السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3146. جماع أبواب عدة المدخول بها -- باب: ما جاء في قوله عز وجل: والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ومن قال: الأقراء الأطهار وما دل عليه من الآثار
مدخول بہا عورت کی عدت کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور طلاق یافتہ عورتیں تین قروء تک اپنے آپ کو روکے رکھیں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، ان علماء کا موقف کہ ”اقراء“ سے مراد طہر (پاکی) ہے، اور اس پر دلالت کرنے والے آثار کا بیان۔
حدیث نمبر: 15388
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الصَّيْدَلَانِيُّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" إِذَا دَخَلَتْ فِي الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَلَا رَجْعَةَ لَهُ عَلَيْهَا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، جب عورت تیسرے حیض میں داخل ہو جائے تو اس (خاوند) کے لیے اس پر رجوع نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15388]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15389
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا نا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، نا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَيَّاطُ نا الْحُسَيْنُ بْنُ الْجُنَيْدِ الدَّامِغَانِيُّ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: ⦗٦٨٣⦘ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ:" إِذَا قُطِرَتْ مِنَ الْمُطَلَّقَةِ قَطْرَةٌ مِنَ الدَّمِ فِي الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدِ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا".
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: جب مطلقہ عورت سے تیسرے حیض کے خون کا قطرہ گر جائے تو اس کی عدت ختم ہو گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15389]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15390
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَنِ الْمَرْأَةِ إِذَا طُلِّقَتْ فَدَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَالَا:" قَدْ بَانَتْ مِنْهُ وَحَلَّتْ".
فضیل بن ابی عبداللہ، جو مہری کے مولیٰ ہیں، سے روایت ہے کہ انہوں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ اور سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ جب کسی عورت کو طلاق دے دی جائے اور وہ تیسرے حیض کے خون میں داخل ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ ان دونوں نے فرمایا: وہ بائنہ ہو گئی اور وہ حلال ہو گئی، (یعنی اس کی عدت ختم ہو گئی)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15390]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15391
قَالَ: وَنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ ذَلِكَ" إِذَا دَخَلَتِ الْمُطَلَّقَةُ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَانَتْ مِنْ زَوْجِهَا وَلَا مِيرَاثَ بَيْنَهُمَا وَلَا رَجْعَةَ لَهُ عَلَيْهَا" قَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: وَذَاكَ الْأَمْرُ الَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
قاسم بن محمد، سالم بن عبداللہ، ابوبکر بن عبدالرحمن، سلیمان بن یسار اور ابن شہاب رحمہم اللہ سے روایت ہے کہ وہ سب اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ جب مطلقہ عورت تیسرے حیض کے خون میں داخل ہو جائے تو وہ اپنے خاوند سے جدا ہو گئی۔ ان دونوں کے درمیان وراثت نہیں اور خاوند کے لیے اس پر رجوع کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شہر کے اہل علم کو اسی پر پایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15391]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3147. -- باب: من قال الأقراء الحيض
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک ”اقراء“ سے مراد حیض ہے۔
حدیث نمبر: 15392
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي جَدِّي، نا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، اسْتُحِيضَتْ فَسَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سُئِلَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا" أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا وَأَنْ تَغْتَسِلَ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ وَتَسْتَدْفِرَ بِثَوْبٍ وَتُصَلِّيَ" فَقِيلَ لِسُلَيْمَانَ: أَيَغْشَاهَا زَوْجُهَا؟ فَقَالَ: إِنَّمَا نَقُولُ فِيمَا سَمِعْنَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ إِلَّا أَنَّهُمَا ذَكَرَا أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَفْتَتْ لَهَا وَاحْتَجَّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ بِهَذِهِ الرِّوَايَةِ وَزَعَمَ أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ رَوَاهُ عَنْ أَيُّوبَ هَكَذَا، قَالَ الشَّافِعِيُّ: مَا حَدَّثَ سُفْيَانُ بِهَذَا قَطُّ إِنَّمَا قَالَ سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَدَعُ الصَّلَاةَ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ" أَوْ قَالَ: أَيَّامَ أَقْرَائِهَا الشَّكُّ مِنْ أَيُّوبَ لَا يُدْرَى قَالَ هَذَا وَهَذَا، فَجَعَلَهُ هُوَ أَحَدَهُمَا عَلَى نَاحِيَةٍ مِمَّا يُرِيدُ وَلَيْسَ هَذَا بِصِدْقٍ.
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہو گئیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا ان کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ”اپنے «قُرُوءٍ» (حیض) کے ایام میں نماز چھوڑ دیں اور اس کے علاوہ دنوں میں غسل کریں، کپڑے کے ساتھ لنگوٹ باندھیں اور نماز پڑھیں۔“ سلیمان رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ کیا ان کا خاوند ان سے جماع کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: بے شک ہم اس کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو ہم نے سنا۔ اور اس کو اسی طرح عبدالوارث اور حماد بن زید رحمہما اللہ نے ایوب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے مگر ان دونوں نے ذکر کیا ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کے لیے فتویٰ طلب کیا اور ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ رحمہ اللہ نے اسی حدیث کو دلیل بنایا ہے اور ان کا گمان یہ ہے کہ اس حدیث کو سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے ایوب رحمہ اللہ سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سفیان نے اس کو کبھی بیان نہیں کیا۔
سفیان رحمہ اللہ ایوب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، وہ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دنوں اور راتوں کی تعداد میں نماز کو چھوڑ دو جن میں تو حائضہ ہوتی ہے“ یا کہا ”اپنے «قُرُوءٍ» کے دنوں میں“ (یہ شک ایوب کی طرف سے ہے، معلوم نہیں انہوں نے یہ کہا یا وہ)۔ تو انہوں نے (ابراہیم نے) ان دونوں میں سے ایک کو اپنی مرضی کی طرف کر لیا اور یہ درست نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15392]
سفیان رحمہ اللہ ایوب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، وہ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دنوں اور راتوں کی تعداد میں نماز کو چھوڑ دو جن میں تو حائضہ ہوتی ہے“ یا کہا ”اپنے «قُرُوءٍ» کے دنوں میں“ (یہ شک ایوب کی طرف سے ہے، معلوم نہیں انہوں نے یہ کہا یا وہ)۔ تو انہوں نے (ابراہیم نے) ان دونوں میں سے ایک کو اپنی مرضی کی طرف کر لیا اور یہ درست نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15392]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15393
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا اسْتُحِيضَتْ فَسَأَلَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ" فَأَمَرَهَا أَنْ" تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا وَأَيَّامَ حَيْضِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ اسْتَدْفَرَتْ" كَذَا وَجَدْتُ وَالصَّوَابُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا أَوْ أَيَّامَ حَيْضِهَا بِالشَّكِّ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ وَرَوَاهُ أَبُو عُبَيْدِ اللهِ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ سُفْيَانَ فَقَالَ لِتَنْظُرْ عِدَّةَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ وَقَدْرَهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ، كَذَلِكَ كَمَا رَوَاهُ نَافِعٌ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَنَافِعٌ أَحْفَظُ عَنْ سُلَيْمَانَ مِنْ أَيُّوبَ وَهُوَ يَقُولُ: مِثْلُ أَحَدِ مَعْنَيَيْ أَيُّوبَ اللَّذَيْنِ رَوَاهُمَا قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا اللَّفْظُ الَّذِي احْتَجُّوا بِهِ فِي أَحَادِيثَ ذَكَرْنَاهَا فِي كِتَابِ الْحَيْضِ وَتِلْكَ الْأَحَادِيثُ فِي نَفْسِهَا مُخْتَلَفٌ فِيهَا فَبَعْضُ الرُّوَاةِ قَالَ: فِيهَا أَيَّامُ أَقْرَائِهَا وَبَعْضُهُمْ قَالَ: فِيهَا أَيَّامُ حَيْضِهَا أَوْ مَا فِي مَعْنَاهُ وَكُلُّ ذَلِكَ مِنْ جِهَةِ الرُّوَاةِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ يُعَبِّرُ عَنْهُ بِمَا يَقَعُ لَهُ وَالْأَحَادِيثُ الصِّحَاحُ مُتَّفِقَةٌ عَلَى الْعِبَارَةِ عَنْهُ بِأَيَّامِ الْحَيْضِ دُونَ لَفْظِ الْأَقْرَاءِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش مستحاضہ ہو گئی، اس کے لیے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے، وہ تو رگ ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ اپنے قروء یا اپنے حیض کے دنوں میں نماز کو چھوڑ دے۔ پھر وہ غسل کرے اور نماز پڑھے اور اگر خون کا غلبہ ہو تو لنگوٹ باندھ لے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ الفاظ جن سے انہوں نے دلیل لی ہے، ان احادیث میں مروی ہیں جنہیں ہم نے کتاب الحیض میں ذکر کیا ہے اور ان احادیث میں خود اختلاف ہے، بعض راویوں نے ان میں «أَيَّامُ أَقْرَائِهَا» کہا ہے اور بعض نے «أَيَّامُ حَيْضِهَا» یا اس کے ہم معنی الفاظ کہے ہیں، اور یہ سب راویوں کی طرف سے ہے، ہر ایک نے اسے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے، اور صحیح احادیث اسے «أَيَّامُ الْحَيْضِ» (حیض کے دنوں) سے تعبیر کرنے پر متفق ہیں نہ کہ «الْأَقْرَاءِ» کے لفظ سے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15393]
شیخ فرماتے ہیں: یہ الفاظ جن سے انہوں نے دلیل لی ہے، ان احادیث میں مروی ہیں جنہیں ہم نے کتاب الحیض میں ذکر کیا ہے اور ان احادیث میں خود اختلاف ہے، بعض راویوں نے ان میں «أَيَّامُ أَقْرَائِهَا» کہا ہے اور بعض نے «أَيَّامُ حَيْضِهَا» یا اس کے ہم معنی الفاظ کہے ہیں، اور یہ سب راویوں کی طرف سے ہے، ہر ایک نے اسے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے، اور صحیح احادیث اسے «أَيَّامُ الْحَيْضِ» (حیض کے دنوں) سے تعبیر کرنے پر متفق ہیں نہ کہ «الْأَقْرَاءِ» کے لفظ سے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15393]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15394
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي ثُمَّ تَرَكَنِي حَتَّى رَدَدْتُ أَبِي وَوَضَعْتُ مَائِي وَخَلَعْتُ ثِيَابِي فَقَالَ: قَدْ رَاجَعْتُكِ قَدْ رَاجَعْتُكِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ: مَا تَقُولُ فِيهَا؟ قَالَ: أَرَى أَنَّهُ" أَحَقُّ بِهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ وَتَحِلُّ لَهَا الصَّلَاةُ"، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ.
سیدنا علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک عورت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، اس نے کہا: میرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی، پھر مجھے چھوڑ دیا یہاں تک کہ میں نے اپنا دروازہ بند کر لیا اور (غسل کے لیے) اپنا پانی رکھ لیا اور اپنے کپڑے اتارے، پھر اس نے کہا: میں نے تجھ سے رجوع کیا، میں نے تجھ سے رجوع کیا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا، اور وہ ان کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے: آپ اس عورت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ اس کا خاوند اس کا زیادہ حق دار ہے جب تک کہ وہ تیسرے حیض کا غسل نہ کر لے اور اس کے لیے نماز حلال ہو جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا بھی اس کے بارے میں یہی خیال ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15394]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا، اور وہ ان کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے: آپ اس عورت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ اس کا خاوند اس کا زیادہ حق دار ہے جب تک کہ وہ تیسرے حیض کا غسل نہ کر لے اور اس کے لیے نماز حلال ہو جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا بھی اس کے بارے میں یہی خیال ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15394]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15395
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فِي الْوَاحِدَةِ وَالثِّنْتَيْنِ".
ابن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے جب تک کہ وہ تیسرے حیض کا غسل نہ کر لے، ایک اور دو طلاقوں کی صورت میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15395]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15396
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: أَرْسَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ رَاجَعَهَا حِينَ دَخَلَتْ فِي الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ قَالَ:" إِنِّي أَرَى أَنَّهُ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ تَغْتَسِلْ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ وَتَحِلُّ لَهَا الصَّلَاةُ" قَالَ: لَا أَعْلَمُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَّا أَخَذَ بِذَلِكَ.
ابو عبیدہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے میرے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کی طرف قاصد بھیجا کہ وہ ان سے اس آدمی کے بارے میں سوال کرے جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر جب وہ تیسرے حیض میں داخل ہوئی تو اس نے اس سے رجوع کر لیا۔ انہوں نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ وہ اس کا زیادہ حق رکھتا ہے جب تک کہ وہ تیسرے حیض کا غسل نہ کرے اور اس کے لیے نماز پڑھنا حلال نہ ہو جائے۔ ابو عبیدہ فرماتے ہیں: میں یہی جانتا ہوں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسی کو اختیار کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15396]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15397
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، نا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللهِ، وَأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ فَتَحِيضُ ثَلَاثَ حِيَضٍ فَيُرَاجِعُهَا قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ، قَالَ:" هُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ تَغْتَسِلْ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ".
عمر، عبداللہ اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہم سے اس شخص کے بارے میں روایت ہے جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر وہ حائضہ ہو گئی، جب وہ تیسرے حیض کو پہنچی تو اس نے اس سے رجوع کر لیا، اس کے غسل کرنے سے پہلے فرماتے ہیں کہ وہ اس کا زیادہ حق دار ہے جب تک وہ تیسرے حیض کا غسل نہ کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15397]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح