اور کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، حالانکہ وہ قوت میں ان سے زیادہ سخت تھے اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں کوئی چیز اسے بے بس کر دے، بے شک وہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔[44]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اَوَلَمۡ
یَسِیۡرُوۡا
فِی الۡاَرۡضِ
فَیَنۡظُرُوۡا
کَیۡفَ
کَانَ
عَاقِبَۃُ
الَّذِیۡنَ
مِنۡ قَبۡلِہِمۡ
وَکَانُوۡۤا
اَشَدَّ
مِنۡہُمۡ
قُوَّۃً
وَمَا
کَانَ
اللّٰہُ
لِیُعۡجِزَہٗ
مِنۡ شَیۡءٍ
فِی السَّمٰوٰتِ
وَلَا
فِی الۡاَرۡضِ
اِنَّہٗ
کَانَ
عَلِیۡمًا
قَدِیۡرًا
کیا بھلا نہیں
وہ چلتے پھرتے
زمین میں
پھر وہ دیکھتے
کس طرح
ہوا
انجام
ان کا جو
ان سے پہلے تھے
اور تھے وہ
زیادہ سخت
ان سے
قوت میں
اور نہیں
ہے
اللہ
کہ عاجز کر سکے اسے
کوئی چیز
آسمانوں میں
اور نہ
زمین میں
بےشک وہ
ہے
خوب جاننے والا
بہت قدرت والا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اَوَلَمۡ
یَسِیۡرُوۡا
فِی الۡاَرۡضِ
فَیَنۡظُرُوۡا
کَیۡفَ
کَانَ
عَاقِبَۃُ
الَّذِیۡنَ
مِنۡ قَبۡلِہِمۡ
وَکَانُوۡۤا
اَشَدَّ
مِنۡہُمۡ
قُوَّۃً
وَمَا کَانَ
اللّٰہُ
لِیُعۡجِزَہٗ
مِنۡ شَیۡءٍ
فِی السَّمٰوٰتِ
وَلَا فِی الۡاَرۡضِ
اِنَّہٗ
کَانَ
عَلِیۡمًا
قَدِیۡرًا
اور کیا نہیں
وہ چلے پھرے
زمین میں
پھر وہ دیکھیں
کیسا
ہوا
انجام
ان لوگوں کا جو
ان سے پہلے
حالانکہ تھے وہ
زیادہ سخت
ان سے
قوت میں
اور کبھی نہیں ہے
اللہ تعالیٰ
کہ عاجز کردے اسے
کوئی چیز
آسمانوں میں
اور نہ ہی زمین میں
یقیناًوہ
۔ (ہمیشہ سے) ہے
سب کچھ جاننے والا
پوری قدرت رکھنے والا
حافظ نذر احمد حفظه الله
اَوَ
لَمْ يَسِيْرُوْا
فِي الْاَرْضِ
فَيَنْظُرُوْا
كَيْفَ
كَانَ
عَاقِبَةُ
الَّذِيْنَ
مِنْ قَبْلِهِمْ
وَكَانُوْٓا
اَشَدَّ
مِنْهُمْ
قُوَّةً ۭ
وَمَا
كَانَ
اللّٰهُ
لِيُعْجِزَهٗ
مِنْ شَيْءٍ
فِي السَّمٰوٰتِ
وَلَا
فِي الْاَرْضِ ۭ
اِنَّهٗ
كَانَ
عَلِيْمًا
قَدِيْرًا
کیا
وہ چلے پھرے نہیں
زمین (دنیا) میں
سو وہ دیکھتے
کیسا
ہوا
عاقبت (انجام)
ان لوگوں کا جو
ان سے پہلے
اور وہ تھے
بہت زیادہ
ان سے
قوت میں
اور نہیں
ہے
اللہ
کہ اسے عاجز کردے
کوئی شے
آسمانوں میں
اور نہ
زمین میں
بیشک وہ
ہے
علم والا
بڑی قدرت والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔