نبی پر اس کام میں کبھی کوئی تنگی نہیں جو اللہ نے اس کے لیے فرض کر دیا۔ یہی اللہ کا طریقہ ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزرے اور اللہ کا حکم ہمیشہ سے اندازے کے مطابق ہے، جو طے کیا ہوا ہے۔[38]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
مَا
کَانَ
عَلَی النَّبِیِّ
مِنۡ حَرَجٍ
فِیۡمَا
فَرَضَ
اللّٰہُ
لَہٗ
سُنَّۃَ
اللّٰہِ
فِی
خَلَوۡا
مِنۡ قَبۡلُ
وَ کَانَ
اَمۡرُ
اللّٰہِ
قَدَرًا
مَّقۡدُوۡرَۨا
نہیں
ہے
نبی پر
کوئی تنگی
اس میں جو
مقرر کیا
اللہ نے
اس کے لیے
طریقہ ہے
اللہ کا
ان لوگوں میں جو
گزر چکے
اس سے پہلے
اور ہے
حکم
اللہ کا
ایک اندازہ
مقرر کیا ہوا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
مَا
کَانَ
عَلَی
النَّبِیِّ
مِنۡ حَرَجٍ
فِیۡمَا
فَرَضَ
اللّٰہُ
لَہٗ
سُنَّۃَ
اللّٰہِ
فِی الَّذِيْنَ
خَلَوۡا
مِنۡ قَبۡلُ
وَ کَانَ
اَمۡرُ
اللّٰہِ
قَدَرًا
مَّقۡدُوۡرَۨا
نہیں
ہے
اوپر
نبی کے
کوئی تنگی
اس میں جو
فرض کیا
اللّٰہ تعالیٰ نے
اس کے لئے
سنت ہے
اللّٰہ تعالیٰ کی
ان لوگوں کے بارے میں جو
گزر چکے
اس سے پہلے
اور (ہمیشہ سے) ہے
حکم
اللّٰہ تعالیٰ کا
اندازے کے مطابق
طے کیا ہوا
حافظ نذر احمد حفظه الله
مَا كَانَ
عَلَي النَّبِيِّ
مِنْ حَرَجٍ
فِيْمَا
فَرَضَ اللّٰهُ
لَهٗ ۭ
سُنَّةَ اللّٰهِ
فِي
الَّذِيْنَ
خَلَوْا
مِنْ قَبْلُ ۭ
وَكَانَ
اَمْرُ اللّٰهِ
قَدَرًا
مَّقْدُوْرَۨا
نہیں ہے
نبی پر
کوئی حرج
اس میں جو
مقرر کیا اللہ نے
اس کے لیے
اللہ کا دستور
میں
وہ جو
گزرے
پہلے
اور ہے
اللہ کا حکم
مقرر کیا ہوا
اندازہ سے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔