السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3153. -- باب: السن التي يجوز أن تحيض فيها المرأة
-- باب: اس عمر کا بیان جس میں عورت کو حیض آنا ممکن ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: Q15417
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَعْجَلُ مَنْ سَمِعْتُ بِهِ مِنَ النِّسَاءِ يَحِضْنَ نِسَاءُ تِهَامَةَ يَحِضْنَ لِتِسْعِ سِنِينَ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے جن عورتوں کے بارے میں سنا ہے ان میں سب سے جلدی حیض آنے والی تہامہ کی عورتیں ہیں، جنہیں نو سال کی عمر میں حیض آ جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: Q15417]
حدیث نمبر: 15417
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَحْمُودٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ⦗٦٩١⦘ الْمُهَلَّبِيُّ قَالَ:" أَدْرَكْتُ فِينَا يَعْنِي الْمَهَالِبَةَ امْرَأَةً صَارَتْ جَدَّةً وَهِيَ ابْنَةُ ثَمَانِ عَشْرَةَ وَلَدَتْ لِتِسْعِ سِنِينَ ابْنَةً فَوَلَدَتِ ابْنَتُهَا لِتِسْعِ سِنِينَ فَصَارَتْ جَدَّةً وَهِيَ ابْنَةُ ثَمَانِ عَشْرَةَ".
عباد بن عباد مہلبی سے روایت ہے کہ میں نے اپنے علاقے یعنی مہالبہ میں ایک عورت کو پایا، وہ اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی۔ اس نے نو سال کی عمر میں لڑکی کو جنم دیا اور اس کی بیٹی نے بھی نو سال کی عمر میں بچے کو جنم دیا، پس وہ اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15417]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15418
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا اللَّيْثُ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ حَدَّثَهُ، عَنْ رَجُلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ" ابْنَةً لَهُ حَمَلَتْ وَهِيَ ابْنَةُ عَشْرِ سِنِينَ".
لیث رحمہ اللہ سے روایت ہے، ابوصالح رحمہ اللہ نے انہیں ایک آدمی سے حدیث بیان کی اور کہا کہ اس نے انہیں خبر دی کہ اس کی بیٹی حاملہ ہوگئی اور اس کی عمر دس سال تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15418]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15419
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ، أنا أَبُو أَحْمَدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَدَائِنِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، نا بَكْرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْأَحْدَبُ الْخَوْلَانِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي كَاتِبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ،" أَنَّ امْرَأَةً فِي جِوَارِهِمْ حَمَلَتْ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ" وَقَدْ ذَكَرْنَا سَائِرَ الْحِكَايَاتِ فِيهِ فِي كِتَابِ الْحَيْضِ.
ابو سعید خولانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے ابن وہب رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: مجھے لیث رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی، لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے میرے کاتب عبداللہ بن صالح رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی کہ ان کے پڑوس میں ایک عورت حاملہ ہو گئی اور اس کی عمر نو سال تھی اور ہم نے ان تمام حکایات کو کتاب الحیض میں ذکر کر دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15419]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3154. -- باب: عدة الحامل المطلقة
-- باب: طلاق یافتہ حاملہ عورت کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: Q15420
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الْمُطَلَّقَاتِ: {وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: 4] .
اللہ تبارک و تعالیٰ نے طلاق یافتہ عورتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ ”اور حمل والی عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جن دیں۔“ [سورة الطلاق: 4] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: Q15420]
حدیث نمبر: 15420
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي اللَّيْثِ حَدَّثَهُمْ، نا عُبَيْدُ اللهِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَاءَتْهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَتْ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَطِيبَ نَفْسِي بِتَطْلِيقَةٍ فَفَعَلَ وَهِيَ حَامِلٌ فَذَهَبَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَجَاءَ وَقَدْ وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ مَا صَنَعَ فَقَالَ:" بَلَغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ فَاخْطُبْهَا إِلَى نَفْسِهَا"، فَقَالَ خَدَعَتْنِي خَدَعَهَا اللهُ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الرَّقِّيِّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ، وَرُوِيَ فِي مَعْنَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ وہ آئیں اور وہ وضو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: میں پسند کرتی ہوں کہ اپنے آپ کو طلاق کے ساتھ پاک کر لوں، تو انہوں نے طلاق دے دی اور وہ حاملہ تھیں۔ وہ مسجد کی طرف چلے گئے اور جب وہ واپس آئے تو وہ اسے جنم دے چکی تھیں جو ان کے پیٹ میں تھا۔ پس وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس معاملے کا ذکر کیا جو ہوا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتاب اس کی مدت کو پہنچ گئی ہے“ (یعنی اس کی عدت ختم ہوگئی ہے)، ”پس اسے اس کی ذات کے لیے پیغامِ نکاح دو۔“ انہوں نے کہا: اس نے مجھے دھوکا دیا، اللہ اس کے ساتھ دھوکا کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15420]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3155. -- باب: المرأة تضع سقطا
-- باب: اس عورت کی عدت کا بیان جس کا حمل (نامکمل) گر گیا ہو۔
حدیث نمبر: 15421
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالَا: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي ⦗٦٩٢⦘ بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ تَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ تَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللهُ الْمَلَكَ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ ثُمَّ يُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ كَتْبِ رِزْقِهِ، وَعَمَلِهِ، وَأَجَلِهِ، وَشَقِيٍّ هُوَ أَمْ سَعِيدٍ، فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ، مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری تخلیق کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع کیا جاتا ہے، پھر وہ اسی طرح لوتھڑا بن جاتا ہے، پھر وہ اسی طرح ہڈی اور گوشت بن جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتے ہیں، وہ اس میں اس کی روح کو پھونکتا ہے۔ پھر اسے چار کلمات کا حکم دیا جاتا ہے: اس کے رزق کے لکھنے کا، اس کے عمل کا، اس کی موت کے لکھنے کا اور (یہ کہ) وہ نیک بخت ہوگا یا بدبخت۔ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے! بے شک تمہارا کوئی شخص جہنم والوں کے عمل کرتا ہے اور اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر کتاب سبقت لے جاتی ہے، اس کا خاتمہ اہل جنت کے عمل کے ساتھ کر دیا جاتا ہے اور وہ اس میں داخل ہو جاتا ہے، اور بے شک تمہارا کوئی شخص اہل جنت کے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے، اور اس پر کتاب سبقت لے جاتی ہے اور اس کا خاتمہ اہل جہنم کے عمل کے ساتھ کر دیا جاتا ہے اور وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔“
اس کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15421]
اس کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15421]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15422
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا حَجَّاجٌ، وَأَبُو النُّعْمَانِ قَالَا: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا يَقُولُ أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ أَيْ رَبِّ عَلَقَةٌ أَيْ رَبِّ مُضْغَةٌ فَإِذَا أَرَادَ اللهُ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهَا قَالَ: يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الْأَجَلُ فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي كَامِلٍ عَنْ حَمَّادٍ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے رحم کو فرشتے کے حوالہ کر دیا ہے، وہ کہتا ہے: اے میرے رب! نطفہ ہے، اے میرے رب! لوتھڑا ہے، اے میرے رب! بوٹی ہے۔ پس جب اللہ ارادہ کرتا ہے کہ وہ اس کو پیدا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے وہ فرشتہ کہتا ہے: اے میرے رب! کیا مذکر یا مؤنث؟ کیا بدبخت ہو یا نیک بخت ہو؟ پس اس کا رزق کتنا ہو، اس کی موت کا کیا وقت ہو؟ یہ سب کچھ اس کی ماں کے پیٹ میں ہی لکھ دیا جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15422]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15423
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُوَكَّلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ مَاذَا أَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ؟ فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيُكْتَبَانِ ثُمَّ يَقُولُ: أَيْ رَبِّ ذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيُكْتَبَانِ فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ وَأَثَرُهُ ثُمَّ تُرْفَعُ الصُّحُفُ فَلَا يُزَادُ فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے کو نطفے پر نگران مقرر کیا جاتا ہے، اس کے بعد جب وہ رحم میں چالیس یا پینتالیس دن تک قرار پکڑتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے: اے میرے رب! کیا یہ بدبخت ہے یا نیک بخت؟ پس اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، پھر لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ بدبخت ہے یا نیک بخت، پھر وہ کہتا ہے: اے میرے رب! مرد ہو یا عورت ہو؟ پس اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ مرد ہے یا عورت، پھر اس کا عمل اور اس کی موت کا وقت بھی لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا رزق اور اس نے جو اثرات پیچھے چھوڑنے ہیں، یہ بھی لکھ دیا جاتا ہے، پھر صحیفے اٹھا دیے جاتے ہیں اور نہ اس میں کچھ کمی ہوتی ہے اور نہ کچھ زیادتی۔“
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15423]
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15423]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15424
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، نا أَبُو طَاهِرٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ:" الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ" فَأَتَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ فَحَدَّثَهُ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَقَالَ كَيْفَ يَشْقَى رَجُلٌ يُغَيَّرُ عَمَلُهُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ أَتَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَةِ ⦗٦٩٣⦘ ثِنْتَانِ وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً بَعَثَ اللهُ إِلَيْهَا مَلَكًا فَصَوَّرَهَا وَخَلَقَ سَمْعَهَا وَبَصَرَهَا وَجِلْدَهَا وَلَحْمَهَا وَعَظْمَهَا ثُمَّ قَالَ: يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ اللهُ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَجَلُهُ فَيَقُولُ رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ رِزْقُهُ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ ثُمَّ يَخْرُجُ بِالصَّحِيفَةِ فِي يَدِهِ فَلَا يَزِيدُ عَلَى أَمْرِهِ وَلَا يَنْقُصُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ.
ابوزبیر مکی سے روایت ہے کہ عامر بن واثلہ نے ان کو حدیث بیان کی کہ انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ سے ہی بدبخت ہے اور نیک بخت وہ ہوتا ہے جس کو اس کے علاوہ نصیحت کی جائے۔ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے آیا، اس کا نام حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ تھا۔ انہوں (عامر) نے ان کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول بیان کیا اور کہا کہ کس طرح آدمی بغیر عمل کیے بدبخت ہو سکتا ہے؟ اس آدمی نے ان سے کہا: کیا تو اس پر تعجب کرتا ہے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جب نطفہ پر بیالیس دن گزر جاتے ہیں تو اس کی طرف اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتا ہے، وہ اس کی صورت بناتا ہے، اس کے کان بناتا ہے، اس کی آنکھیں بناتا ہے اور اس کی کھال، اس کی ہڈیاں اور اس کا گوشت بناتا ہے۔ پھر کہتا ہے: «أَيْ رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟» ”اے میرے رب! مذکر ہو یا مونث؟“ تیرا رب جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے: «أَيْ رَبِّ أَجَلُهُ؟» ”اے میرے رب! اس کی موت کا وقت؟“ تیرا رب فرماتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور فرشتہ لکھ دیتا ہے۔ پھر فرشتہ کہتا ہے: «أَيْ رَبِّ رِزْقُهُ؟» ”اے میرے رب! اس کا رزق کتنا ہے؟“ تیرا رب جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے اور فرشتہ (اس کو) لکھ دیتا ہے۔ پھر وہ (فرشتہ) صحیفہ اپنے ہاتھ میں لے کر نکلتا ہے، پس اس معاملے پر نہ کچھ زیادتی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی کمی ہوتی ہے۔“
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15424]
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15424]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح