السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3149. -- باب: تصديق المرأة فيما يمكن فيه انقضاء عدتها
-- باب: جس کم از کم مدت میں عدت کا مکمل ہونا ممکن ہو، اس بارے میں عورت کے قول کی تصدیق کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15408
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَبُو إِبْرَاهِيمَ الزَّاهِدِيُّ، نا النُّفَيْلِيُّ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ:" أَدْنَى وَقْتِ الْحَيْضِ يَوْمٌ" قَالَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ إِلَى هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ كَانَ يَذْهَبُ الْإِمَامُ الْوَرِعُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حیض کا کم سے کم وقت ایک دن ہے۔ ابو ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ان دونوں حدیثوں کی طرف امام التقویٰ احمد بن حنبل رحمہ اللہ گئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15408]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3150. -- باب: عدة من تباعد حيضها
-- باب: اس عورت کی عدت کا بیان جس کا حیض تاخیر کا شکار ہو جائے۔
حدیث نمبر: 15409
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَنَّهُ قَالَ:" كَانَتْ عِنْدَ جَدِّهِ حَبَّانَ امْرَأَتَانِ لَهُ هَاشِمِيَّةٌ وَأَنْصَارِيَّةٌ فَطَلَّقَ الْأَنْصَارِيَّةَ وَهِيَ تُرْضِعُ فَمَرَّتْ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ هَلَكَ عَنْهَا وَلَمْ تَحِضْ، فَقَالَتْ: أَنَا أَرِثُهُ لَمْ أَحِضْ فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" فَقَضَى لَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمِيرَاثِ" فَلَامَتِ الْهَاشِمِيَّةُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ابْنُ عَمِّكِ هُوَ أَشَارَ إِلَيْنَا بِهَذَا يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ".
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ ان کے دادا حبان کے پاس ان کی دو بیویاں تھیں: ایک ہاشمیہ اور دوسری انصاریہ۔ انہوں نے انصاریہ کو طلاق دے دی اور وہ حالتِ رضاعت میں تھی، اس پر سال گزر گیا، پھر وہ فوت ہو گئے اور وہ حائضہ نہ ہوئی تھی۔ اس انصاریہ نے کہا: میں اس کی وارث ہوں، کیونکہ میں حائضہ نہیں ہوئی۔ ان دونوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف جھگڑا پیش کیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس (انصاریہ) کے لیے وراثت کا فیصلہ کر دیا۔ ہاشمیہ عورت نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ملامت کی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرے چچا کے بیٹے ہی نے ہمیں اس کا مشورہ دیا تھا، یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15409]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15410
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ حِبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَحِيحٌ وَهِيَ تُرْضِعُ ابْنَتَهُ فَمَكَثَتْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا لَا تَحِيضُ يَمْنَعُهَا الرَّضَاعُ أَنْ تَحِيضَ ثُمَّ مَرِضَ حَبَّانُ بَعْدَ أَنْ طَلَّقَهَا سَبْعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ ثَمَانِيَةً فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ امْرَأَتَكَ تُرِيدُ أَنْ تَرِثَ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: احْمِلُونِي إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَحَمَلُوهُ إِلَيْهِ فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ امْرَأَتِهِ وَعِنْدَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ⦗٦٨٩⦘ فَقَالَ لَهُمَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا تَرَيَانِ؟ فَقَالَا:" لَا نَرَى أَنَّهَا تَرِثُهُ إِنْ مَاتَ وَيَرِثُهَا إِنْ مَاتَتْ فَإِنَّهَا لَيْسَتْ مِنَ الْقَوَاعِدِ اللَّاتِي قَدْ يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ وَلَيْسَتْ مِنَ الْأَبْكَارِ اللَّاتِي لَمْ يَبْلُغْنَ الْمَحِيضَ ثُمَّ هِيَ عَلَى عِدَّةِ حَيْضِهَا مَا كَانَ مِنْ قَلِيلٍ أَوْ كَثِيرٍ" فَرَجَعَ حَبَّانُ إِلَى أَهْلِهِ فَأَخَذَ ابْنَتَهُ، فَلَمَّا فَقَدَتِ الرَّضَاعَ حَاضَتْ حَيْضَةً ثُمَّ حَاضَتْ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ تُوُفِّيَ حَبَّانُ قَبْلَ أَنْ تَحِيضَ الثَّالِثَةَ فَاعْتَدَّتْ عِدَّةَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَوَرِثَتْ.
عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انصار میں ایک شخص کو حبان بن منقذ کہا جاتا تھا، اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی اس حالت میں کہ وہ تندرست تھا اور وہ اس کی بیٹی کو دودھ پلا رہی تھی۔ وہ سترہ مہینے رکی رہی، اس کو حیض نہ آیا اور اس کے حیض کو دودھ پلانے نے روکا ہوا تھا۔ پھر حبان اس کو طلاق دینے کے سات یا آٹھ مہینے بعد بیمار ہو گیا۔ اس کو کہا گیا: تیری بیوی چاہتی ہے کہ وہ تیری وارث بنے۔ اس نے اپنے گھر والوں کو کہا: مجھے عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے چلو، پس انہوں نے اس کو عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اٹھایا۔ اس نے اپنی بیوی کا معاملہ عثمان رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا اور ان کے پاس علی اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما تھے۔ ان دونوں کو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے؟ ان دونوں نے کہا: ”ہمارا خیال ہے کہ اگر یہ فوت ہوجائے تو وہ اس کی وارث بنے گی اور اگر وہ عورت فوت ہوجائے تو وہ اس کا وارث بنے گا، یہ ان میں سے نہیں ہے جو حیض سے ناامید ہوجاتی ہیں اور نہ ہی یہ ان باکرہ میں سے ہے جو حیض کو نہیں پہنچی، پھر وہ اپنے حیض کی عدت پر ہے، وہ کم ہو یا زیادہ۔“ پھر حبان نے اپنے اہل کی طرف رجوع کیا اور اپنی بیٹی کو (رضاعت چھڑانے کے لیے) پکڑا، پھر جب رضاعت ختم ہوئی تو وہ حائضہ ہوئی، پھر وہ دوسری مرتبہ حائضہ ہوئی، پھر حبان اس کے تیسرا حیض آنے سے پہلے فوت ہوگئے۔ پس اس نے وہ عدت گزاری جو عدت خاوند کے فوت ہونے پر ہے اور وہ اس کی وراثت کی حقدار بنی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15410]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15411
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ أنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، وَالْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ حَاضَتْ حَيْضَةً أَوْ حَيْضَتَيْنِ ثُمَّ ارْتَفَعَ حَيْضُهَا سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ مَاتَتْ فَجَاءَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ:" حَبَسَ اللهُ عَلَيْكَ مِيرَاثَهَا فَوَرَّثَهُ مِنْهَا".
علقمہ بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق یا دو طلاقیں دیں، پھر وہ ایک یا دو مرتبہ حائضہ ہوئی، پھر اس کا حیض سترہ یا اٹھارہ ماہ تک بند رہا، پھر وہ فوت ہو گئی، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: اللہ نے اس کی وراثت کو تیرے لیے روک رکھا ہے۔ پھر انہوں نے انہیں اس کا وارث قرار دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15411]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15412
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ طُلِّقَتْ فَحَاضَتْ حَيْضَةً أَوْ حَيْضَتَيْنِ ثُمَّ رَفَعَتْهَا حَيْضَةٌ فَإِنَّهَا تَنْتَظِرُ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ فَإِنْ بَانَ بِهَا حَمْلٌ فَذَاكَ وَإِلَّا اعْتَدَّتْ بَعْدَ التِّسْعَةِ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ حَلَّتْ" فَإِلَى ظَاهِرِ هَذَا كَانَ يَذْهَبُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ ثُمَّ رَجَعَ عَنْهُ فِي الْجَدِيدِ إِلَى قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَحَمَلَ كَلَامَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى كَلَامِ عَبْدِ اللهِ فَقَالَ: قَدْ يَحْتَمِلُ قَوْلُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَكُونَ فِي الْمَرْأَةِ قَدْ بَلَغَتِ السِّنَّ الَّتِي مَنْ بَلَغَهَا مِنْ نِسَائِهَا يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ فَلَا يَكُونُ مُخَالِفًا لِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَذَلِكَ وَجْهٌ عِنْدَنَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس عورت کو بھی طلاق دی جائے، پھر وہ ایک یا دو مرتبہ حائضہ ہو، پھر اس کا حیض بند ہو جائے، تو وہ نو مہینے انتظار کرے، تو اگر اس کا حمل ظاہر ہو جائے تو یہ ہے، ورنہ وہ نو مہینوں کے بعد تین مہینے عدت گزارے پھر حلال ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15412]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3151. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: {ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق الله في أرحامهن}
-- باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور ان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اسے چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کیا ہے“ کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: Q15413
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ بَيِّنًا فِي الْآيَةِ بِالتَّنْزِيلِ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ لِلْمُطَلَّقَةِ أَنْ تَكْتُمَ مَا فِي رَحِمِهَا مِنَ الْمَحِيضِ وَذَلِكَ يَحْتَمِلُ الْحَمْلَ مَعَ الْحَيْضِ، وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ⦗690⦘: {وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ} [البقرة: 228] الْمَرْأَةُ الْمُطَلَّقَةُ لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَقُولَ أَنَا حُبْلَى وَلَيْسَتْ بِحُبْلَى وَلَا لَسْتُ بِحُبْلَى وَهِيَ حُبْلَى وَلَا أَنَا حَائِضٌ وَلَيْسَتْ بِحَائِضٍ وَلَا لَسْتُ بِحَائِضٍ وَهِيَ حَائِضٌ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور آیت کے نزول سے یہ بات واضح تھی کہ طلاق یافتہ عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے رحم میں موجود حیض کو چھپائے، اور اس میں حیض کے ساتھ حمل کا بھی احتمال ہے۔“
اور سعید بن سالم سے، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے مجاہد رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کے فرمان: ﴿وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ﴾ ”اور ان کے لیے حلال نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحموں میں جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھپائیں۔“ [سورة البقرة: 228] کے بارے میں فرمایا: ”طلاق یافتہ عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ کہے: میں حاملہ ہوں، حالانکہ وہ حاملہ نہ ہو، اور نہ یہ کہ میں حاملہ نہیں ہوں، حالانکہ وہ حاملہ ہو، اور نہ یہ کہ میں حیض والی ہوں، حالانکہ وہ حیض والی نہ ہو، اور نہ یہ کہ میں حیض والی نہیں ہوں، حالانکہ وہ حیض والی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: Q15413]
اور سعید بن سالم سے، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے مجاہد رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کے فرمان: ﴿وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ﴾ ”اور ان کے لیے حلال نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحموں میں جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھپائیں۔“ [سورة البقرة: 228] کے بارے میں فرمایا: ”طلاق یافتہ عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ کہے: میں حاملہ ہوں، حالانکہ وہ حاملہ نہ ہو، اور نہ یہ کہ میں حاملہ نہیں ہوں، حالانکہ وہ حاملہ ہو، اور نہ یہ کہ میں حیض والی ہوں، حالانکہ وہ حیض والی نہ ہو، اور نہ یہ کہ میں حیض والی نہیں ہوں، حالانکہ وہ حیض والی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: Q15413]
حدیث نمبر: 15413
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي قَوْلِهِ: {وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ} [البقرة: ٢٢٨] قَالَ:" أَكْثَرُ مَا عُنِيَ بِهِ الْحَيْضُ".
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ﴾ [سورة البقرة: 228] کے بارے میں فرماتے ہیں: اس سے اکثر جو مراد لیا گیا ہے وہ حیض ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15413]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15414
قَالَ: وَنا سَعِيدٌ، نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ:" الْحَيْضُ".
عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حیض ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15414]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15415
قَالَ: وَنا سَعِيدٌ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ:" أَنْ تَقُولَ إِنِّي حَائِضٌ وَلَيْسَتْ بِحَائِضٍ أَوْ تَقُولَ: إِنِّي لَسْتُ بِحَائِضٍ وَهِيَ حَائِضٌ أَوْ تَقُولَ: إِنِّي حُبْلَى وَلَيْسَتْ بِحُبْلَى أَوْ تَقُولَ: إِنِّي لَسْتُ بِحُبْلَى وَهِيَ حُبْلَى، وَكُلُّ ذَلِكَ فِي بُغْضِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا وَحُبِّهِ".
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ کہے: میں حائضہ ہوں اور حائضہ نہ ہو، یا وہ کہے کہ میں حائضہ نہیں ہوں حالانکہ وہ حائضہ ہو، یا وہ یہ کہے کہ میں حاملہ ہوں اور وہ حاملہ نہ ہو، یا وہ کہے کہ میں حاملہ نہیں ہوں حالانکہ وہ حاملہ ہو۔ یہ تمام (عمل) عورت کے اپنے خاوند سے بغض یا اس سے محبت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15415]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
3152. -- باب: عدة التي يئست من المحيض والتي لم تحض
-- باب: حیض سے مایوس ہو جانے والی (سن یاس کو پہنچنے والی) اور جسے ابھی حیض نہ آیا ہو ان کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 15416
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، نا إِسْحَاقُ، أنا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي عَدَدٍ مِنْ عِدَدِ النِّسَاءِ قَالُوا: قَدْ بَقِيَ عَدَدٌ مِنْ عِدَدِ النِّسَاءِ لَمْ يَذْكُرْنَ الصِّغَارَ وَالْكِبَارَ اللَّائِي انْقَطَعَ عَنْهُنَّ الْحَيْضُ وَذَوَاتُ الْأَحْمَالِ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْآيَةَ الَّتِي فِي النِّسَاءِ {وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهَنَّ} [الطلاق: ٤] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَوْلُهُ {إِنِ ارْتَبْتُمْ} [الطلاق: ٤] فَلَمْ تَدْرُوا مَا تَعْتَدُّ غَيْرُ ذَوَاتِ الْأَقْرَاءِ.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ آیت نازل ہوئی جو سورہ بقرہ میں عورتوں کی عدت کے بارے میں ہے تو انہوں نے کہا: تحقیق عورتوں کی عدت میں سے کچھ اقسام باقی رہ گئی ہیں: غیر بالغ عورتیں، وہ بوڑھیاں جن کا حیض آنا ختم ہو چکا ہے اور حمل والیاں (حاملہ عورتیں)؛ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جو عورتوں کے بارے میں ہے: ﴿وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ [سورة الطلاق: 4] ۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إِنِ ارْتَبْتُمْ» سے مراد ہے ”اگر تم نہ جانو کہ جو عورتیں قروء (حیض) والی نہیں ہیں وہ کیا شمار کریں یعنی کتنی عدت گزاریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15416]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف