اے اہل کتاب! بے شک تمھارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمھارے لیے کھول کر بیان کرتا ہے، رسولوں کے ایک وقفے کے بعد، تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس نہ کوئی خوشخبری دینے والا آیا اور نہ ڈرانے والا، تو یقینا تمھارے پاس ایک خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا آچکا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔[19]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ
قَدۡ
جَآءَکُمۡ
رَسُوۡلُنَا
یُبَیِّنُ
لَکُمۡ
عَلٰی فَتۡرَۃٍ
مِّنَ الرُّسُلِ
اَنۡ
تَقُوۡلُوۡا
مَا
جَآءَنَا
مِنۡۢ بَشِیۡرٍ
وَّلَا
نَذِیۡرٍ
فَقَدۡ
جَآءَکُمۡ
بَشِیۡرٌ
وَّنَذِیۡرٌ
وَاللّٰہُ
عَلٰی
کُلِّ
شَیۡءٍ
قَدِیۡرٌ
اے اہل کتاب
تحقیق
آگیا تمہارے پاس
رسول ہمارا
وہ واضح کرتا ہے
تمہارے لیے
وقفے پر
رسولوں کے
کہ
نہ) تم کہو
نہیں
آیا ہمارے پاس
کوئی خوشخبری دینے والا
اور نہ
کوئی ڈرانے والا
پس تحقیق
آگیا تمہارے پاس
خوشخبری دینے والا
اور ڈرانے والا
اور اللہ
اوپر
ہر
چیز کے
خوب قدرت رکھنے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ
قَدۡ
جَآءَکُمۡ
رَسُوۡلُنَا
یُبَیِّنُ
لَکُمۡ
عَلٰی فَتۡرَۃٍ
مِّنَ الرُّسُلِ
اَنۡ
تَقُوۡلُوۡا
مَا
جَآءَنَا
مِنۡۢ بَشِیۡرٍ
وَّلَا نَذِیۡرٍ
فَقَدۡ
جَآءَکُمۡ
بَشِیۡرٌ
وَّنَذِیۡرٌ
وَاللّٰہُ
عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ
قَدِیۡرٌ
اے اہل کتاب
یقیناً
آگیا ہے تمہارے پاس
رسول ہمارا
وہ کھول کر بیان کرتا ہے
تمہارے لئے
ایک وقفے کے بعد
رسولوں میں سے
یہ کہ (نہ)
تم کہو
نہیں
آیا تھا ہمارے پاس
کوئی خوش خبری دینے والا
اورنہ کوئی ڈرانےوالا
تو یقیناً
آگیا ہے تمہارے پاس
خوش خبری دینے والا
اور ڈرانےوالا
اور اللہ تعالیٰ
ہر چیز پر
پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ
قَدْ جَآءَكُمْ
رَسُوْلُنَا
يُبَيِّنُ
لَكُمْ
عَلٰي
فَتْرَةٍ
مِّنَ
الرُّسُلِ
اَنْ
تَقُوْلُوْا
مَا جَآءَنَا
مِنْ
بَشِيْرٍ
وَّلَا
نَذِيْرٍ
فَقَدْ جَآءَكُمْ
بَشِيْرٌ
وَّنَذِيْرٌ
وَاللّٰهُ
عَلٰي
كُلِّ شَيْءٍ
قَدِيْرٌ
اے اہل کتاب
تحقیق تمہارے پاس آئے
ہمارے رسول
وہ کھول کر بیان کرتے ہیں
تمہارے لیے
پر (بعد)
سلسلہ ٹوٹ جانا
سے (کے)
رسول (جمع)
کہ کہیں
تم کہو
ہمارے پاس نہیں آیا
کوئی
خوشخبری دینے والا
اور نہ
ڈرانے والا
تحقیق تمہارے پاس آگئے
خوشخبری سنانے والے
اور ڈرانے والے
اور اللہ
پر
ہر شے
قدرت والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔