ہر جان موت کو چکھنے والی ہے اور تمھیں تمھارے اجر قیامت کے دن ہی پورے دیے جائیں گے، پھر جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔[185]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
کُلُّ
نَفۡسٍ
ذَآئِقَۃُ
الۡمَوۡتِ
وَاِنَّمَا
تُوَفَّوۡنَ
اُجُوۡرَکُمۡ
یَوۡمَ
الۡقِیٰمَۃِ
فَمَنۡ
زُحۡزِحَ
عَنِ النَّارِ
وَاُدۡخِلَ
الۡجَنَّۃَ
فَقَدۡ
فَازَ
وَمَا
الۡحَیٰوۃُ
الدُّنۡیَاۤ
اِلَّا
مَتَاعُ
الۡغُرُوۡرِ
ہر
نفس
چکھنے والا ہے
موت کو
اور بیشک
تم پورے پورے دیے جاؤ گے
اجر اپنے
دن
قیامت کے
تو جو کوئی
دور کیا گیا
آگ سے
اور وہ داخل کردیا گیا
جنت میں
تو تحقیق
وہ کامیاب ہوا
اور نہیں
زندگی
دنیا کی
مگر
سامان
دھوکے کا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
کُلُّ
نَفۡسٍ
ذَآئِقَۃُ
الۡمَوۡتِ
وَاِنَّمَا
تُوَفَّوۡنَ
اُجُوۡرَکُمۡ
یَوۡمَ
الۡقِیٰمَۃِ
فَمَنۡ
زُحۡزِحَ
عَنِ النَّارِ
وَاُدۡخِلَ
الۡجَنَّۃَ
فَقَدۡ
فَازَ
وَمَا
الۡحَیٰوۃُ
الدُّنۡیَاۤ
اِلَّا
مَتَاعُ
الۡغُرُوۡرِ
ہر
جاندار
چکھنے والا ہے
موت کو
اور یقیناً
تم پورے دیئے جاؤ گے
اجر اپنے
دن
قیامت کے
چنانچہ جو کوئی
بچا لیا گیا
آگ سے
اور داخل کر دیا گیا
جنت میں
تو یقیناً
وہ کامیاب ہو گیا
اور نہیں ہے
زندگی
دنیا کی
سوائے
سامان کے
دھوکے کا
حافظ نذر احمد حفظه الله
كُلُّ
نَفْسٍ
ذَآئِقَةُ
الْمَوْتِ
وَاِنَّمَا
تُوَفَّوْنَ
اُجُوْرَكُمْ
يَوْمَ الْقِيٰمَةِ
فَمَنْ
زُحْزِحَ
عَنِ
النَّارِ
وَاُدْخِلَ
الْجَنَّةَ
فَقَدْ فَازَ
وَمَا
الْحَيٰوةُ
الدُّنْيَآ
اِلَّا
مَتَاعُ
لْغُرُوْرِ
ہر
جان
چکھنا
موت
اور بیشک
پورے پورے ملیں گے
تمہارے اجر
قیامت کے دن
پھر جو
دور کیا گیا
سے
دوزخ
اور داخل کیا گیا
جنت
پس مراد کو پہنچا
اور نہیں
زندگی
دنیا
سوائے
سودا
دھوکہ
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]