پس تو ان لوگوں کو دیکھے گا جن کے دلوں میں ایک بیماری ہے کہ وہ دوڑ کر ان میں جاتے ہیں، کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ ہمیں کوئی چکر آ پہنچے، تو قریب ہے کہ اللہ فتح لے آئے، یا اپنے پاس سے کوئی اور معاملہ تو وہ اس پر جو انھوں نے اپنے دلوں میں چھپایا تھا، پشیمان ہو جائیں۔[52]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
فَتَرَی
الَّذِیۡنَ
فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ
مَّرَضٌ
یُّسَارِعُوۡنَ
فِیۡہِمۡ
یَقُوۡلُوۡنَ
نَخۡشٰۤی
اَنۡ
تُصِیۡبَنَا
دَآئِرَۃٌ
فَعَسَی
اللّٰہُ
اَنۡ
یَّاۡتِیَ
بِالۡفَتۡحِ
اَوۡ
اَمۡرٍ
مِّنۡ عِنۡدِہٖ
فَیُصۡبِحُوۡا
عَلٰی
مَاۤ
اَسَرُّوۡا
فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ
نٰدِمِیۡنَ
پھر آپ دیکھیں گے
انہیں
دلوں میں جن کے
بیماری ہے
وہ دوڑ دھوپ کرتے ہیں
ان میں
وہ کہتے ہیں
ہم ڈرتے ہیں
کہ
پہنچے گی ہمیں
کوئی گردش / مصیبت
تو امید ہے
اللہ
کہ
لے آئے
فتح
یا
کوئی حکم
اپنی طرف سے
پھر وہ ہوجائیں
اس پر
جو
انہوں نے چھپایا
اپنے نفسوں میں
نادم
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
فَتَرَی
الَّذِیۡنَ
فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ
مَّرَضٌ
یُّسَارِعُوۡنَ
فِیۡہِمۡ
یَقُوۡلُوۡنَ
نَخۡشٰۤی
اَنۡ
تُصِیۡبَنَا
دَآئِرَۃٌ
فَعَسَی
اللّٰہُ
اَنۡ
یَّاۡتِیَ
بِالۡفَتۡحِ
اَوۡ
اَمۡرٍ
مِّنۡ عِنۡدِہٖ
فَیُصۡبِحُوۡا
عَلٰی
مَاۤ
اَسَرُّوۡا
فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ
نٰدِمِیۡنَ
چنانچہ آپ دیکھیں گے
ان لوگوں کو
جن کے دلوں میں
بیماری ہے
وہ دوڑ کر جاتے ہیں
ان میں
وہ کہتے ہیں
ہم ڈرتے ہیں
کہ
پہنچ جائے ہمیں
مصیبت کا چکر
پھر ہو سکتا ہے کہ
اللہ تعالیٰ
یہ کہ
وہ لے آئے
فتح کو
یا
کوئی معاملہ
اپنی جناب سے
تو وہ ہوں
اوپر
اس کے جو
انہوں نے چھپا رکھا تھا
اپنے دلوں میں
نادم
حافظ نذر احمد حفظه الله
فَتَرَى
الَّذِيْنَ
فِيْ
قُلُوْبِهِمْ
مَّرَضٌ
يُّسَارِعُوْنَ
فِيْهِمْ
يَقُوْلُوْنَ
نَخْشٰٓى
اَنْ
تُصِيْبَنَا
دَآئِرَةٌ
فَعَسَى
اللّٰهُ
اَن
يَّاْتِيَ بالْفَتْحِ
اَوْ اَمْرٍ
مِّنْ
عِنْدِهٖ
فَيُصْبِحُوْا
عَلٰي
مَآ
اَ سَرُّوْا
فِيْٓ
اَنْفُسِهِمْ
نٰدِمِيْنَ
پس تو دیکھے گا
وہ لوگ جو
میں
ان کے دل
روگ
دوڑتے ہیں
ان میں (ان کی طرف)
کہتے ہیں
ہمیں ڈر ہے
کہ
ہم پر (نہ آجائے
گردش
سو قریب ہے
اللہ
کہ
لائے فتح
یا کوئی حکم
سے
اپنے پاس
تو رہ جائیں
پر
جو
وہ چھپاتے تھے
میں
اپنے دل (جمع)
پچھتانے والے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]