اَنۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اُنۡزِلَ الۡکِتٰبُ عَلٰی طَآئِفَتَیۡنِ مِنۡ قَبۡلِنَا ۪ وَ اِنۡ کُنَّا عَنۡ دِرَاسَتِہِمۡ لَغٰفِلِیۡنَ ﴿۱۵۶﴾ۙ
ایسا نہ ہو کہ تم کہو کہ کتاب تو صرف ان دو گروہوں پر اتاری گئی جو ہم سے پہلے تھے اور بے شک ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے یقینا بے خبر تھے۔[156]
|
لفظ / روٹ
|
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
|
أَنْ
|
Lest |
تَقُولُوا ق و ل |
you say تقول:جھوٹ خود تراشنا پھر اسے کسی دوسرے پر تھوپ دینا۔ مترادفات .خرص، اختلق، افتراء، تقول،
| قَوْل:کوئی بات بےمعنی ہو یا بامعنی ۔ خواہ دل میں ہو یا نظریاتی ہو ۔ مترادفات .قَوْل، حَدِیْث، كَلِمَةٌ،
| سَ ، سَوْفَ:مضارع پر داخل ہو کر اس میں جلدی کا بمعنی پیدا کر دیتے ہیں۔ جیسے «سَيَقُولُ» مترادفات .سَرِعَ، عَجِلَ ، اِسْتَعْجَلَ، بَدَرَ، فَوْر، سَ ، سَوْفَ،
|
|
إِنَّمَا
|
Only |
أُنْزِلَ ن ز ل |
was revealed نَزَلَ:نزل کا لفظ عام ہے ۔ تنزل ، وحی و احکامات الہی اور شیطانی القاء وغیرہ کے آتا ہے۔ مترادفات .نَزَلَ، حَلَّ، ھَبَطَ،
| اَنْزَل ، نَزَّلَ:کسی چیز کونیچے اتارنے کے لیے ہیں انزال یکبارگی اور تنزیل محض اتارنے کے لیے خواہ یکبارگی ہو یا بتدریج۔ مترادفات .اَنْزَل ، نَزَّلَ، اَحَلَّ، وَضَعَ، خَلَعَ،
|
|
الْكِتَابُ ك ت ب |
the Book كِتَاب:اعمال کے لکھے ہونے کی وجہ سے کتاب کہا گیا ہے۔ مترادفات .طَائِر، كِتَاب، قِطّ، صُحُف،
|
|
عَلَى
|
on |
طَائِفَتَيْنِ ط و ف |
the two groups |
مِنْ
|
from |
قَبْلِنَا ق ب ل |
before us قُبُل ، قِبَل:قُبُل اور اس کے مشتقات میں دو چیزوں کا آمنے سامنے یا آگے اور سامنے ہونا۔ یا رو در رو ہونا ضروری ہے۔ مترادفات .قُبُل ، قِبَل، بين ايدي،
| اَقْبَلَ:اَقْبَلَ میں کسی بھی شخص یا کسی چیز کی طرف منہ کرنے اور آگے بڑھنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مترادفات .قَدِمَ، سَبَقَ، اَقْبَلَ،
| قِبَل:سامنے کی طرف جو نظر آ رہی ہو۔ مترادفات .جَانِب، طَرْف، وِجْھَة، شَطْر، تِلْقَائِی، قِبَل،
|
|
وَإِنْ
|
and indeed |
كُنَّا ك و ن |
we were مَکَان:ایسی جگہ جو کسی جسم پر حاوی ہو۔ مترادفات .مَقَام، مَکَان،
|
|
عَنْ
|
about |
دِرَاسَتِهِمْ د ر س |
their study |
لَغَافِلِينَ غ ف ل |
certainly unaware |