کہہ لاؤ اپنے وہ گواہ جو شہادت دیں کہ اللہ نے یہ چیزیں حرام کی ہیں، پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو توُ ان کے ساتھ شہادت مت دے اور ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے مت چل جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ اپنے رب کے ساتھ برابر ٹھہراتے ہیں۔[150]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
قُلۡ
ہَلُمَّ
شُہَدَآءَکُمُ
الَّذِیۡنَ
یَشۡہَدُوۡنَ
اَنَّ
اللّٰہَ
حَرَّمَ
ہٰذَا
فَاِنۡ
شَہِدُوۡا
فَلَا
تَشۡہَدۡ
مَعَہُمۡ
وَلَا
تَتَّبِعۡ
اَہۡوَآءَ
الَّذِیۡنَ
کَذَّبُوۡا
بِاٰیٰتِنَا
وَالَّذِیۡنَ
لَایُؤۡمِنُوۡنَ
بِالۡاٰخِرَۃِ
وَہُمۡ
بِرَبِّہِمۡ
یَعۡدِلُوۡنَ
کہہ دیجئے
حاضر کرو
اپنے گواہوں کو
ان کو جو
گواہی دیتے ہیں
کہ بےشک
اللہ نے
حرام کیا ہے
اسے
پھر اگر
وہ گواہی دے دیں
تو نہ
تم گواہی دو
ساتھ ان کے
اور نہ
آپ پیروی کرو
خواہشات کی
ان کی جنہوں نے
جھٹلایا
ہماری آیات کو
اور (نہ )ان کی جو
نہیں وہ ایمان لاتے
آخرت پر
اور وہ
اپنے رب کے ساتھ
وہ بر قرار دیتے ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
قُلۡ
ہَلُمَّ
شُہَدَآءَکُمُ
الَّذِیۡنَ
یَشۡہَدُوۡنَ
اَنَّ
اللّٰہَ
حَرَّمَ
ہٰذَا
فَاِنۡ
شَہِدُوۡا
فَلَا
تَشۡہَدۡ
مَعَہُمۡ
وَلَا
تَتَّبِعۡ
اَہۡوَآءَ
الَّذِیۡنَ
کَذَّبُوۡا
بِاٰیٰتِنَا
وَالَّذِیۡنَ
لَا
یُؤۡمِنُوۡنَ
بِالۡاٰخِرَۃِ
وَہُمۡ
بِرَبِّہِمۡ
یَعۡدِلُوۡنَ
آپ کہہ دیں
لاؤ
گواہ اپنے
وہ لوگ جو
گواہی دیں
یقیناً
اللہ تعالیٰ نے
حرام کیا ہے
ان کو
پھر اگر
وہ گواہی دیں
تو نہ
آپ گواہی دیں
ساتھ ان کے
اور نہ
آپ پیروی کریں
خواہشات کی
ان لوگوں کی
جن لوگوں نے جھٹلایا
ہماری آیات کو
اور وہ لوگ جو
نہیں
ایمان رکھتے
آخرت پر
اور وہ سب
اپنے رب کے
برابر قرار دیتے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
قُلْ
هَلُمَّ
شُهَدَآءَكُمُ
الَّذِيْنَ
يَشْهَدُوْنَ
اَنَّ
اللّٰهَ
حَرَّمَ
ھٰذَا
فَاِنْ
شَهِدُوْا
فَلَا تَشْهَدْ
مَعَهُمْ
وَلَا تَتَّبِعْ
اَهْوَآءَ
الَّذِيْنَ
كَذَّبُوْا
بِاٰيٰتِنَا
وَالَّذِيْنَ
لَا يُؤْمِنُوْنَ
بِالْاٰخِرَةِ
وَهُمْ
بِرَبِّهِمْ
يَعْدِلُوْنَ
فرمادیں
تم لاؤ
اپنے گواہ
جو
گواہی دیں
کہ
اللہ
حرام کیا
یہ
پھر اگر
وہ گواہی دیں
تو تم گواہی نہ دینا
ان کے ساتھ
اور نہ پیروی کرنا
خواہشات
جو لوگ
جھٹلایا
ہماری آیتوں کو
اور جو لوگ
نہیں ایمان لاتے
آخرت پر
اور وہ
اپنے رب کے برابر
ٹھہراتے ہیں
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
عَدْل:دوسرے کو اس کا پورا پورا حق یا اس کی مالیت کے برابر اس کا عوض دینا اور تناسب اور مساوات کو ملحوظ رکھنا اور اس کا استعمال ظاہری اور باطنی اموار میں عام ہیں۔