السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1579. -- باب: ما يحرم على صاحب المال من أن يعطي الصدقة من شر ماله
-- باب: صاحبِ مال پر اس بات کی حرمت کا بیان کہ وہ اپنے مال کے ردی حصے سے زکوٰۃ ادا کرے۔
حدیث نمبر: 7525
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لَوْنَيْنِ مِنَ التَّمْرِ الْجُعْرُورِ وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ وَكَانَ نَاسٌ يَتَيَمَّمُونَ شِرَارَ ثِمَارِهِمْ فَيُخْرِجُوَنَهَا فِي الصَّدَقَةِ فَنُهُوَا عَنْ لَوْنَيْنِ مِنَ التَّمْرِ فَنَزَلَتْ {وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ} [البقرة: ٢٦٧] أَسْنَدَهُ أَبُو الْوَلِيدِ وَأَرْسَلَهُ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف اپنے والد (سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی دو قسموں: جعرور اور حبیق سے منع فرمایا، کچھ لوگ اپنے پھلوں میں سے گھٹیا پھل چھانٹ کر زکوٰۃ میں نکالتے تھے، اس لیے ان دو قسموں سے منع فرما دیا اور یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ [سورة البقرة: 267] کہ ”جو تم خرچ کرتے ہو اس میں نکمی چیز نہ ملاؤ۔“
ابو الولید نے اسے متصل سند سے بیان کیا ہے اور مسلم بن ابراہیم اور محمد بن کثیر نے اسے سلیمان بن کثیر سے مرسل بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7525]
ابو الولید نے اسے متصل سند سے بیان کیا ہے اور مسلم بن ابراہیم اور محمد بن کثیر نے اسے سلیمان بن کثیر سے مرسل بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7525]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7526
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةٍ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ هَذَا السَّخْلِ بِكَبَائِسَ، قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي الشِّيصَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَاءَ بِهَذَا؟" وَكَانَ لَا يَجِيءُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ إِلَّا نُسِبَ إِلَى الَّذِي جَاءَ بِهِ وَنَزَلَتْ {وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ} [البقرة: ٢٦٧] قَالَ: وَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجُعْرُورِ وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ أَنْ يُؤْخَذَا فِي الصَّدَقَةِ". قَالَ الزُّهْرِيُّ لَوْنَانِ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ و زکاۃ کی ادائیگی کا حکم دیا، تو ایک آدمی گھٹیا کھجوروں کا گچھا لایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور فرمایا: ”اسے کون لایا ہے؟“ اور (اس وقت) جو کوئی بھی چیز لاتا، وہ اسی کی طرف منسوب کی جاتی جو اسے لایا ہوتا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ [سورة البقرة: 267] ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھٹیا کھجور اور گدلے رنگ کی کھجوریں زکاۃ میں لینے سے منع کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7526]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7527
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ ⦗٢٣٠⦘ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَصًا، فَإِذَا أَقْنَاءُ مُعَلَّقَةٌ قِنْوٌ مِنْهَا حَشَفٌ فَطَعَنَ فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ وَقَالَ:" مَا ضَرَّ صَاحِبُ هَذِهِ لَوْ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْ هَذِهِ إِنَّ صَاحِبَ هَذِهِ لَيَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، ثُمَّ قَالَ:" وَاللهِ لَتَدَعُنَّهَا مُذَلَّلَةً أَرْبَعِينَ عَامًا لِلْعَوَافِي، ثُمَّ قَالَ:" أَتَدْرُونَ مَا الْعَوَافِي؟" قَالُوا اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" الطَّيْرُ وَالسِّبَاعُ".
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ کے ہاتھ میں عصا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لٹکتے ہوئے خوشے دیکھے تو ان کو عصا مبارک لگایا اور فرمایا: ”اس مال والے کو کوئی نقصان نہیں اگر وہ ان میں سے عمدہ کا صدقہ کرے، ان کا مالک قیامت کے دن گھٹیا کھجوریں کھائے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم اسے چالیس سال تک (پھلوں سے) لدا ہوا «عوافی» کے لیے چھوڑ دو گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو، عوافی کیا ہے؟“ تو انھوں نے کہا: «اَللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ» ”اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد پرندے اور درندے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7527]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7528
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ:" كَانَتِ الْأَنْصَارُ يُعْطُونَ فِي الزَّكَاةِ الشَّيْءَ الدُّونَ مِنَ التَّمْرِ فَنَزَلَتْ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ} [البقرة: ٢٦٧] قَالَ: فَالدُّونُ هُوَ الْخَبِيثُ وَلَوْ كَانَ لَكَ عَلَى إِنْسَانٍ شَيْءٌ فَأَعْطَاكَ شَيْئًا دُونَ فَقَدْ نَقَصَكَ بَعْضَ حَقِّكَ فَإِذَا قَبِلْتَهُ فَهُوَ الْإِغْمَاضُ".
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصاری زکوٰۃ میں کچھ گھٹیا کھجوریں بھی دے دیتے، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾ [سورة البقرة: 267] راوی بیان کرتے ہیں کہ «دُون» سے مراد نکمی گھٹیا چیز ہے؛ اگر آپ کا کسی پر حق ہے اور اس نے اس کے علاوہ دیا تو اس نے تیرے حق میں کمی کی، جب تو اسے قبول کرے گا تو یہ «اِغْمَاض» (چشم پوشی) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7528]
1580. -- باب: ما ورد في إرضاء المصدق
-- باب: زکوٰۃ وصول کرنے والے کو راضی رکھنے کے متعلق جو منقول ہے۔
حدیث نمبر: 7529
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ فَلَا يُفَارِقْكُمْ إِلَّا عَنْ رِضًا". قَالَ الشَّافِعِيُّ يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يُوَفُّوهُ طَائِعِينَ وَلَا يَلْوُوهُ لَا أَنْ يُعْطُوهُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ مَا لَيْسَ عَلَيْهِمْ، فَبِهَذَا يَأْمُرُهُمْ وَيَأْمُرُ الْمُصَدِّقَ، وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ مُحْتَمَلٌ لَوْلَا مَا فِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ مِنَ الزِّيَادَةِ.
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے پاس عاملِ زکوۃ آئے تو وہ جب تک خوش نہ ہو تم سے جدا نہ ہونے پائے (ایسا مال دو جس سے وہ خوش ہوجائے)۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: واللہ اعلم، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خوش دلی سے اسے پورا پورا ادا کریں اور ٹال مٹول نہ کریں، یہ نہیں کہ وہ اپنے اموال میں سے وہ کچھ دیں جو ان پر واجب نہیں، اسی بات کا آپ انہیں حکم دیتے ہیں اور زکوٰۃ وصول کرنے والے کو بھی۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کی یہ بات محتمل ہوتی اگر عبدالرحمن بن ہلال عبسی کی روایت میں موجود اضافہ نہ ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7529]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: واللہ اعلم، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خوش دلی سے اسے پورا پورا ادا کریں اور ٹال مٹول نہ کریں، یہ نہیں کہ وہ اپنے اموال میں سے وہ کچھ دیں جو ان پر واجب نہیں، اسی بات کا آپ انہیں حکم دیتے ہیں اور زکوٰۃ وصول کرنے والے کو بھی۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کی یہ بات محتمل ہوتی اگر عبدالرحمن بن ہلال عبسی کی روایت میں موجود اضافہ نہ ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7529]
حدیث نمبر: 7530
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي كَامِلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ يَعْنِي مِنَ الْأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَا وَيَظْلِمُونَا قَالَ:" أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنْ ظَلَمُونَا؟ قَالَ:" أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ". زَادَ عُثْمَانُ: وَإِنْ ظُلِمْتُمْ. وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ جَرِيرٌ: مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ.
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس کچھ عامل آئے ہیں جو ہمارے ساتھ ظلم و زیادتی کرتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے عاملین کو خوش کرو۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ ہم پر زیادتی بھی کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے عاملین کو خوش کرو۔“ عثمان نے یہ بات زیادہ کی: ”اگرچہ تم ظلم کیے جاؤ۔“ ابو کامل اپنی حدیث میں فرماتے ہیں کہ جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی، اس کے بعد جو بھی عامل میرے پاس سے گیا وہ مجھ سے راضی ہو کر گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7530]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7531
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَاكَ الْمُصَدِّقُ فَأَعْطِهِ صَدَقَتَكَ فَإِنِ اعْتَدَى عَلَيْكَ فَوَلِّهِ ظَهْرَكَ وَلَا تَلْعَنْهُ وَقُلِ اللهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ عِنْدَكَ مَا أَخَذَ مِنِّي". وَفِي هَذَا كَالدِّلَالَةِ عَلَى أنَّهُ رَأَى الصَّبْرَ عَلَى تَعَدِّيهِمْ، وَكَذَلِكَ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْتَغُونَ فَإِنْ عَدَلُوا فَلِأَنْفُسِهِمْ وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَيْهَا، وَقَدْ مَضَى فِي بَابِ الِاخْتِيَارِ فِي دَفْعِ الصَّدَقَةِ إِلَى الْوَالِي، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ فِي الصَّبْرِ عَلَى ظُلْمِ الْوُلَاةِ، وَذَلِكَ مَحْمُولٌ عَلَى أنَّهُ أُمِرَ بِالصَّبْرِ عَلَيْهِ إِذَا عَلِمَ أنَّهُ لَا يَلْحَقُهُ غَوْثٌ وَأَنَّ مَنْ وَلَّاهُ لَا يَقْبِضُ عَلَى يَدَيْهِ فَإِذَا كَانَ يُمْكِنُهُ الدَّفْعُ أَوْ كَانَ يَرْجُو غَوْثًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زکوٰۃ لینے والا آئے تو اسے زکوٰۃ دے دو، اگر وہ تم پر زیادتی کرتا ہے تو اس سے منہ موڑ لو مگر برا بھلا نہ کہو، بلکہ کہو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ عِنْدَكَ مَا أُخِذَ مِنِّي» ”اے میرے اللہ! میں تجھی سے اس کا اجر چاہتا ہوں جو کچھ مجھ سے لیا گیا ہے۔““
ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے درمیان رہو اور جو وہ چاہتے ہیں اس کے درمیان سے ہٹ جاؤ، اگر انصاف کریں گے تو ان کے لیے، اگر ظلم کریں گے تو عذاب انہی پر ہوگا۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے والیوں کے صبر کے بارے میں بہت سی احادیث آئی ہیں اور یہ بھی اسی پر محمول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کا حکم دیا جب کہ اس کو علم بھی ہو کہ کوئی معاون نہ ہوگا اور جو والی ہے اس کے ہاتھ کو روکا نہیں جاسکتا جب تک اس کا دفع کرنا ممکن نہ ہو یا مدد کی امید نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7531]
ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے درمیان رہو اور جو وہ چاہتے ہیں اس کے درمیان سے ہٹ جاؤ، اگر انصاف کریں گے تو ان کے لیے، اگر ظلم کریں گے تو عذاب انہی پر ہوگا۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے والیوں کے صبر کے بارے میں بہت سی احادیث آئی ہیں اور یہ بھی اسی پر محمول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کا حکم دیا جب کہ اس کو علم بھی ہو کہ کوئی معاون نہ ہوگا اور جو والی ہے اس کے ہاتھ کو روکا نہیں جاسکتا جب تک اس کا دفع کرنا ممکن نہ ہو یا مدد کی امید نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7531]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الحاكم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7532
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ فِي بَيْتِهَا وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَتَحَدَّثُونَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمْ صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا مِنَ التَّمْرِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَا وَكَذَا" فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ فُلَانًا تَعَدَّى عَلَيَّ فَأَخَذَ مِنِّي كَذَا وَكَذَا فَازْدَادَ صَاعًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَكَيْفَ إِذَا سَعَى عَلَيْكُمْ مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي؟" فَخَاضَ النَّاسُ وَبَهَرَ الْحَدِيثُ حَتَّى قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ كَانَ رَجُلًا غَائِبًا عَنْكَ فِي إِبِلِهِ وَمَاشِيَتِهِ وَزَرْعِهِ، فَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَتَعَدَّى عَلَيْهِ الْحَقُّ فَكَيْفَ يَصْنَعُ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ لَمْ يُغِيِّبْ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَتَعَدَّى عَلَيْهِ الْحَقُّ فَأَخَذَ سِلَاحَهُ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَشَهِيدٌ".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ صحابہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے، اچانک ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اتنی کھجوروں کی زکوٰۃ کتنی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: ”ایسے ایسے۔“ پھر آدمی نے کہا: فلاں نے مجھ پر زیادتی کی ہے اور اتنی اتنی زکوٰۃ لی اور ایک صاع اضافی لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ وقت کیسا ہوگا جب تم پر اس سے بھی زیادہ زیادتی کرنے والے ہوں گے؟“ تو لوگ اس بات میں گھِر گئے اور بات بڑھ گئی یہاں تک کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی آپ سے دور اپنے اونٹوں، جانوروں اور کھیتوں میں ہو اور وہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرتا رہے، پھر اس کے حق میں اس پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ کیا کرے، جب کہ وہ آپ سے دور ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ طیبِ نفس سے ادا کی اور وہ صرف اللہ کی رضا اور آخرت چاہتا ہے تو وہ اپنے مال میں سے کچھ غائب نہیں کرے گا اور وہ نماز قائم کرتا ہے، پھر اس پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اپنے اسلحے کو پکڑتا ہے پھر لڑائی کرتا ہے اور قتل کر دیا جاتا ہے تو وہ شہید ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7532]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه احمد»
الحكم على الحديث: ضعيف
1581. -- باب: زكاة الذهب.
-- باب: سونے کی زکوٰۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 7533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجُوَيْنِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ أَخْبَرَهُ أنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي ⦗٢٣٢⦘ نَارِ جَهَنَّمَ فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ كُلَّمَا رُدَّتْ أُعِيدَتْ لَهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ فَيَرَى سَبِيلَهَ إِمَّا إِلَى جَنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى نَارٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سونے اور چاندی والا اس کا حق (زکوۃ) ادا نہیں کرتا تو جب قیامت کا دن ہوگا تو اس سے جہنم کی پلیٹیں تیار کی جائیں گی، پھر انہیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا جن کے ساتھ اس کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ کو داغا جائے گا، جب بھی وہ ٹھنڈی ہوں گی تو انہیں دوبارہ پہلی حالت میں لوٹایا جائے گا۔ یہ معاملہ اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی، یہاں تک کہ لوگوں کا فیصلہ کر دیا جائے گا اور اسے اس کا ٹھکانہ جنت یا دوزخ میں دکھا دیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7533]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
1582. -- باب: نصاب الذهب وقدر الواجب فيه إذا حال عليه الحول
-- باب: سونے کے نصاب اور اس پر سال گزر جانے کی صورت میں اس میں واجب مقدار کا بیان۔
حدیث نمبر: 7534
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَسَمَّى آخَرَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنَّهُ قَالَ:" هَاتُوا إِلَيَّ رُبْعَ الْعُشُورِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ عَلَيْكَ شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ لَكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ، فَإِذَا كَانَتْ لَكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا، فَإِذَا كَانَتْ لَكَ وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا نِصْفُ دِينَارٍ فَمَا زَادَ فَبِحِسَابِ ذَلِكَ". قَالَ: وَلَا أَدْرِي أَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بِحِسَابِ ذَلِكَ أَمْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا أَنَّ جَرِيرًا قَالَ: فِي الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ. لَفْظُ حَدِيثِ بَحْرِ بْنِ نَصْرٍ وَزَادَ فِي إِسْنَادِهِ: عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ نَبْهَانَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس چوتھائی عشر لاؤ، ہر چالیس درہم میں سے ایک درہم، جب تک اس کی تعداد دو سو درہم نہ ہو جائے، اس میں زکاۃ نہیں۔ جب وہ دو سو درہم ہو جائیں اور ان پر سال گزر جائے تو ان میں پانچ درہم ہیں اور تجھ پر کوئی زکاۃ نہیں جب تک بیس دینار نہ ہو جائیں اور جب تیرے پاس بیس دینار ہو جائیں اور سال گزر جائے تو اس میں نصف دینار ہے، پھر جو زیادہ ہو تو اسی حساب سے زکاۃ ہوگی۔“ راوی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ ”زکاۃ اسی حساب سے ہوگی“ یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہی یا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کی۔ مگر جریر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث بیان کی ہے اس میں ہے کہ ”کسی بھی مال میں کوئی زکاۃ نہیں، جب تک سال نہ گزر جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7534]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ معنيٰ تخريجه كثيرا»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ