پھر کیسے گزرتی ہے اس وقت جب انھیں کوئی مصیبت اس کی وجہ سے پہنچتی ہے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا، پھر تیرے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں کہ ہم نے تو بھلائی اور آپس میں ملانے کے سوا کچھ نہیں چاہا تھا۔[62]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
فَکَیۡفَ
اِذَاۤ
اَصَابَتۡہُمۡ
مُّصِیۡبَۃٌۢ
بِمَا
قَدَّمَتۡ
اَیۡدِیۡہِمۡ
ثُمَّ
جَآءُوۡکَ
یَحۡلِفُوۡنَ
بِاللّٰہِ
اِنۡ
اَرَدۡنَاۤ
اِلَّاۤ
اِحۡسَانًا
وَّتَوۡفِیۡقًا
تو کیا ہوتا ہے
جب
پہنچتی ہے انہیں
کوئی مصیبت
بوجہ اس کے جو
آگے بھیجا
ان کے ہاتھوں نے
پھر
وہ آجاتے ہیں آپ کے پاس
قسمیں کھاتے ہوئے
اللہ کی
نہیں
ارادہ کیا ہم نے
مگر
احسان
اور موافقت کا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
فَکَیۡفَ
اِذَاۤ
اَصَابَتۡہُمۡ
مُّصِیۡبَۃٌۢ
بِمَا
قَدَّمَتۡ
اَیۡدِیۡہِمۡ
ثُمَّ
جَآءُوۡکَ
یَحۡلِفُوۡنَ
بِاللّٰہِ
اِنۡ
اَرَدۡنَاۤ
اِلَّاۤ
اِحۡسَانًا
وَّتَوۡفِیۡقًا
پھر کیسے ہوتا ہے
جب
پہنچتی ہے ان کو
کوئی مصیبت
اس وجہ سے جو
آگے بھیجا ہے
ان کے ہاتھوں نے
پھر
وہ آتے ہیں آپ کے پاس
وہ قسمیں کھاتے ہیں
اللہ تعالیٰ کی
نہیں
چاہا تھا ہم نے
محض
بھلائی کے
اور آپس میں ملانے کا
حافظ نذر احمد حفظه الله
فَكَيْفَ
اِذَآ
اَصَابَتْھُمْ
مُّصِيْبَةٌ
بِمَا
قَدَّمَتْ
اَيْدِيْهِمْ
ثُمَّ
جَآءُوْكَ
يَحْلِفُوْنَ
بِاللّٰهِ
اِنْ
اَرَدْنَآ
اِلَّآ
اِحْسَانًا
وَّتَوْفِيْقًا
پھر کیسی
جب
انہیں پہنچے
کوئی مصیبت
اس کے سبب جو
آگے بھیجا
ان کے ہاتھ
پھر
وہ آئیں آپ کے پاس
قسم کھاتے ہوئے
اللہ کی
کہ
ہم نے چاہا
سوائے (صرف)
بھلائی
اور موافقت
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّمَ:قَدَّمَ اور اَسْلَفَ میں وہی فرق ہے جو ارتفاع اور عمق میں ہے اگر نیچے کے کنارے پر ہوں تو اسی راسی فاصلہ کو بلندی کو کہتے ہیں اوپر کے کنارے پر کھڑے ہوں تو وہی فاصلہ گہرائ یہ عمق کہلاتا ہے وہی بات یا کام جو قدّم کا مفہوم سے موقع کے لحاظ سے وہی اسلف بن جاتا ہے ۔