🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة غافر/مومن
وَ قِہِمُ السَّیِّاٰتِ ؕ وَ مَنۡ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوۡمَئِذٍ فَقَدۡ رَحِمۡتَہٗ ؕ وَ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ٪﴿۹﴾
اور انھیں برائیوں سے بچا اور تو جسے اس دن برائیوں سے بچا لے تو یقینا تو نے اس پر مہربانی فرمائی اور یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔[9]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 9){ وَ قِهِمُ السَّيِّاٰتِ: قِ وَقٰي يَقِيْ وِقَايَةً} (ض) سے امر کا صیغہ ہے۔ { السَّيِّاٰتِ } (برائیوں) سے مراد برے اعمال و اقوال بھی ہیں اور ان کے برے نتائج بھی۔ یعنی فرشتے اللہ تعالیٰ سے ایمان والوں کو تمام برائیوں سے بچانے کی بھی دعا کرتے ہیں اور دنیا و آخرت میں ان کے برے نتائج سے محفوظ رکھنے کی بھی۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۸۵)۔