السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1584. -- باب: من قال في الحلي زكاة
-- باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”زیورات میں زکوٰۃ ہے“۔
حدیث نمبر: 7545
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" لَا بَأْسَ بِلُبْسِ الْحُلِيِّ إِذَا أُعْطِيَ زَكَاتُهُ"..
حضرت عروہ رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ زیور پہننے میں کوئی حرج نہیں، جب اس کی زکاۃ ادا کی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7545]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه دار قطني»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7546
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةَ عَبْدِ اللهِ، سَأَلَتْ عَنْ حُلِيٍّ لَهَا فَقَالَ:" إِذَا بَلَغَ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِيهِ الزَّكَاةُ" قَالَتْ: أَضَعُهَا فِي بَنِي أَخٍ لِي فِي حِجْرِي؟ قَالَ:" نَعَمْ" ⦗٢٣٥⦘ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ.
علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے زیور کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جب وہ دو سو درہم کو پہنچ جائیں تو ان میں زکاۃ ہے۔ انہوں نے کہا: میں وہ زکاۃ اپنے ان بھتیجوں پر خرچ کروں گی جو میری پرورش میں ہیں، تو انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔
یہ روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بھی بیان کی گئی ہے، لیکن وہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7546]
یہ روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بھی بیان کی گئی ہے، لیکن وہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7546]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه الطبراني»
الحكم على الحديث: حسن
1585. -- باب: سياق أخبار وردت في زكاة الحلي.
-- باب: ان احادیث کا سیاق جو زیورات کی زکوٰۃ کے متعلق وارد ہوئی ہیں۔
حدیث نمبر: 7547
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمَذَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى فِي يَدِي سِخَابًا مِنْ وَرِقٍ فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟" فَقُلْتُ: صَنَعْتُهُنَّ أَتَزَيَّنُ لَكَ فِيهِنَّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ:" أَتُؤَدِّينَ زَكَاتَهُنَّ؟" فَقُلْتُ: لَا أَوَ مَا شَاءَ اللهُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ:" هِيَ حَسْبُكِ مِنَ النَّارِ"..
عبداللہ بن شداد بن ہاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ میں چاندی کے کڑے دیکھے تو فرمایا: ”اے عائشہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے انہیں آپ کے لیے زینت حاصل کرنے کے لیے بنوایا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، یا کہا جو اللہ چاہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے آگ کے لیے یہی کافی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7547]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7548
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو نَشِيطٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أنَّهُ قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَطَاءٍ أَخْبَرَهُ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَتَخَاتٍ مِنْ وَرِقٍ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: مُحَمَّدُ بْنُ عَطَاءٍ هَذَا مَجْهُوَلٌ. قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ وَهُوَ مَعْرُوفٌ.
عمرو بن ربیع بن طارق رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا حدیث کی طرح حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا کہ محمد بن عطاء رحمہ اللہ نے انہیں خبر دی اور حدیث میں یہ الفاظ بیان کیے کہ ”چاندی کے چھلے بنوائے۔“
علی بن عمر (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ محمد بن عطاء مجہول ہے۔ شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ محمد بن عمرو بن عطاء ہیں اور وہ معروف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7548]
علی بن عمر (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ محمد بن عطاء مجہول ہے۔ شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ محمد بن عمرو بن عطاء ہیں اور وہ معروف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7548]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7549
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْمَعْنِيُّ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُمْ، ثنا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسْكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهَا:" أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا؟" قَالَتْ: لَا قَالَ:" أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللهُ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ" قَالَ: فَخَطَفَتْهُمَا فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ: هُمَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ. وَهَذَا يَتَفَرَّدُ بِهِ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی اور اس کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے کڑے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے کہا: ”کیا تو ان کی زکاۃ ادا کرتی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو پسند کرتی ہے کہ تجھے ان کے بدلے قیامت کے دن آگ کے کڑے پہنائے جائیں؟“ راوی کہتا ہے: اس نے وہ دونوں کڑے جلدی سے کھینچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیے اور کہا: یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں۔
اس روایت کو بیان کرنے میں عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7549]
اس روایت کو بیان کرنے میں عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7549]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه النسائي»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7550
وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَنْزٌ هُوَ؟ قَالَ:" مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدِّيَ زَكَاتَهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا عَتَّابٌ عَنْ ثَابِتٍ فَذَكَرَهُ، وَهَذَا يَتَفَرَّدُ بِهِ ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سونے کا ہار پہنا کرتی تھی، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ کنز ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مال اس مقدار کو پہنچ جائے کہ اس کی زکاۃ ادا کی جائے اور اس کی زکاۃ دے دی جائے تو وہ کنز نہیں ہے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں ثابت بن عجلان منفرد ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7550]
اس روایت کو بیان کرنے میں ثابت بن عجلان منفرد ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7550]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
1586. -- من قال زكاة الحلي عاريته
-- ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”زیورات کی زکوٰۃ اسے عاریتاً (عارضی استعمال کے لیے) دینا ہے“۔
حدیث نمبر: 7551
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا كَامِلُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" زَكَاةُ الْحُلِيِّ عَارِيَتُهُ".
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ زیور کو عاریۃً دینا ہی اس کی زکوۃ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7551]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7552
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ فِي زَكَاةِ الْحُلِيِّ قَالَ:" يُعَارُ وَيُلْبَسُ". وَيُذْكَرُ عَنِ الشَّعْبِيِّ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ.
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ زیور کی زکوٰۃ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کی زکوٰۃ «عَارِيَّةً» ”عاریت“ دینا اور اس کا پہننا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7552]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن ابي شيبة»
الحكم على الحديث: ضعيف
1587. -- باب: من قال زكاة الحلي إنما وجبت في الوقت الذي كان الحلي من الذهب حراما فلما صار مباحا للنساء سقطت زكاته بالاستعمال كما تسقط زكاة الماشية بالاستعمال، إلى هذا ذهب كثير من أصحابنا.
-- باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”زیورات کی زکوٰۃ صرف اس وقت واجب تھی جب سونے کا زیور حرام تھا، پس جب یہ عورتوں کے لیے مباح ہو گیا تو اس کے استعمال سے اس کی زکوٰۃ اسی طرح ساقط ہو گئی جس طرح استعمال سے مویشیوں کی زکوٰۃ ساقط ہو جاتی ہے“، اور ہمارے بہت سے اصحاب اسی طرف گئے ہیں۔
اس وقت سونے کا زیور حرام تھا، جب وہ عورتوں کے لیے جائز ہوا تو استعمال سے اس کی زکاۃ ساقط ہو گئی، جیسے چگنے والے جانوروں کی زکاۃ ساقط ہو جاتی ہے۔ اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم اسی بات کی طرف گئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: A4]
1588. -- باب: سياق أخبار تدل على تحريم التحلي بالذهب
-- باب: ان احادیث کا سیاق جو سونے کا زیور پہننے کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 7553
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ الْبَرَّادُ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ فَلْيُحَلِّقْهُ حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ فَلْيُسَوِّرْهُ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ فَالْعَبُوا بِهَا لَعِبًا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کے پیارے کو آگ کا کڑا (کنگن) پہنایا جائے تو وہ اسے سونے کا کڑا (کنگن) پہنائے اور جو کوئی چاہتا ہے کہ اس کے پیارے کو آگ کا ہار پہنایا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے سونے کا ہار پہنائے اور جو کوئی چاہتا ہے کہ اپنے عزیز کو آگ کے کنگن پہنائے، تو وہ اسے سونے کے کنگن پہنائے لیکن تم اپنے لیے چاندی کو لازم پکڑو اور اسی سے اپنے کھیل کو پورا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7553]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: حسن