🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الحاقة
لِنَجۡعَلَہَا لَکُمۡ تَذۡکِرَۃً وَّ تَعِیَہَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَۃٌ ﴿۱۲﴾
تاکہ ہم اسے تمھارے لیے ایک یاد دہانی بنا دیں اور یاد رکھنے والا کان اسے یاد رکھے۔[12]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
12۔ تاکہ ہم اسے تمہارے لیے ایک یادگار [9] بنا دیں اور یاد رکھنے [10] والے کان اس کی یاد کو محفوظ رکھیں
[9] طوفان نوح اور کشتی:۔

یعنی طوفان کا یہ حال تھا کہ پانی کی اتنی کثیر مقدار جمع ہو گئی تھی کہ پہاڑ تک اس طوفان میں ڈوب گئے تھے۔ اتنے مہیب طوفان کے مقابلہ میں ایک کشتی کی بھلا حقیقت ہی کیا تھی جو اس طوفان کے تھپیڑوں کا مقابلہ کر سکتی۔ خصوصاً جب کہ اس میں سوار لوگوں کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان کی منزل مقصود کس سمت کو ہے؟ ظاہری اسباب پر انحصار کیا جائے تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ نہ اس کشتی کے بچنے کی کوئی صورت تھی اور نہ اس میں سوار انسانوں کی۔ یہ ہماری قدرت اور ہمارا احسان ہی تھا کہ اس کشتی کے ذریعہ ہم نے اپنے فرمانبرداروں کو بچا لیا اور لوگوں کو اپنی قدرت و حکمت کا ایسا کرشمہ دکھا دیا کہ رہتی دنیا تک لوگ اس واقعہ کو یاد رکھیں۔

[10] یعنی وہ لوگ جو کوئی بات سن کر سنی ان سنی نہیں کر دیتے۔ بلکہ اس میں غور کرتے، اس سے عبرت حاصل کرتے، پھر اسے یاد بھی رکھتے ہیں۔