اللہ تم سے تمھاری قسموں میں لغو پر مؤاخذہ نہیں کرتا اور لیکن تم سے اس پر مؤاخذہ کرتا ہے جو تم نے پختہ ارادے سے قسمیں کھائیں۔ تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، درمیانے درجے کا، جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا انھیں کپڑے پہنانا، یا ایک گردن آزاد کرنا، پھر جو نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھنا ہے۔ یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے، جب تم قسم کھا لو اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اسی طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم شکر کرو۔[89]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
لَایُؤَاخِذُکُمُ
اللّٰہُ
بِاللَّغۡوِ
فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمۡ
وَلٰکِنۡ
یُّؤَاخِذُکُمۡ
بِمَا
عَقَّدۡتُّمُ
الۡاَیۡمَانَ
فَکَفَّارَتُہٗۤ
اِطۡعَامُ
عَشَرَۃِ
مَسٰکِیۡنَ
مِنۡ اَوۡسَطِ
مَا
تُطۡعِمُوۡنَ
اَہۡلِیۡکُمۡ
اَوۡ
کِسۡوَتُہُمۡ
اَوۡ
تَحۡرِیۡرُ
رَقَبَۃٍ
فَمَنۡ
لَّمۡ
یَجِدۡ
فَصِیَامُ
ثَلٰثَۃِ
اَیَّامٍ
ذٰلِکَ
کَفَّارَۃُ
اَیۡمَانِکُمۡ
اِذَا
حَلَفۡتُمۡ
وَاحۡفَظُوۡۤا
اَیۡمَانَکُمۡ
کَذٰلِکَ
یُبَیِّنُ
اللّٰہُ
لَکُمۡ
اٰیٰتِہٖ
لَعَلَّکُمۡ
تَشۡکُرُوۡنَ
نہیں مواخذہ کرتا تمہارا
اللہ
لغو پر
تمہاری قسموں میں
اور لیکن
وہ مواخذہ کرتا تمہارا
ان پر جو
مضبوط باندھیں تم نے
قسمیں
تو کفارہ ہے اس کا
کھانا کھلانا
دس
مسکینوں کا
اوسط درجے کا
جو
تم کھلاتے ہو
اپنے گھروالوں کو
یا
یا کپڑ پہنانا انہیں
یا
آزاد کرنا
ایک گردن کا
پس جو کوئی
نہ
پائے
تو روزے رکھنا ہیں
تین
دنوں کے
یہ
کفارہ ہے
تمہاری قسموں کا
جب
قسم کھاؤ ۭ تم
اور حفاظت کیا کرو
اپنی قسموں کا
اسی طرح
واضح کرتا ہے
اللہ
تمہارے لیے
اپنی آیات کو
تاکہ تم
تم شکر کرو
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
لَا
یُؤَاخِذُکُمُ
اللّٰہُ
بِاللَّغۡوِ
فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمۡ
وَلٰکِنۡ
یُّؤَاخِذُکُمۡ
بِمَا
عَقَّدۡتُّمُ
الۡاَیۡمَانَ
فَکَفَّارَتُہٗۤ
اِطۡعَامُ
عَشَرَۃِ
مَسٰکِیۡنَ
مِنۡ اَوۡسَطِ
مَا
تُطۡعِمُوۡنَ
اَہۡلِیۡکُمۡ
اَوۡ
کِسۡوَتُہُمۡ
اَوۡ
تَحۡرِیۡرُ
رَقَبَۃٍ
فَمَنۡ
لَّمۡ یَجِدۡ
فَصِیَامُ
ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ
ذٰلِکَ
کَفَّارَۃُ
اَیۡمَانِکُمۡ
اِذَا
حَلَفۡتُمۡ
وَاحۡفَظُوۡۤا
اَیۡمَانَکُمۡ
کَذٰلِکَ
یُبَیِّنُ
اللّٰہُ
لَکُمۡ
اٰیٰتِہٖ
لَعَلَّکُمۡ
تَشۡکُرُوۡنَ
نہیں
گرفت کرے گا تمہاری
اللہ تعالیٰ
لغو پر
تمھاری قسموں میں
لیکن
وہ گرفت کرے گا تمھاری
جنہیں
پختہ کیا تم نے
قسموں کو
چنانچہ کفارہ اس کا
کھانا ہے
دس
مسکینوں کا
اوسط درجے سے
جو
تم کھلاتے ہو
اپنے اہل و عیال کو
یا
کپڑے پہنانا ہےاُنہیں
یا
آزادکرنا ہے
ایک غلام کا
چنانچہ جو
نہ پا ئے
تو روزے رکھنا ہے
تین دن کے
یہ
کفا رہ ہے
تمہاری قسمو ں کا
جب
قسم کھاؤتم
اور تم حفا ظت کرو
اپنی قسمو ں کی
اس طرح
بیا ن کر تا ہے
اللہ تعا لیٰ
تمہارے لیے
احکا ما ت اپنے
تا کہ تم
تم شکر ادا کرو
حافظ نذر احمد حفظه الله
لَا يُؤَاخِذُكُمُ
اللّٰهُ
بِاللَّغْوِ
فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ
وَلٰكِنْ
يُّؤَاخِذُكُمْ
بِمَا
عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ۚ
فَكَفَّارَتُهٗٓ
اِطْعَامُ
عَشَرَةِ
مَسٰكِيْنَ
مِنْ اَوْسَطِ
مَا تُطْعِمُوْنَ
اَهْلِيْكُمْ
اَوْ كِسْوَتُهُمْ
اَوْ
تَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ ۭ
فَمَنْ
لَّمْ يَجِدْ
فَصِيَامُ
ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ
ۭذٰلِكَ
كَفَّارَةُ
اَيْمَانِكُمْ
اِذَا حَلَفْتُمْ
وَاحْفَظُوْٓا
اَيْمَانَكُمْ ۭ
كَذٰلِكَ
يُبَيِّنُ
اللّٰهُ
لَكُمْ
اٰيٰتِهِ
لَعَلَّكُمْ
تَشْكُرُوْنَ
نہیں مواخذہ کرے گا تمہارا
اللہ
ساتھ لغو کے
تمہاری قسموں میں
اور لیکن
وہ مواخذہ کرے گا تمہارا
بوجہ اس کے جو
مضبوط گرہ باندھی تم نے قسموں کی
تو کفارہ ہے اس کا
کھانا کھلانا
دس
مسکینوں کا
اوسط درجے کا
جو تم کھلاتے ہو
اپنے گھروالوں کو
یا کپڑ پہنانا ان کو
یا
آزاد کرنا ایک گردن کا
تو جو کوئی
نہ پائے
تو روزے رکھنا ہیں
تین دن کے
یہ
کفارہ ہے
تمہاری قسموں کا
جب تم قسم کھاؤ ۭ
اور حفاظت کیا کرو
اپنی قسموں کا
اسی طرح
بیان کرتا ہے
اللہ
تمہارے لیے
اپنی آیات کو
تاکہ تم
تم شکر ادا کرو
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]