مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
208. بَابُ الْقُنُوتِ .
قنوت کا بیان
حدیث نمبر: 2819
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ كُلِّهِنَّ إِلَّا فِي الْوِتْرِ، وَكَانَ إِذَا حَارَبَ يَقْنُتُ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهِنَّ يَدْعُو عَلَى الْمُشْرِكِينَ وَلَا قَنَتَ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ وَلَا عُثْمَانُ حَتَّى مَاتُوا، وَلَا قَنَتَ عَلِيٌّ حَتَّى حَارَبَ أَهْلَ الشَّامِ وَكَانَ يَقْنُتُ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهِنَّ وَكَانَ مُعَاوِيَةُ يَدْعُو عَلَيْهِ أَيْضًا يَدْعُو كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى الْآخَرِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ شَيْءٌ مُدْرَجٌ عَنْ غَيْرِ ابْنِ مَسْعُودٍ بِيَقِينٍ هُوَ قُنُوتُ عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ فِي حَالِ حَرْبِهِمَا فَإِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ مَاتَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ وَهُوَ صَدُوقٌ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَعْمَى وَاخْتَلَطَ عَلَيْهِ حَدِيثُهُ وَكَانَ يُلَقَّنُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ شَيْءٌ مُدْرَجٌ عَنْ غَيْرِ ابْنِ مَسْعُودٍ بِيَقِينٍ هُوَ قُنُوتُ عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ فِي حَالِ حَرْبِهِمَا فَإِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ مَاتَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ وَهُوَ صَدُوقٌ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَعْمَى وَاخْتَلَطَ عَلَيْهِ حَدِيثُهُ وَكَانَ يُلَقَّنُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نمازوں میں سے کسی میں بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی صرف آپ وتر میں اسے پڑھتے تھے جب آپ جنگ میں حصہ لیتے تھے تو تمام نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھتے تھے جس میں آپ مشرکین کے خلاف دعائے ضرر کرتے تھے (سیدنا عبداللہ بیان کرتے ہیں) سیدنا ابوبکر نے سیدنا عمر نے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مرتے دم تک قنوت نازلہ نہیں پڑھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی قنوت نازلہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ جب انہوں نے اہل شام کے ساتھ جنگ کی تو وہ تمام نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھا کرتے تھے جب کہ سیدنا معاویہ ان کے خلاف دعا کیا کرتے تھے ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کے خلاف دعا کرتا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس میں کچھ حصہ درج کیا گیا ہے، جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بجائے کسی اور کا ہے، اور یہ بات یقینی ہے وہ حصہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ کا جنگ کے دوران قنوت نازلہ پڑھنے سے متعلق حصہ ہے کیونکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہو گیا تھا اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر یمامی ہے، اور وہ صدوق ہے، تاہم وہ نابینا تھا اور اس کی حدیث اس کے لئے اختلاط کا شکار بنتی تھی اور اسے تلقین کی جاتی تھی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2819]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس میں کچھ حصہ درج کیا گیا ہے، جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بجائے کسی اور کا ہے، اور یہ بات یقینی ہے وہ حصہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ کا جنگ کے دوران قنوت نازلہ پڑھنے سے متعلق حصہ ہے کیونکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہو گیا تھا اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر یمامی ہے، اور وہ صدوق ہے، تاہم وہ نابینا تھا اور اس کی حدیث اس کے لئے اختلاط کا شکار بنتی تھی اور اسے تلقین کی جاتی تھی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2819]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2820
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَهْرًا يَدْعُو عَلَى عُصَيَّةَ وَذَكْوَانَ، فَلَمَّا ظَهَرَ عَلَيْهِمْ تَرَكَ الْقُنُوتَ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الْأَعْوَرُ الْقَصَّابُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الْأَعْوَرُ الْقَصَّابُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک قنوت نازلہ پڑھی تھی جس میں آپ عصیہ اور ذکوان قبیلوں کے خلاف دعا کرتے رہے، جب آپ کو ان پر غلبہ حاصل ہو گیا تو آپ نے قنوت نازلہ پڑھنی ترک کر دی۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ اعورقصاب ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2820]
یہ روایت امام ابویعلیٰ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ اعورقصاب ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2820]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2821
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَرَأَيْتُمْ قِيَامَكُمْ عِنْدَ فَرَاغِ الْإِمَامِ مِنَ السُّورَةِ هَذَا الْقُنُوتَ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَبِدْعَةٌ مَا فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْرَ شَهْرٍ ثُمَّ تَرَكَهُ أَرَأَيْتُمْ رَفْعَكُمْ أَيْدِيَكُمْ فِي الصَّلَاةِ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَبِدْعَةٌ مَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَذَا قَطُّ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ مَنْكِبَيْهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَالنَّسَائِيُّ وَوَثَّقَهُ أَيُّوبُ وَابْنُ عَدِيٍّ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَالنَّسَائِيُّ وَوَثَّقَهُ أَيُّوبُ وَابْنُ عَدِيٍّ.
سیدنا عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ سورت کی تلاوت سے فارغ ہونے کے بعد تمہارا قیام قنوت ہے اللہ کی قسم یہ بدعت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا تھا آپ نے صرف ایک ماہ تک ایسا کیا تھا پھر آپ نے اسے ترک کر دیا تھا کیا تم لوگ یہ سمجھے ہو کہ نماز کے دوران تمہارا ہاتوں کو بلند کرنا (ٹھیک ہے) اللہ کی قسم یہ بدعت ہے اللہ کے رسول نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک بلند کیے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حرب ہے، جسے امام أحمد یحییٰ بن معین ابوزرعہ ابوحاتم اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ایوب اور ابن عدی نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2821]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حرب ہے، جسے امام أحمد یحییٰ بن معین ابوزرعہ ابوحاتم اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ایوب اور ابن عدی نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2821]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2822
وَعَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عُمَرَ فَلَمْ يَقْنُتْ فَقُلْتُ: مَا مَنَعَكَ مِنَ الْقُنُوتِ؟ فَقَالَ: إِنِّي لَا أَحْفَظُهُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
ابومجلز بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر کے پیچھے نماز ادا کی تو انہوں نے قنوت نازلہ نہیں پڑھی میں نے دریافت کیا: کس چیز نے آپ کو قنوت پڑھنے سے روکے رکھا؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے اپنے اصحاب میں سے کسی کے حوالے سے یہ بات یاد نہیں ہے (کہ وہ ایسا کرتا ہو)
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2822]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2822]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2823
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، وَإِذَا قَنَتَ فِي الْوِتْرِ قَنَتَ قَبْلَ الرَّكْعَةِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ صبح کی نماز میں قنوت نازلہ نہیں پڑھتے تھے، اور جب وہ وتر میں قنوت پڑھتے تھے تو رکوع میں جانے سے پہلے پڑھتے تھے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2823]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2824
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَقْنُتُ فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ إِلَّا فِي الْوِتْرِ قَبْلَ الرَّكْعَةِ.
رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.
رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کسی بھی نماز میں قنوت نازلہ نہیں پڑھتے تھے وہ صرف وتر میں رکوع سے پہلے (دعائے قنوت پڑھتے تھے) یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اور ان دونوں کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2824]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2825
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ حِينَ يَفْرُغُ مِنَ الْقِرَاءَةِ ثُمَّ إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقُنُوتِ كَبَّرَ وَرَكَعَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.
سیدنا عبداللہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ قرأت سے فارغ ہونے کے بعد تکبیر کہتے تھے، (پھر دعائے قنوت پڑھتے تھے) اور قنوت سے فارغ ہونے کے بعد پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں جاتے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے، اور وہ ”ثقہ“ ہے، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2825]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے، اور وہ ”ثقہ“ ہے، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2825]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2826
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ دَعَا عَلَى قَوْمٍ وَدَعَا لِقَوْمٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھتے تھے جس میں آپ کسی قوم کے خلاف دعا کرتے تھے، اور کسی قوم کے حق میں دعا کرتے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2826]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2826]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2827
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: فَرَّ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَسَلَمَةُ بْنُ هِشَامٍ وَالْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِيَاشٌ وَسَلَمَةُ مُتَكَفِّلَانِ مُرْتَدِفَانِ عَلَى بَعِيرٍ وَالْوَلِيدُ يَسُوقُ بِهِمَا فَكُلِمَتْ إِصْبَعُ الْوَلِيدِ فَقَالَ:
هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ فَعَلِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخْرَجِهِمْ إِلَيْهِ وَشَأْنِهِمْ قَبْلَ أَنْ نَعْلَمَ فَصَلَّى الصُّبْحَ فَرَكَعَ أَوَّلَ رَكْعَةٍ مِنْهَا فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ دَعَا لَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ فَقَالَ:" اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحٌ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ فَعَلِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخْرَجِهِمْ إِلَيْهِ وَشَأْنِهِمْ قَبْلَ أَنْ نَعْلَمَ فَصَلَّى الصُّبْحَ فَرَكَعَ أَوَّلَ رَكْعَةٍ مِنْهَا فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ دَعَا لَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ فَقَالَ:" اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحٌ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
عبدالملک بن ابوبکر بیان کرتے ہیں: سیدنا عیاش بن ابوربیعہ سیدنا سلمہ بن ہشام سیدنا ولید بن ولید بن مغیرہ مشرکین سے فرار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا عیاش اور سیدنا سلمہ اونٹ پر آگے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، اور سیدنا ولید ان دونوں کو ہانک کر لا رہے تھے ولید کی انگلی زخمی ہو گئی، تو انہوں نے کہا: ”تم صرف ایک انگلی ہو جو خون آلود ہوئی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں تمہیں اس چیز کا سامنا کرنا پڑا ہے“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے نکل کر اپنی طرف آنے اور ان کے معاملے کا ہم سے پہلے پتہ چل گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی آپ نے پہلی رکعت ادا کی جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو سجدے میں جانے سے پہلے آپ نے ان لوگوں کے لئے دعا کی: ”اے اللہ! عیاش بن ابوربیعہ کو نجات عطا فرما اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات عطا فرما اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات عطا فرما اے اللہ! کمزور مومنین کو نجات عطا فرما اے اللہ! مضر قبیلے پر اپنی سختی مسلط کر دے اور ان پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی قحط سالی مقرر کر دے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے
یہ روایت مرسل اور صحیح ہے، اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2827]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے
یہ روایت مرسل اور صحیح ہے، اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2827]
الحكم على الحديث: إسنادہ مرسل صحیح، اس کے تمام راوی صحیح کے راوی
حدیث نمبر: 2828
وَعَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَجْرَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَالَ:" اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانًا وَرِعْلًا وَذَكْوَانًا وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا" ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَسْتُ قُلْتُ هَذَا وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَهُ".
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ: فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ إِلَى آخِرِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ: فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ إِلَى آخِرِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب آپ نے آخری رکعت (کے رکوع سے) سر اٹھایا تو یہ دعا کی ”اے اللہ! الحیان، رعل، ذکوان اور عصیہ قبیلے پر لعنت کر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے، اسلم قبیلے کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور غفار قبیلے کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے لوگوں کی طرف رُخ کیا اور ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں نے (اپنی طرف سے) اس طرح نہیں کہا: ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کہی ہے“۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت ”صحیح“ میں مذکور ہے، تاہم اس میں یہ والا حصہ نہیں ہے ”جب آپ نے نماز مکمل کی“ اس کے بعد سے لے کر آخر تک کا حصہ نہیں ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے، اور وہ ”ثقہ“ ہے، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2828]
یہ روایت ”صحیح“ میں مذکور ہے، تاہم اس میں یہ والا حصہ نہیں ہے ”جب آپ نے نماز مکمل کی“ اس کے بعد سے لے کر آخر تک کا حصہ نہیں ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے، اور وہ ”ثقہ“ ہے، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2828]
تخریج الحدیث: «مصنف ابن ابي شيبة كتاب صلاة التطوع والإمامة وابواب متفرقة فى تسمية الرجل فى القنوت حديث 6950، مسند احمد بن حنبل مسند المدنيين حديث خفاف بن إيماء بن رحضة الغفاري 16276، المعجم الكبير للطبراني باب الخاء، باب من اسمه خزيمة خفاف بن إيماء بن رحضة الغفارى وهو خفاف بن إيماء بن 4059»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن