اور جب تو اس شخص سے جس پر اللہ نے انعام کیا اور جس پر تو نے انعام کیا کہہ رہا تھا کہ اپنی بیوی اپنے پاس روکے رکھ اور اللہ سے ڈر اور تو اپنے دل میں وہ بات چھپاتا تھاجسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے ڈرتا تھا، حالانکہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تو اس سے ڈرے، پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کر لی تو ہم نے تجھ سے اس کا نکاح کر دیا، تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ ہو، جب وہ ان سے حاجت پوری کر چکیں اور اللہ کا حکم پورا کیا جانے والا تھا۔[37]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاِذۡ
تَقُوۡلُ
لِلَّذِیۡۤ
اَنۡعَمَ
اللّٰہُ
عَلَیۡہِ
وَاَنۡعَمۡتَ
عَلَیۡہِ
اَمۡسِکۡ
عَلَیۡکَ
زَوۡجَکَ
وَاتَّقِ
اللّٰہَ
وَتُخۡفِیۡ
فِیۡ نَفۡسِکَ
مَا
اللّٰہُ
مُبۡدِیۡہِ
وَتَخۡشَی
النَّاسَ
وَاللّٰہُ
اَحَقُّ
اَنۡ
تَخۡشٰہُ
فَلَمَّا
قَضٰی
زَیۡدٌ
مِّنۡہَا
وَطَرًا
زَوَّجۡنٰکَہَا
لِکَیۡ لَا
یَکُوۡنَ
عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ
حَرَجٌ
فِیۡۤ اَزۡوَاجِ
اَدۡعِیَآئِہِمۡ
اِذَا
قَضَوۡا
مِنۡہُنَّ
وَطَرًا
وَکَانَ
اَمۡرُ
اللّٰہِ
مَفۡعُوۡلًا
اور جب
آپ کہہ رہے تھے
اس شخص سے
انعام کیا
اللہ نے
جس پر
اور انعام کیا آپ نے
جس پر
روک رکھ
اپنے پاس
اپنی بیوی کو
اور ڈر
اللہ سے
اور آپ چھپاتے تھے
اپنے دل میں
وہ جو
اللہ
ظاہر کرنے والا تھا اسے
اور آپ ڈر رہے تھے
لوگوں سے
حالانکہ اللہ
زیادہ حق دار ہے
کہ
آپ ڈریں اس سے
پھر جب
پوری کر چکا
زید
اس سے
حاجت
نکاح کر دیا ہم نے آپ کا اس سے
تاکہ نہ
ہو
مومنوں پر
کوئی تنگی
بیویوں کے معاملے میں
اپنے منہ بولے بیٹوں کی
جب
وہ پورا کر چکیں
ان سے
حاجت
اور ہے
حکم
اللہ کا
ہو کررہنے والا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاِذۡ
تَقُوۡلُ
لِلَّذِیۡۤ
اَنۡعَمَ
اللّٰہُ
عَلَیۡہِ
وَاَنۡعَمۡتَ
عَلَیۡہِ
اَمۡسِکۡ
عَلَیۡکَ
زَوۡجَکَ
وَاتَّقِ
اللّٰہَ
وَتُخۡفِیۡ
فِیۡ نَفۡسِکَ
مَا
اللّٰہُ
مُبۡدِیۡہِ
وَتَخۡشَی
النَّاسَ
وَاللّٰہُ
اَحَقُّ
اَنۡ
تَخۡشٰہُ
فَلَمَّا
قَضٰی
زَیۡدٌ
مِّنۡہَا
وَطَرًا
زَوَّجۡنٰکَہَا
لِکَیۡ لَا
یَکُوۡنَ
عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ
حَرَجٌ
فِیۡۤ اَزۡوَاجِ
اَدۡعِیَآئِہِمۡ
اِذَا
قَضَوۡا
مِنۡہُنَّ
وَطَرًا
وَکَانَ
اَمۡرُ
اللّٰہِ
مَفۡعُوۡلًا
اور جب
آپ کہہ رہے تھے
اس شخص سے
انعام کیا تھا
اللّٰہ تعالیٰ نے
جس پر
اور احسان کیا آپ نے
اس پر
روکے رکھو
اوپر اپنے
اپنی بیوی کو
اور ڈر جاؤ
اللّٰہ تعالیٰ سے
اور آپ چھپائے ہوئےتھے
اپنے دل میں
جس کو
اللّٰہ تعالیٰ
ظاہر کرنے والا تھا اس کو
اور آپ ڈرتے تھے
لوگوں سے
حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ
زیادہ حق دار ہے
یہ کہ
آپ ڈرو اس سے
چنانچہ جب
پوری کر چکا
زید
اس سے
اپنی غرض
ہم نے نکاح کر دیا اس کا آپ سے
تاکہ
نہ ہو
مومنوں پر
کوئی تنگی
بیویوں کے بارے میں
ان کے منہ بولے بیٹوں کی
جب
وہ پوری کر چکیں
ان سے
غرض
اور (ہمیشہ سے) ہے
حکم
اللّٰہ تعالیٰ کا
پورا کیا ہوا
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاِذْ
تَقُوْلُ
لِلَّذِيْٓ
اَنْعَمَ اللّٰهُ
عَلَيْهِ
وَاَنْعَمْتَ
عَلَيْهِ
اَمْسِكْ
عَلَيْكَ
زَوْجَكَ
وَاتَّقِ اللّٰهَ
وَتُخْفِيْ
فِيْ نَفْسِكَ
مَا اللّٰهُ
مُبْدِيْهِ
وَتَخْشَى
النَّاسَ ۚ
وَاللّٰهُ
اَحَقُّ
اَنْ
تَخْشٰىهُ ۭ
فَلَمَّا
قَضٰى
زَيْدٌ
مِّنْهَا
وَطَرًا
زَوَّجْنٰكَهَا
لِكَيْ
لَا يَكُوْنَ
عَلَي
الْمُؤْمِنِيْنَ
حَرَجٌ
فِيْٓ اَزْوَاجِ
اَدْعِيَآئِهِمْ
اِذَا
قَضَوْا
مِنْهُنَّ
وَطَرًا ۭ
وَكَانَ
اَمْرُ اللّٰهِ
مَفْعُوْلًا
اور (یاد کرو) جب
آپ فرماتے تھے
اس شخص کو
اللہ نے انعام کیا
اس پر
اور آپ نے انعام کیا
اس پر
روکے رکھ
اپنے پاس
اپنی بیوی
اور ڈر اللہ سے
اور آپ چھپاتے تھے
اپنے دل میں
جو اللہ
اس کو ظاہر کرنے والا
اور آپ ڈرتے تھے
لوگ
اور اللہ
زیادہ حقدار
کہ
تم اس سے ڈرو
پھر جب
پوری کرلی
زید
اس سے
اپنی حاجت
ہم نے اسے تمہارے نکاح میں دیدیا
تاکہ
نہ رہے
پر
مومنوں
کوئی تنگی
بیویوں میں
اپنے لے پالک
جب وہ
پوری کرچکیں
ان سے
اپنی حاجت
اور ہے
اللہ کا حکم
ہوکر رہنے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]