اور یتیموں کو آزماتے رہو، یہاں تک کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ جائیں، پھر اگر تم ان سے کچھ سمجھ داری معلوم کرو تو ان کے مال ان کے سپرد کردو اور فضول خرچی کرتے ہوئے اور اس سے جلدی کرتے ہوئے انھیں مت کھائو کہ وہ بڑے ہو جائیں گے۔ اور جو غنی ہو تو وہ بہت بچے اور جو محتاج ہو تو وہ جانے پہچانے طریقے سے کھالے، پھر جب ان کے مال ان کے سپرد کرو تو ان پر گواہ بنا لو اور اللہ پورا حساب لینے والا کافی ہے۔[6]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَابۡتَلُوا
الۡیَتٰمٰی
حَتّٰۤی
اِذَا
بَلَغُوا
النِّکَاحَ
فَاِنۡ
اٰنَسۡتُمۡ
مِّنۡہُمۡ
رُشۡدًا
فَادۡفَعُوۡۤا
اِلَیۡہِمۡ
اَمۡوَالَہُمۡ
وَلَا
تَاۡکُلُوۡہَاۤ
اِسۡرَافًا
وَّبِدَارًا
اَنۡ
یَّکۡبَرُوۡا
وَمَنۡ
کَانَ
غَنِیًّا
فَلۡیَسۡتَعۡفِفۡ
وَمَنۡ
کَانَ
فَقِیۡرًا
فَلۡیَاۡکُلۡ
بِالۡمَعۡرُوۡفِ
فَاِذَا
دَفَعۡتُمۡ
اِلَیۡہِمۡ
اَمۡوَالَہُمۡ
فَاَشۡہِدُوۡا
عَلَیۡہِمۡ
وَکَفٰی
بِاللّٰہِ
حَسِیۡبًا
اور آزماتے رہو
یتیموں کو
یہاں تک کہ
جب
وہ پہنچ جائیں
نکاح (کی عمر کو)
پھر اگر
پاؤ تم
ان میں
سمجھ بوجھ
تو دے دو
انہیں
مال ان کے
اور نہ
تم کھاؤ انہیں
اسراف کرتے ہوئے
اور جلدی کرتے ہوئے
کہ
وہ بڑے ہوجائیں گے
اور جو کوئی
ہو
غنی
پس چاہیے کہ وہ بچے
اور جو کوئی
ہو
محتاج
پس چاہیے کہ وہ کھائے
بھلے طریقے سے
پھر جب
دے دو تم
انہیں
مال ان کے
تو گواہ بنا لو
ان پر
اور کافی ہے
اللہ
خوب حساب لینے والا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَابۡتَلُوا
الۡیَتٰمٰی
حَتّٰۤی
اِذَا
بَلَغُوا
النِّکَاحَ
فَاِنۡ
اٰنَسۡتُمۡ
مِّنۡہُمۡ
رُشۡدًا
فَادۡفَعُوۡۤا
اِلَیۡہِمۡ
اَمۡوَالَہُمۡ
وَلَا
تَاۡکُلُوۡہَاۤ
اِسۡرَافًا
وَّبِدَارًا
اَنۡ
یَّکۡبَرُوۡا
وَمَنۡ
کَانَ
غَنِیًّا
فَلۡیَسۡتَعۡفِفۡ
وَمَنۡ
کَانَ
فَقِیۡرًا
فَلۡیَاۡکُلۡ
بِالۡمَعۡرُوۡفِ
فَاِذَا
دَفَعۡتُمۡ
اِلَیۡہِمۡ
اَمۡوَالَہُمۡ
فَاَشۡہِدُوۡا
عَلَیۡہِمۡ
وَکَفٰی
بِاللّٰہِ
حَسِیۡبًا
اور تم جانچتے رہو
یتیموں کو
یہاں تک کہ
جب
وہ پہنچ جائیں
نکاح(کی عمر) کو
پھر اگر
محسوس کرو تم
اُن میں
سمجھ بُوجھ
تو تم حوالے کر دو
اُن کی طرف
مال اُن کے
اور نہ
تم کھاؤ اُن کو
فضول خرچی سے
اور جلدی کرتے ہوئے
یہ کہ
وہ بڑے ہو جائیں گے
اور جو کوئی
ہو
مالدار
تو لازم ہے کہ وہ بچے
اور جو کوئی
ہو
محتاج
تو لازم ہے کہ وہ کھائے
معروف طریقے سے
چنانچہ جب
حوالے کرنے لگو تم
طرف اُن کی
مال اُن کے
تو تم گواہ بنا لو
اُن پر
اور کافی ہے
اللہ تعالیٰ
حساب لینے والا
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَابْتَلُوا
الْيَتٰمٰى
حَتّٰى
اِذَا
بَلَغُوا
النِّكَاحَ
فَاِنْ
اٰنَسْتُمْ
مِّنْھُمْ
رُشْدًا
فَادْفَعُوْٓا
اِلَيْھِمْ
اَمْوَالَھُمْ
وَلَا
تَاْكُلُوْھَآ
اِسْرَافًا
وَّبِدَارًا
اَنْ
يَّكْبَرُوْا
وَمَنْ
كَانَ
غَنِيًّا
فَلْيَسْتَعْفِفْ
وَمَنْ
كَانَ
فَقِيْرًا
فَلْيَاْكُلْ
بِالْمَعْرُوْفِ
فَاِذَا
دَفَعْتُمْ
اِلَيْھِمْ
اَمْوَالَھُمْ
فَاَشْهِدُوْا
عَلَيْھِمْ
وَكَفٰى
بِاللّٰهِ
حَسِيْبًا
اور آزماتے رہو
یتیم (جمع)
یہانتک کہ
جب
وہ پہنچیں
نکاح
پھر اگر
تم پاؤ
ان میں
صلاحیت
تو حوالے کردو
ان کے
ان کے مال
اور نہ
وہ کھاؤ
ضرورت سے زیادہ
اور جلدی جلدی
کہ
کہ وہ بڑے ہوجائینگے
اور جو
ہو
غنی
بچتا رہے
اور جو
ہو
حاجت مند
تو کھائے
دستور کے مطابق
پھر جب
حوالے کرو
ان کے
ان کے مال
تو گواہ کرلو
ان پر
اور کافی
اللہ
حساب لینے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]