السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1574. جماع أبواب صدقة الورق -- باب: نصاب الورق
چاندی کی زکوٰۃ کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: چاندی کے نصاب کا بیان۔
حدیث نمبر: 7515
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکاۃ نہیں اور پانچ اونٹ سے کم میں بھی زکاۃ نہیں اور پانچ وسق کھجور سے کم میں بھی زکاۃ نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7515]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7516
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمُ الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ" فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ وَقَالَ: نَعَمْ أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ أَنْبَأَ جَدِّي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى هَذِهِ الطُّرُقَ مَحْفُوظَةٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَصَارَ الْحَدِيثُ عَنْهُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ وَيَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”پانچ وسق کھجور سے کم میں زکاۃ نہیں اور نہ ہی پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکاۃ ہے اور پانچ اونٹ سے کم میں بھی زکاۃ نہیں۔“ ابو اسامہ نے اس بات پر اقرار لیا تو انہوں نے کہا: ہاں ایسے ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7516]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
1575. -- باب: تفسير الأوقية
-- باب: اوقیہ کی تفسیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 7517
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الصَّقْرِ بْنِ النَّضْرِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ:" كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ اثْنَيْ عَشَرَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا"، قَالَتْ:" أَتَدْرِي مَا النَّشُّ؟" قُلْتُ: لَا، قَالَتْ:" نِصْفُ أُوقِيَّةٍ فَتِلْكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَابْنِ أَبِي عُمَرَ عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْأُوقِيَّةَ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا وَأَنَّ خَمْسَ أَوَاقٍ مِائَتَا دِرْهَمٍ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حق مہر کتنا مقرر کیا کرتے تھے؟ سیدہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کا جو مہر مقرر کرتے وہ بارہ اوقیہ اور آدھا اوقیہ تھا، پھر سیدہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا تو جانتا ہے کہ «النَّشُّ» ”نش“ کیا ہے؟ میں نے کہا: نہیں میں نہیں جانتا، تو انہوں نے فرمایا: اس سے مراد نصف اوقیہ ہے، تو یہ رقم پانچ سو درہم بنی اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیویوں کے لیے مہر تھا۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے صحیح میں اسحاق بن ابراہیم سے نقل کیا ہے، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اور پانچ اوقیہ دو سو درہم ہوتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7517]
امام مسلم رحمہ اللہ نے صحیح میں اسحاق بن ابراہیم سے نقل کیا ہے، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اور پانچ اوقیہ دو سو درہم ہوتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7517]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7518
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَدَقَةَ فِي الرِّقَةِ حَتَّى تَبْلُغَ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاندی میں زکوۃ نہیں حتیٰ کہ وہ دو سو درہم نہ ہوجائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7518]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه حاكم»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
1576. -- باب: قدر الواجب في الورق إذا بلغ نصابا
-- باب: جب چاندی نصاب کو پہنچ جائے تو اس میں واجب زکوٰۃ کی مقدار کا بیان۔
حدیث نمبر: 7519
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ هَذَا الْكِتَابَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ:" بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذِهِ فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا اللهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللهُ بِهَا رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ سَأَلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا وَمَنْ ⦗٢٢٧⦘ سَأَلَ فَوْقَهَا فَلَا يُعْطِ" قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى آخِرِهِ وَفِيهِ وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مَالٌ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةً فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب انہیں بحرین کی طرف روانہ کیا تو یہ تحریر انہیں دی: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”یہ زکاۃ کا وہ نصاب ہے جو اللہ نے اہل اسلام پر فرض کیا ہے اور جس کا اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا، سو جس سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے وہ ادا کر دے اور جس سے اس مقدار (نصاب) سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے وہ ادا نہ کرے“ اور آخر تک پوری حدیث بیان کی اور فرمایا: ”چاندی میں چوتھائی عشر ہے، جب وہ ایک سو نوے ہو تو اس میں زکاۃ نہیں مگر جو اس کا مالک دینا چاہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7519]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معنيٰ»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7520
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ هَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ عَلَى كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ".
عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف کر دی ہے، سو تم چاندی کی زکاۃ چالیس درہم میں سے ایک درہم ادا کرو اور ایک سو نوے درہموں میں زکاۃ نہیں، جب تک وہ مکمل دو سو نہ ہو جائیں۔ جب دو سو ہو جائیں تو ان میں پانچ درہم زکاۃ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7520]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ معنيٰ تخريجه»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
1577. -- باب: وجوب ربع العشر في نصابها وفيما زاد عليه وإن قلت الزيادة.
-- باب: چاندی کے نصاب میں اور اس سے زائد مقدار میں ربع عشر (چالیسواں حصہ) کے واجب ہونے کا بیان، خواہ وہ زیادتی کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 7521
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ حَدَّثَنِي النُّفَيْلِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ زُهَيْرٌ: أَحْسِبُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنَّهُ قَالَ:" هَاتُوا رُبْعَ الْعُشْرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَكِنْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ شَيْءٌ حَتَّى تَتِمَّ مِائَتَا دِرْهَمٍ، فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ فَمَا زَادَ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنِ النُّفَيْلِيِّ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے مگر زہیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چوتھائی عشر لاؤ، یعنی ہر چالیس درہم میں سے ایک درہم، لیکن جب تک وہ دو سو درہم نہ ہو جائیں، تم پر کچھ زکاۃ نہیں۔ سو جب دو سو درہم ہو جائیں تو اس میں سے پانچ درہم ادا کرنا ہوں گے۔ اسی حساب سے زکاۃ ادا کی جائے گی جس قدر بھی زیادہ ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7521]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ معني تخريجه»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 7522
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" مَا زَادَ عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَبِالْحِسَابِ".
سیدنا نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جو مقدار اس سے زیادہ ہو گی اسی حساب سے اس کی زکاۃ ادا کی جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7522]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7523
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ قَالُونُ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ:" مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ ⦗٢٢٨⦘ مُحَمَّدِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَخَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ فِي مَشْيَخَةٍ جُلَّةٍ سِوَاهُمْ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِي الشَّيْءِ فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ أَكْثَرِهِمْ وَأَفْضَلِهِمْ رَأْيًا فَذَكَرَ أَحْكَامًا قَالَ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: لَا صَدَقَةَ فِي تَمْرٍ وَلَا حَبٍّ حَتَّى يَبْلُغَ خَرْصُ التَّمْرِ أَوْ مَكِيلَةُ الْحَبِّ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ بِصَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانُوا لَا يَرَوْنَ الزَّكَاةَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْفَوَاكِهِ إِلَّا فِي الْعِنَبِ إِذَا بَلَغَ خُرْصُهُ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ بِصَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانُوا يَرَوْنَ فِي كُلِّ نَيِّفٍ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالتَّمْرِ وَالْحَبِّ وَالْعِنَبِ صَدَقَةً، وَلَوْ زَادَ مُدًّا أَوْ أَكْثَرَ أَوْ أَقَلَّ وَلَمْ يَكُونُوا يَرَوْنَ فِي نَيِّفِ الْمَاشِيَةِ صَدَقَةَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ". وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أنَّهُ قَالَ: مَا زَادَ يَعْنِي عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَبِالْحِسَابِ.
عبدالرحمن بن ابی الزناد اپنے والد (ابو الزناد رحمہ اللہ) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ہمارے جن فقہاء کو میں نے پایا جن کے قول پر بات ختم ہوتی ہے، ان میں سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، قاسم بن محمد، ابوبکر بن عبدالرحمن، خارجہ بن زید بن ثابت، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ اور سلیمان بن یسار ہیں، اور ان کے علاوہ دیگر بڑے بڑے مشائخ بھی، اور بعض اوقات کسی مسئلے میں ان کا اختلاف ہوتا تو ہم ان میں سے اکثر اور رائے میں افضل لوگوں کا قول لے لیتے۔ پھر انہوں نے کچھ احکام ذکر کیے اور فرمایا: وہ کہا کرتے تھے کہ کھجور میں زکاۃ نہیں اور نہ ہی غلے میں، یہاں تک کہ کھجور کا اندازہ یا غلے کا ماپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع کے ساتھ پانچ وسق تک پہنچ جائے، اور وہ پھلوں میں سے کسی چیز میں زکاۃ نہیں سمجھتے تھے سوائے انگور کے، جب اس کا اندازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع کے ساتھ پانچ وسق تک پہنچ جائے، اور وہ سمجھتے تھے کہ سونے، چاندی، کھجور، غلہ اور انگور میں (نصاب سے) زائد ہر مقدار میں زکاۃ ہے، اگرچہ ایک مد زیادہ ہو یا اس سے زیادہ یا کم، اور وہ مویشیوں: اونٹ، گائے اور بکری میں (نصاب سے) زائد مقدار پر زکاۃ نہیں سمجھتے تھے۔
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جو دو سو سے زائد ہوں گے تو اسی حساب سے زکاۃ ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7523]
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جو دو سو سے زائد ہوں گے تو اسی حساب سے زکاۃ ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7523]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطحاوي»
الحكم على الحديث: صحيح
1578. -- باب: ذكر الخبر الذي روي في وقص الورق.
-- باب: اس حدیث کا ذکر جو چاندی کے وقص (دو نصابوں کی درمیانی مقدار جس پر زکوٰۃ نہیں) کے بارے میں مروی ہے۔
حدیث نمبر: 7524
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْمِنْهَالُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ نَجِيحٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَهُ حِينَ وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَنْ لَا يَأْخُذَ مِنَ الْكُسُورِ شَيْئًا إِذَا كَانَتِ الْوَرِقُ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ أَخَذَ مِنْهَا خَمْسَةَ دَرَاهِمَ وَلَا يَأْخُذُ مِمَّا زَادَ شَيْئًا حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَيَأْخُذُ مِنْهَا دِرْهَمًا. ⦗٢٢٩⦘ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ عَقِيبَ هَذَا الْحَدِيثِ: الْمِنْهَالُ بْنُ الْجَرَّاحِ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ وَهُوَ أَبُو الْعَطُوفِ وَاسْمُهُ الْجَرَّاحُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَكَانَ ابْنُ إِسْحَاقَ يَقْلِبُ اسْمَهُ إِذَا رَوَى عَنْهُ وَعُبَادَةُ بْنُ نُسَيٍّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ قَالَ الشَّيْخُ: مِثْلُ هَذَا لَوْ صَحَّ لَقُلْنَا بِهِ وَلَمْ نُخَالِفْهُ إِلَّا أَنَّ إِسْنَادَهُ ضَعِيفٌ جِدًّا وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا تو حکم دیا: ”جب تک نصاب مکمل نہ ہو تو کم میں زکات نہیں جب تک چاندی کے دو سو درہم نہ ہوجائیں، اگر اس سے زیادہ ہوجائیں تو بھی کچھ نہ لیا جائے جب تک وہ چالیس درہم نہ ہوجائیں تو پھر ان میں سے ایک درہم لیا جائے۔“
علی بن عمر (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: منہال بن جراح متروک الحدیث ہے، وہ ابو العطوف ہے اور اس کا نام جراح بن منہال ہے، ابن اسحاق جب اس سے روایت کرتے تو اس کا نام الٹ دیتے تھے، اور عبادہ بن نسی نے معاذ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔
شیخ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ اگر بات صحیح ہوتی تو ہم بھی کہہ دیتے اور مخالفت نہ کرتے مگر اس کی سند بہت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7524]
علی بن عمر (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: منہال بن جراح متروک الحدیث ہے، وہ ابو العطوف ہے اور اس کا نام جراح بن منہال ہے، ابن اسحاق جب اس سے روایت کرتے تو اس کا نام الٹ دیتے تھے، اور عبادہ بن نسی نے معاذ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔
شیخ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ اگر بات صحیح ہوتی تو ہم بھی کہہ دیتے اور مخالفت نہ کرتے مگر اس کی سند بہت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7524]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ دار قطني»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً