🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة إبراهيم
سَرَابِیۡلُہُمۡ مِّنۡ قَطِرَانٍ وَّ تَغۡشٰی وُجُوۡہَہُمُ النَّارُ ﴿ۙ۵۰﴾
ان کی قمیصیں رال(بیروزا) کی ہوں گی اور ان کے چہروں کو آگ ڈھانپے ہوگی۔[50]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
50۔ ان کے لبادے تارکول کے ہوں [50] گے اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانک رہی ہو گی
[50] ﴿قَطِران﴾ سے مراد ہر وہ جلنے والا غلیظ مادہ ہے جو بدبو دار، گاڑھا اور سیاہ دھواں چھوڑتا ہوا جلتا ہے اور تا دیر جلتا رہتا ہے اور بجھنے میں نہیں آتا۔ اس کی آگ کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ آگ مجرموں کے تمام جسم سے لپٹ رہی ہو گی اور چہرہ کا نام بالخصوص اس لیے لیا گیا کہ بدن کی ظاہری ساخت میں سب سے اشرف حصہ چہرہ ہی ہوتا ہے اور چہرہ کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ دوسرے جسم کی نسبت سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔