السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1588. -- باب: سياق أخبار تدل على تحريم التحلي بالذهب
-- باب: ان احادیث کا سیاق جو سونے کا زیور پہننے کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 7554
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنِ امْرَأَتِهِ، عَنْ أُخْتِ حُذَيْفَةَ قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ بِهِ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُحَلَّى ذَهَبًا تُظْهِرُهُ إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ".
سیدہ حذیفہ کی بہن رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا کہ ”اے عورتوں کی جماعت! تم چاندی کو بطور زیور کیوں نہیں پہنتیں؟ سن رکھو کہ تم میں سے کوئی عورت ایسی نہیں جو سونے کا زیور پہنتی ہے اور اسے ظاہر کرتی ہے مگر اسے اس کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7554]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7555
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَقَلَّدَتْ بِقِلَادَةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَلَّدَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِثْلَهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خَرْصًا مِنْ ذَهَبٍ جَعَلَ اللهُ فِي أُذُنِهَا مِثْلَهُ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت سونے کا ہار پہنتی ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ویسا ہی آگ کا ہار پہنائیں گے اور جس عورت نے اپنے کانوں میں سونے کی بالیاں وغیرہ پہنیں، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ویسی ہی آگ کی بالیاں پہنائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7555]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7556
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: جَاءَتِ ابْنَةُ هُبَيْرَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهَا فَتَخٌ مِنْ ذَهَبٍ أَيْ خَوَاتِيمُ ضِخَامٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُ يَدَهَا فَأَتَتْ فَاطِمَةُ تَشْكُو إِلَيْهَا، قَالَ ثَوْبَانُ: فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فَاطِمَةَ وَأَنَا مَعَهُ وَقَدْ أَخَذَتْ مِنْ عُنُقِهَا سِلْسِلَةً مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَتْ: هَذِهِ أَهْدَاهَا لِي أَبُو حَسَنٍ وَفِي يَدِهَا السِّلْسِلَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَسُرُّكِ أَنْ يَقُولَ النَّاسُ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهَا سِلْسِلَةٌ مِنْ نَارٍ؟"، فَخَرَجَ وَلَمْ يَقْعُدْ فَعَمَدَتْ فَاطِمَةُ إِلَى السِّلْسِلَةِ فَبَاعَتْهَا وَاشْتَرَتْ بِهَا نَسَمَةً وَأَعْتَقَتْهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّى فَاطِمَةَ مِنَ النَّارِ". ⦗٢٣٨⦘.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنت ہبیرہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، ان کے ہاتھ میں سونے کی بڑی انگوٹھیاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاتھ پر مار رہے تھے تو وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس شکایت لے کر آئیں۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا تو انہوں نے اس کی گردن سے سونے کی چین کو پکڑا اور کہا: یہ ابو الحسن (رضی اللہ عنہ) نے مجھے تحفہ دیا تھا اور چین ان کے ہاتھ میں تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے اچھا لگتا ہے کہ لوگ کہیں کہ فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں آگ کی چین ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل گئے اور نہ بیٹھے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وہ چین فروخت کر دی اور انہوں نے اس سے ایک غلام خرید کر آزاد کر دیا۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي نَجّٰى فَاطِمَةَ مِنَ النَّارِ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو آگ سے بچا لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7556]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7557
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ أَنَّ جَدَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ حَدَّثَهُ أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. فَهَذِهِ الْأَخْبَارُ وَمَا وَرَدَ فِي مَعْنَاهَا تَدُلُّ عَلَى تَحْرِيمِ التَّحَلِّي بِالذَّهَبِ.
زید ابوالسلام اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ابواسماء نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا اور اسی معنیٰ میں حدیث بیان کی۔ یہ تمام اخبار ان معانی میں وارد ہوئی ہیں جو سونے کے زیور بنانے کی حرمت پر دلالت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7557]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
1589. -- باب: سياق أخبار تدل على إباحته للنساء.
-- باب: ان احادیث کا سیاق جو عورتوں کے لیے اس (سونے کے زیور) کے مباح ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 7558
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَرِيرُ وَالذَّهَبُ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي حِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ". وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریشم اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7558]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الترمذي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7559
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ نُفَيْلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِلْيَةٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ أَهْدَاهَا لَهُ، فِيهَا خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ، قَالَتْ: فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ مُعْرِضًا عَنْهُ أَوْ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ دَعَا أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ بِنْتِ ابْنَتِهِ زَيْنَبَ، فَقَالَ:" تَحَلَّيْ هَذَا يَا بُنَيَّةِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجاشی کی طرف سے زیور کا تحفہ آیا، جس میں سونے کی انگوٹھی تھی اور اس میں حبشی نگینہ تھا، وہ فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکڑی سے، یا (اس سے) اعراض کرتے ہوئے، یا اپنی کسی انگلی سے پکڑا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی تھیں، سے فرمایا: ”اے بچی! یہ تو پہن لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7559]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7560
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُزَكِّي، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نُبَيْطٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَّى أُمَّهَا وَخَالَتَهَا، وَكَانَ أَبُوهُمَا أَبُو أُمَامَةَ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ أَوْصَى بِهِمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَلَّاهُمَا رِعَاثًا مِنْ تِبْرٍ ذَهَبٍ فِيهِ لُؤْلُؤٌ، قَالَتْ زَيْنَبُ: وَقَدْ أَدْرَكْتُ الْحُلِيَّ أَوْ بَعْضَهُ.
زینب بنت نبیط رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ماں اور خالہ کو زیور پہنایا اور ان کے والد ابو امامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وصیت کی تھی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو سونے کی بالیاں پہنائیں جن میں موتیوں کا جڑاؤ تھا۔ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے بھی وہ زیور پایا یا اس کا کچھ حصہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7560]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7561
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نُبَيْطٍ، عَنْ أُمِّهَا، قَالَتْ:" كُنْتُ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأُخْتَايَ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَلِّينَا الذَّهَبَ وَاللُّؤْلُؤَ". ⦗٢٣٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عُبَيْدٍ فَكَانَ يُحَلِّينَا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: رِعَاثًا مِنْ ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤٍ، وَقَالَ صَفْوَانُ: يُحَلِّينَا التِّبْرَ وَاللُّؤْلُؤَ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ أَبُو عَمْرٍو: وَاحِدُ الرِّعَاثِ رَعَثَةٌ وَرَعْثَةٌ، وَهُوَ الْقُرْطُ فَهَذِهِ الْأَخْبَارُ وَمَا وَرَدَ فِي مَعْنَاهَا تَدُلُّ عَلَى إِبَاحَةِ التَّحَلِّي بِالذَّهَبِ لِلنِّسَاءِ، وَاسْتَدْلَلْنَا بِحُصُولِ الْإِجْمَاعِ عَلَى إِبَاحَتِهِ لَهُنَّ عَلَى نَسْخِ الْأَخْبَارِ الدَّالَّةِ عَلَى تَحْرِيمِهِ فِيهِنَّ خَاصَّةً وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اپنی والدہ سے نقل فرماتی ہیں کہ میں اور میری دونوں بہنیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش میں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سونے اور موتیوں کا زیور پہنایا کرتے تھے۔
ابو عبید کی ایک روایت میں ہے کہ وہ ہمیں زیور پہنایا کرتے تھے۔ ابن جعفر کہتے ہیں: سونے اور موتیوں کی بالیاں۔ صفوان کہتے ہیں: ہمیں زیور پہناتے «تِبْرٍ» اور «لُؤْلُؤٍ» سے۔ ابو عمرو کہتے ہیں: «رِعَاثٍ» کی واحد «رَعْثَةٌ» ہے۔ «رَعْثَةٌ» «قُرْطٌ» ہے (بالی) سو یہ اخبار اور جو ان کے ہم معنیٰ وارد ہوئی ہیں عورتوں کے لیے سونے کے زیور کو جائز قرار دیتی ہیں، اور عورتوں کے لیے اس کی اباحت پر اجماع ہو جانے سے ہم نے یہ استدلال کیا ہے کہ خاص طور پر عورتوں کے حق میں اس کی حرمت پر دلالت کرنے والی احادیث منسوخ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7561]
ابو عبید کی ایک روایت میں ہے کہ وہ ہمیں زیور پہنایا کرتے تھے۔ ابن جعفر کہتے ہیں: سونے اور موتیوں کی بالیاں۔ صفوان کہتے ہیں: ہمیں زیور پہناتے «تِبْرٍ» اور «لُؤْلُؤٍ» سے۔ ابو عمرو کہتے ہیں: «رِعَاثٍ» کی واحد «رَعْثَةٌ» ہے۔ «رَعْثَةٌ» «قُرْطٌ» ہے (بالی) سو یہ اخبار اور جو ان کے ہم معنیٰ وارد ہوئی ہیں عورتوں کے لیے سونے کے زیور کو جائز قرار دیتی ہیں، اور عورتوں کے لیے اس کی اباحت پر اجماع ہو جانے سے ہم نے یہ استدلال کیا ہے کہ خاص طور پر عورتوں کے حق میں اس کی حرمت پر دلالت کرنے والی احادیث منسوخ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7561]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
1590. -- باب: ما ورد فيما يجوز للرجل أن يتحلى به من خاتمه وحلية سيفه ومصحفه إذا كان من فضة.
-- باب: مرد کے لیے ان چیزوں کو بطور زیور استعمال کرنے کے جواز کے متعلق جو منقول ہے جیسے اس کی انگوٹھی، اس کی تلوار کا زیور اور اس کے مصحف (قرآن مجید) کا زیور، جب وہ چاندی کا ہو۔
حدیث نمبر: 7562
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بِخَاتَمٍ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَهُ فِي يَدِهِ الْيُمْنَى وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَزَعَهُ، فَقَالَ:" لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا فَاتَّخَذَهُ مِنْ وَرِقٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَهْلِ بْنِ عُثْمَانَ.
سیدنا نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سونے کی انگوٹھی لائی گئی، اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں ہاتھ میں رکھا اور اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف کیا تو لوگوں نے سونے کی انگوٹھیاں بنالیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو اسے اتار دیا اور فرمایا: ”میں اسے کبھی بھی نہیں پہنوں گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7562]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7563
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ فَاتَّخَذَ النَّاسُ فَرَمَى بِهِ، وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ أَوْ فِضَّةٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ يَحْيَى.
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنائی اور اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف کیا تو لوگوں نے بھی بنوالیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پھینک دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7563]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح