🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3147. -- باب: من قال الأقراء الحيض
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک ”اقراء“ سے مراد حیض ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15398
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: ثَلَاثَةُ قُرُوءٍ، ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ثَلَاثُ حِيَضٍ.
ہم کو حجاج رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی، فرماتے ہیں ابن جریج رحمہ اللہ نے کہا: تین قروء، اور ابن جریج رحمہ اللہ، عطاء الخراسانی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «ثَلَاثُ حِيَضٍ» یعنی تین حیض (تین قروء سے مراد تین حیض)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15398]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15399
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ نا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ:" الْأَقْرَاءُ الْحَيْضُ" عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَإِنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ «الْقُرُوءُ» سے مراد اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حیض ہے، رہا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول تو انہوں نے یہ قول کہ «الْقُرُوءُ» سے مراد طہر ہے، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے لیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15399]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15400
قَالَ: وَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ مِثْلَ قَوْلِ زَيْدٍ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، زید اور عائشہ رضی اللہ عنہما کے قول کی طرح ہی فرمایا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15400]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15401
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ الْأَصْمَعِيُّ وَغَيْرُهُ يُقَالُ: قَدْ" أَقْرَأَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا دَنَا حَيْضُهَا وَأَقْرَأَتْ إِذَا دَنَا طُهْرُهَا" قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فَاصِلُ الْأَقْرَاءِ إِنَّمَا هِيَ وَقْتُ الشَّيْءِ إِذَا حَضَرَ قَالَ الْأَعْشَى يَمْدَحُ رَجُلًا بِغَزْوَةٍ غَزَاهَا:.
ہمیں علی بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے خبر دی کہ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصمعی رحمہ اللہ اور دوسروں نے کہا کہ «أَقْرَأَتِ الْمَرْأَةُ» اس وقت ہی کہا جاتا ہے جب حیض کا وقت قریب ہو اور اس وقت بھی کہا جاتا ہے جب طہر قریب ہو۔ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اصل میں «أَقْرَأَ» کسی چیز کے وقت کا حاضر ہونا ہے۔ جیسے ایک شاعر ایک آدمی کی غزوہ میں تعریف کرتا ہے:
«مُوَرَّثَةً مَالاً وَفِي الذِّكْرِ رِفْعَةً لِمَا ضَاعَ فِيهَا مِنْ قُرُوءِ نِسَائِكَا»
”مال کی طلب و حصول اور نام کی بلندی میں اس سبب سے ضائع ہو گئے ان کی عورتوں کے قروء“، تو یہاں «قُرُوء» سے مراد طہر ہے کیونکہ عورتوں سے وطی طہر ہی میں ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15401]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3148. -- باب: لا تعتد بالحيضة التي وقع فيها الطلاق
-- باب: جس حیض کے دوران طلاق واقع ہوئی ہو اسے عدت میں شمار نہیں کیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15402
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" إِذَا طَلَّقَهَا وَهِيَ حَائِضٌ لَمْ تَعْتَدَّ بِتِلْكَ الْحَيْضَةِ" قَالَ يَحْيَى: وَهَذَا غَرِيبٌ لَيْسَ يُحَدِّثُ بِهِ إِلَّا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَى مَعْنَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمِصْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ وَرُوِّينَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ نُفَسَاءُ لَمْ تَعْتَدَّ بِدَمِ نِفَاسِهَا فِي عِدَّتِهَا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب (خاوند) اسے حالتِ حیض میں طلاق دے تو وہ عورت اس حیض کو (عدت میں) شمار نہیں کرے گی۔ یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ غریب ہے، اس کو صرف عبدالوہاب ثقفی نے ہی بیان کیا ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا معنی یحییٰ بن ایوب مصری نے عبیداللہ سے بیان کیا ہے اور ہم کو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی گئی کہ انہوں نے فرمایا کہ جب آدمی اپنی عورت کو حالتِ نفاس میں طلاق دے تو نفاس کا خون عدت میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15402]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15403
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، نا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، نا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، نا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، نا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا ⦗٦٨٧⦘ يَقُولُونَ" مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ أَوْ هِيَ نُفَسَاءُ فَعَلَيْهَا ثَلَاثُ حِيَضٍ سِوَى الدَّمِ الَّذِي هِيَ فِيهِ".
فقہاء اہل مدینہ سے روایت ہے کہ جو شخص اپنی عورت کو حالتِ حیض یا حالتِ نفاس میں طلاق دے دے تو اس عورت پر تین حیض عدت ہے، اس خون کے علاوہ جس میں اس کو طلاق دی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15403]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3149. -- باب: تصديق المرأة فيما يمكن فيه انقضاء عدتها
-- باب: جس کم از کم مدت میں عدت کا مکمل ہونا ممکن ہو، اس بارے میں عورت کے قول کی تصدیق کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15404
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ:" إِنَّ مِنَ الْأَمَانَةِ أَنَّ الْمَرْأَةَ اؤْتُمِنَتْ عَلَى فَرْجِهَا" وَرَوَى الشَّافِعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: اؤْتُمِنَتِ الْمَرْأَةُ عَلَى فَرْجِهَا.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ امانت میں سے ہے، عورت اپنی شرمگاہ کی امین ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے سفیان سے بیان کیا، وہ عمرو بن دینار سے روایت کرتے ہیں کہ عبید بن عمیر نے فرمایا: عورت اپنی شرمگاہ پر امین مقرر کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15404]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15405
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي فَجَاءَتْ بَعْدَ شَهْرَيْنِ فَقَالَتْ: قَدِ انْقَضَتْ عِدَّتِي وَعِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شُرَيْحٌ فَقَالَ: قُلْ فِيهَا، قَالَ: وَأَنْتَ شَاهِدٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: نَعَمْ قَالَ:" إِنْ جَاءَتْ بِبِطَانَةٍ مِنْ أَهْلِهَا مِنَ الْعُدُولِ يَشْهَدُونَ أَنَّهَا حَاضَتْ ثَلَاثَ حِيَضٍ وَإِلَّا فَهِيَ كَاذِبَةٌ"، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" قَالُونُ، بِالرُّومِيَّةِ أَيْ أَصَبْتَ".
شعبی سے روایت ہے کہ ایک شخص علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ وہ دو مہینوں بعد آئی اور اس نے کہا: میری عدت ختم ہو گئی ہے اور علی رضی اللہ عنہ کے پاس قاضی شریح بھی موجود تھے، علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اس کے بارے میں فیصلہ کہو۔ شریح نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کی موجودگی میں؟ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ شریح نے کہا: اگر یہ اپنے گھر والوں میں سے قریبی عادل لوگ لے آئے جو اس بات کی گواہی دیں کہ اسے تین حیض آ چکے ہیں (تو اس کی بات درست ہے)، ورنہ یہ جھوٹی ہے۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: «قَالُونُ» یعنی رومی زبان میں: تم نے درست کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15405]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15406
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قِرَاءَةً أنا أَبُو الْوَلِيدِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا ⦗٦٨٨⦘ حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، نا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، أَنَّ شُرَيْحًا رُفِعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فَحَاضَتْ فِي خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ لَيْلَةً ثَلَاثَ حِيَضٍ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الشَّعْبِيِّ فَرَفَعَ ذَلِكَ شُرَيْحٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ:" سَلُوا عَنْهَا جَارَاتِهَا فَإِنْ كَانَ حَيْضُهَا كَذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حسن عُرنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ شریح رحمہ اللہ کی طرف ایک عورت لائی گئی، اس کو اس کے خاوند نے طلاق دی تھی، وہ پینتیسویں رات تیسرے حیض کو حائضہ ہوئی، انہوں نے شعبی رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح اس کا ذکر کیا، اس (معاملے) کو شریح رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف اٹھایا، انہوں نے کہا: اس کے بارے میں اس کی ہمسائیوں سے سوال کرو، پس اگر اس کا حیض اسی طرح ہے تو اس کی عدت ختم ہو گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15406]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15407
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُخَرِّمِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا حَفْصٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ:" أَكْثَرُ الْحَيْضِ خَمْسَةَ عَشَرَ".
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ زیادہ سے زیادہ حیض (کے ایام) پندرہ دن ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15407]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں