حالانکہ بلاشبہ یقینا ہم نے ان لوگوں کی آزمائش کی جو ان سے پہلے تھے، سو اللہ ہر صورت ان لوگوں کو جان لے گا جنھوں نے سچ کہا اور ان لوگوں کو بھی ہر صورت جان لے گا جو جھوٹے ہیں۔[3]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَلَقَدۡ
فَتَنَّا
الَّذِیۡنَ
مِنۡ قَبۡلِہِمۡ
فَلَیَعۡلَمَنَّ
اللّٰہُ
الَّذِیۡنَ
صَدَقُوۡا
وَلَیَعۡلَمَنَّ
الۡکٰذِبِیۡنَ
اور البتہ تحقیق
آزمایا ہم نے
ان کو جو
ان سے پہلے تھے
پس البتہ ضرور جان لے گا
اللہ
ان لوگوں کو جنہوں نے
سچ کہا
اور البتہ وہ ضرور جان لے گا
جھوٹوں کو
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَلَقَدۡ
فَتَنَّا
الَّذِیۡنَ
مِنۡ قَبۡلِہِمۡ
فَلَیَعۡلَمَنَّ
اللّٰہُ
الَّذِیۡنَ
صَدَقُوۡا
وَلَیَعۡلَمَنَّ
الۡکٰذِبِیۡنَ
اور بلا شبہ یقیناً
آزمایا ہم نے
ان لوگوں کو جو
ان سے پہلےتھے
چنانچہ ضرور جان لے گا
اللہ تعالیٰ
ان لوگوں کو
جنہوں نے سچ کہا
اور یقیناً وہ ضرور جان لے گا
جھوٹوں کو بھی
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَ
لَقَدْ فَتَنَّا
الَّذِيْنَ
مِنْ قَبْلِهِمْ
فَلَيَعْلَمَنَّ
اللّٰهُ
الَّذِيْنَ
صَدَقُوْا
وَ
لَيَعْلَمَنَّ
الْكٰذِبِيْنَ
اور
البتہ ہم نے آزمایا
وہ لوگ جو
ان سے پہلے
تو ضرور معلوم کرلے گا
اللہ
وہ لوگ جو
سچے ہیں
اور
وہ ضرور معلوم کرلے گا
جھوٹے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
فَتَنَ:بذات خود سخت مگر دل کشی سے ہوتی ہے۔ یعنی بالعموم ایسی چیزوں سے ہوتی ہے جن سے انسان کا دلی لگاؤ ہو۔ دوسرے تو کیا بسا اوقات خود مفتون کو بھی اس آزمائش کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔