اس کا رب قریب ہے، اگر وہ تمھیں طلاق دے دے کہ تمھارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں دے دے، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں، اطاعت کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزہ رکھنے والیاں ہوں، شوہر دیدہ اور کنواریاں ہوں۔[5]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
عَسٰی
رَبُّہٗۤ
اِنۡ
طَلَّقَکُنَّ
اَنۡ
یُّبۡدِلَہٗۤ
اَزۡوَاجًا
خَیۡرًا
مِّنۡکُنَّ
مُسۡلِمٰتٍ
مُّؤۡمِنٰتٍ
قٰنِتٰتٍ
تٰٓئِبٰتٍ
عٰبِدٰتٍ
سٰٓئِحٰتٍ
ثَیِّبٰتٍ
وَّاَبۡکَارًا
امید ہے
رب اس کا
اگر
وہ طلاق دے دے تمہیں
کہ
وہ بدل کر دےد ے اسے
بیویاں
بہتر
تم سے
مسلمان
مومن
اطاعت گزار
توبہ گزار
عبادت گزار
روزہ دار
شوہر دیدہ
اور کنواریاں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
عَسٰی
رَبُّہٗۤ
اِنۡ
طَلَّقَکُنَّ
اَنۡ
یُّبۡدِلَہٗۤ
اَزۡوَاجًا
خَیۡرًا
مِّنۡکُنَّ
مُسۡلِمٰتٍ
مُّؤۡمِنٰتٍ
قٰنِتٰتٍ
تٰٓئِبٰتٍ
عٰبِدٰتٍ
سٰٓئِحٰتٍ
ثَیِّبٰتٍ
وَّاَبۡکَارًا
قریب ہے کہ
رب اس کا
اگر
وہ طلاق دے تمہیں
یہ کہ
بدلے میں دے اس کو
بیویاں
بہتر
تم سے
اسلام والیاں
ایمان والیاں
اطاعت کر نے والیاں
توبہ کر نے والیاں
عبادت کرنے والیاں
روزہ دار
بیوہ
اور کنواریاں
حافظ نذر احمد حفظه الله
عَسٰى رَبُّهٗٓ
اِنْ طَلَّقَكُنَّ
اَنْ يُّبْدِلَهٗٓ
اَزْوَاجًا
خَيْرًا مِّنْكُنَّ
مُسْلِمٰتٍ
مُّؤْمِنٰتٍ
قٰنِتٰتٍ
تٰٓئِبٰتٍ
عٰبِدٰتٍ
سٰٓئِحٰتٍ
ثَيِّبٰتٍ
وَّاَبْكَارًا
امید ہے آپ کا رب
اگر وہ طلاق دے تم کو
کہ وہ بدل کردے اس کو
بیویاں
بہتر تم عورتوں سے
جو مسلمان ہوں
مومن ہوں
اطاعت گزار
توبہ گزار
عبادت گزار
روزہ دار
شوہر دیدہ۔ شوہر والیاں
اور کنواری ہوں
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
طلاق:الطلاق اور تسریح دونوں لفظ عورت کی جدائی یا عام مفہوم میں طلاق کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ الطلاق میں تخلیہ ضروری اور ارسال جزوی شرط ہے جب کے تسریخ میں لازمی جز ارسال ہے اور وہ بھی آسانی وسہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔