
اور جو
پھر لوٹے
تو وہی
دوزخ والے
وہ
اس میں
ہمیشہ رہیں گے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]