السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3730. -- باب: الذمي يسلم فيرفع عنه الجزية ولا يعشر ماله إذا اختلف بالتجارة
-- باب: ذمی کے اسلام لانے پر اس سے جزیہ معاف ہو جائے گا اور اگر وہ تجارت کے لیے مختلف علاقوں میں جائے تو اس کے مال پر عشر (دسواں حصہ) نہیں لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18708
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: ثنا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ، حَدَّثَنِي مَسْرُوقٌ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الشُّعُوبِ أَسْلَمَ فَكَانَتْ تُؤْخَذُ مِنْهُ الْجِزْيَةُ، ⦗٣٣٦⦘ فَأَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ، فَكَتَبَ: أَنْ لَا يُؤْخَذَ مِنْهُ الْجِزْيَةُ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الشُّعُوبُ الْعَجَمُ هَهُنَا.
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عجمی ایمان لایا جس سے جزیہ لیا جاتا تھا، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکھ دیا کہ اس سے جزیہ نہ لیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18708]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3731. جماع أبواب الشرائط التي يأخذها الإمام على أهل الذمة، وما يكون منهم نقضا للعهد -- باب: يشترط عليهم أن لا يذكروا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا بما هو أهله
0ان شرائط کے ابواب کا مجموعہ جو امام اہل ذمہ سے طے کرے گا، اور ان کے کن کاموں سے عہد شکنی سمجھی جائے گی۔ -- باب: ان پر یہ شرط لگائی جائے گی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا ذکر صرف اسی شان سے کریں گے جس کے آپ ﷺ لائق ہیں۔
حدیث نمبر: 18709
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ، عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ، فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ، فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا.
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتی تھی اور بد زبانی کرتی تھی، ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے مار دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون باطل فرما دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18709]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18710
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْفَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: قَالَ نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ: ثنا الْمُبَارَكُ، أنبأ حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، أَنَّ عَرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيَّ مَرَّ بِهِ نَصْرَانِيٌّ فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَتَنَاوَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَهُ، فَرَفَعَ عَرَفَةُ يَدَهُ فَدَقَّ أَنْفَهُ، فَرُفِعَ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ عَمْرٌو: أَعْطَيْنَاهُمُ الْعَهْدَ. فَقَالَ عَرَفَةُ: مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَكُونَ أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ يُظْهِرُوا شَتْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ نُخَلِّيَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ كَنَائِسِهِمْ، يَقُولُونَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُمْ، وَأَنْ لَا نُحَمِّلَهُمْ مَا لَا يَطِيقُونَ، وَإِنْ أَرَادَهُمْ عَدُوٌّ قَاتَلْنَاهُمْ مِنْ وَرَائِهِمْ، وَنُخَلِّيَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَحْكَامِهِمْ، إِلَّا أَنْ يَأْتُوا رَاضِينَ بِأَحْكَامِنَا، فَنَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِحُكْمِ اللهِ وَحُكْمِ رَسُولِهِ، وَإِنْ غَيَّبُوا عَنَّا لَمْ نَعْرِضْ لَهُمْ فِيهَا. قَالَ عَمْرٌو: صَدَقْتَ وَكَانَ عَرَفَةُ لَهُ صُحْبَةٌ.
کعب بن علقمہ فرماتے ہیں کہ غرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ کا ایک عیسائی کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے اسے اسلام کی دعوت دی۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کچھ باتیں کیں تو غرفہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ناک پر تھپڑ رسید کر دیا۔ معاملہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا: ہم نے ان کو عہد دے رکھا ہے، تو غرفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی پناہ کہ ہم نے انہیں اس شرط پر عہد دیا ہو کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلم کھلا گالیاں دیں۔ ہم نے تو انہیں صرف اس بات پر عہد دیا ہے کہ ہم انہیں ان کے گرجا گھروں کے ساتھ چھوڑ دیں، ان میں جو چاہیں کہیں، اور ہم ان پر وہ بوجھ نہ ڈالیں جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے، اور اگر کوئی دشمن ان پر حملہ کرنا چاہے تو ہم ان کی طرف سے لڑیں، اور ہم انہیں ان کے اپنے احکام پر چھوڑ دیں، مگر یہ کہ وہ ہمارے احکام پر راضی ہو کر آئیں تو ہم ان کے درمیان اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق فیصلہ کریں، اور اگر وہ ہم سے الگ رہیں تو ہم ان کے درپے نہ ہوں گے۔ تو عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے سچ کہا ہے، اور غرفہ رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18710]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
3732. -- باب: يشترط عليهم أن أحدا من رجالهم إن أصاب مسلمة بزنا أو اسم نكاح، أو قطع الطريق على مسلم، أو فتن مسلما عن دينه، أو أعان المحاربين على المسلمين، فقد نق
-- باب: ان پر یہ شرط عائد کی جائے گی کہ اگر ان کے مردوں میں سے کسی نے کسی مسلمان عورت سے زنا یا نکاح کے نام پر تعلق قائم کیا، یا کسی مسلمان کا راستہ روکا (رہزنی کی)، یا کسی مسلمان کو اس کے دین سے برگشتہ کرنے کا فتنہ برپا کیا، یا مسلمانوں کے خلاف حربی کافروں کی مدد کی، تو اس نے عہد توڑ دیا۔
حدیث نمبر: Q18711
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيِّ عَنْهُ: لَمْ يَخْتَلِفْ أَهْلُ السِّيرَةِ عِنْدَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَجَمَاعَةٌ مِمَّنْ رَوَى السِّيرَةَ، أَنَّ بَنِي قَيْنُقَاعَ كَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَادَعَةٌ وَعَهْدٌ، فَأَتَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى صَائِغٍ مِنْهُمْ لِيَصُوغَ لَهَا حُلِيًّا، وَكَانَتِ الْيَهُودُ مُعَادِيَةً لِلْأَنْصَارِ، فَلَمَّا جَلَسَتْ عِنْدَ الصَّائِغِ عَمَدَ إِلَى بَعْضِ حَدَائِدِهِ فَشَدَّ بِهِ أَسْفَلَ ذَيْلِهَا وَجَيْبَهَا وَهِيَ لَا تَشْعُرُ، فَلَمَّا قَامَتِ الْمَرْأَةُ وَهِيَ فِي سُوقِهِمْ نَظَرُوا إِلَيْهَا مُنْكَشِفَةً فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ مِنْهَا وَيَسْخَرُونَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَابَذَهُمْ وَجَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ نَقْضًا لِلْعَهْدِ، وَذَكَرَ حَدِيثَ بَنِي النَّضِيرِ وَمَا صَنَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْيَهُودِيِّ الَّذِي اسْتَكْرَهَ الْمَرْأَةَ فَوَطِئَهَا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے، ابو عبدالرحمن بغدادی کی ان سے روایت کے مطابق، فرمایا: ”ہمارے ہاں کے اہل سیرت، یعنی ابن اسحاق، موسیٰ بن عقبہ اور سیرت روایت کرنے والوں کی ایک جماعت کا اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ بنو قینقاع اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صلح اور معاہدہ تھا، پھر انصار کی ایک عورت ان کے ایک سنار کے پاس آئی تاکہ وہ اس کے لیے زیور بنائے، اور یہودی انصار کے دشمن تھے، چنانچہ جب وہ عورت سنار کے پاس بیٹھی تو اس نے اپنے کسی لوہے کے اوزار سے اس (کے کپڑے) کے دامن کے نچلے حصے کو اس کے گریبان کے ساتھ باندھ دیا اور اسے پتا بھی نہ چلا، پھر جب وہ عورت ان کے بازار میں کھڑی ہوئی تو انہوں نے اسے بے پردہ دیکھا اور اس پر ہنسنے اور اس کا مذاق اڑانے لگے، یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور ان کی اس حرکت کو عہد شکنی قرار دیا۔“
اور (امام شافعی رحمہ اللہ نے) بنو نضیر کا واقعہ بھی ذکر کیا، اور وہ کارروائی بھی ذکر کی جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس یہودی کے بارے میں کی تھی جس نے ایک عورت کو مجبور کر کے اس سے زنا کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: Q18711]
اور (امام شافعی رحمہ اللہ نے) بنو نضیر کا واقعہ بھی ذکر کیا، اور وہ کارروائی بھی ذکر کی جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس یہودی کے بارے میں کی تھی جس نے ایک عورت کو مجبور کر کے اس سے زنا کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: Q18711]
حدیث نمبر: 18711
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: هَذَا حَدِيثُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى بَنِي النَّضِيرِ يَسْتَعِينُهُمْ فِي عَقْلِ الْكِلَابِيِّينَ، وَكَانُوا زَعَمُوا قَدْ دَسُّوا إِلَى قُرَيْشٍ حِينَ نَزَلُوا بِأُحُدٍ فِي قِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَضُّوهُمْ عَلَى الْقِتَالِ، وَدَلُّوهُمْ عَلَى الْعَوْرَةِ، فَلَمَّا كَلَّمَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَقْلِ الْكِلَابِيِّينَ قَالُوا: اجْلِسْ أَبَا الْقَاسِمِ حَتَّى تَطْعَمَ وَتَرْجِعَ بِحَاجَتِكَ وَنَقُومَ فَنَتَشَاوَرَ وَنُصْلِحَ أَمْرَنَا فِيمَا جِئْتَنَا لَهُ. فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ تَبِعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ فِي ظِلِّ جِدَارٍ يَنْتَظِرُ أَنْ يُصْلِحُوا أَمْرَهُمْ، فَلَمَّا جَلَسُوا وَالشَّيْطَانُ مَعَهُمْ لَا يُفَارِقُهُمُ ائْتَمَرُوا بِقَتْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: لَنْ تَجِدُوهُ أَقْرَبَ مِنْهُ الْآنَ فَاسْتَرِيحُوا مِنْهُ تَأْمَنُوا فِي دِيَارِكُمْ وَيُرْفَعْ عَنْكُمُ الْبَلَاءُ. فَقَالَ رَجُلٌ: إِنْ شِئْتُمْ ظَهَرْتُ فَوْقَ الْبَيْتِ وَدَلَّيْتُ عَلَيْهِ حَجَرًا فَقَتَلْتُهُ. فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ بِمَا ائْتَمَرُوا مِنْ شَأْنِهِ، فَعَصَمَهُ اللهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ يُرِيدُ يَقْضِيَ حَاجَةً وَتَرَكَ أَصْحَابَهُ فِي مَجْلِسِهِمْ، وَانْتَظَرَ أَعْدَاءُ اللهِ فَرَاثَ عَلَيْهِمْ، وَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَسَأَلُوهُ عَنْهُ، فَقَالَ: لَقِيتُهُ قَدْ دَخَلَ أَزِقَّةَ الْمَدِينَةِ. فَقَالُوا لِأَصْحَابِهِ: عَجِلَ أَبُو الْقَاسِمِ أَنْ يُقِيمَ أَمْرَنَا فِي حَاجَتِهِ الَّتِي جَاءَ بِهَا. ثُمَّ قَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعُوا، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِالَّذِي جَاءَ أَعْدَاءُ اللهِ فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَنْ يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاتَّقُوا اللهَ وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ}، فَلَمَّا أَظْهَرَ اللهُ رَسُولَهُ عَلَى مَا أَرَادُوا بِهِ ⦗٣٣٨⦘ وَعَلَى خِيَانَتِهِمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ أَمَرَ بِإِجْلَائِهِمْ وَإِخْرَاجِهِمْ مِنْ دِيَارِهِمْ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسِيرُوا حَيْثُ شَاءُوا. إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ.
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو نضیر کے پاس گئے اور ان سے کلابین کی دیت میں مدد مانگ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بنو نضیر کے پاس گئے، کلابین کی دیت میں ان سے مدد چاہی اور مسلمانوں کا گمان تھا کہ انھوں نے قریشیوں سے مل کر غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازش کی، ان کو قتال پہ ابھارا اور راز بتاتے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کلابین کی دیت کے بارے میں بات چیت کی تو انھوں نے کہا: ”اے ابو القاسم! آپ تشریف رکھیں، کھانا کھائیں، ہم اس معاملے میں مشورہ کر لیں جس کے لیے آپ تشریف لائے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ دیوار کے سائے میں تشریف فرما تھے کہ وہ اپنے معاملے میں صلاح مشورہ کر لیں۔ انھوں نے الگ ہو کر، جبکہ شیطان ان کے ساتھ تھا اور ان سے جدا نہ ہوتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا مشورہ کر لیا اور کہنے لگے: ”تم اسے اس وقت سے زیادہ قریب کبھی نہیں پاؤ گے، اس سے راحت حاصل کرو، اپنے گھروں میں امن سے رہو، تمہاری مصیبت ختم ہو جائے گی۔“ ایک شخص نے کہا: ”اگر تم چاہو تو میں چھت سے اس کے اوپر پتھر گرا کر قتل کر ڈالوں۔“ ادھر اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی اطلاع دے کر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو محفوظ کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو وہاں چھوڑ کر یوں نکلے جیسے قضائے حاجت کے لیے جایا جاتا ہے اور اللہ کے دشمنوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس آنے میں دیر کی تو انھوں نے مدینہ سے آنے والے ایک شخص سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو مدینہ کی گلی میں داخل ہو رہے تھے، تو انھوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا: ”آپ نے تو دیر فرما دی، ہم اس معاملے میں مشورہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔“ جب صحابہ رضی اللہ عنہم واپس آ گئے تو قرآن کا نزول ہوا، اللہ خوب جانتا ہے جو اللہ کے دشمنوں نے تدبیر کی، فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَنْ يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾ [سورة المائدة: 11] ”اے ایمان والو! اللہ نے جو تم پر احسان کیا اسے یاد کرو، جب ایک قوم نے تم پر دست درازی کا ارادہ کیا تو اللہ نے ان کے ہاتھ تم سے روک دیے۔ اللہ سے ڈرو اور مومنوں کو چاہیے کہ وہ اللہ ہی پر توکل کریں۔“ جب اللہ نے ان کے ارادے کو ظاہر کر دیا اور ان کی خیانت کو، تو انھیں جلا وطن کر دیا گیا اور کہا گیا: ”جہاں چاہو چلے جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18711]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18712
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ الْأَزْدِيُّ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ بِالشَّامِ، فَأَتَاهُ نَبَطِيٌّ مَضْرُوبٌ مُشَجَّجٌ مُسْتَعْدٍ، فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا فَقَالَ لِصُهَيْبٍ: انْظُرْ مَنْ صَاحِبُ هَذَا؟ فَانْطَلَقَ صُهَيْبٌ فَإِذَا هُوَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ غَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، فَلَوْ أَتَيْتَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَمَشَى مَعَكَ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ بَادِرَتَهُ. فَجَاءَ مَعَهُ مُعَاذٌ، فَلَمَّا انْصَرَفَ عُمَرُ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ: أَيْنَ صُهَيْبٌ؟ فَقَالَ: أَنَا هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: أَجِئْتَ بِالرَّجُلِ الَّذِي ضَرَبَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَامَ إِلَيْهِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ فَاسْمَعْ مِنْهُ وَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا لَكَ وَلِهَذَا؟ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ رَأَيْتُهُ يَسُوقُ بِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ فَنَخَسَ الْحِمَارَ لِيَصْرَعَهَا فَلَمْ تُصْرَعْ، ثُمَّ دَفَعَهَا فَخَرَّتْ عَنِ الْحِمَارِ، ثُمَّ تَغَشَّاهَا فَفَعَلْتُ مَا تَرَى. قَالَ: ائْتِنِي بِالْمَرْأَةِ لِتُصَدِّقَكَ. فَأَتَى عَوْفٌ الْمَرْأَةَ فَذَكَرَ الَّذِي قَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ أَبُوهَا وَزَوْجُهَا: مَا أَرَدْتَ بِصَاحِبَتِنَا فَضَحْتَهَا. فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَاللهِ لَأَذْهَبَنَّ مَعَهُ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ. فَلَمَّا أَجْمَعَتْ عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَبُوهَا وَزَوْجُهَا: نَحْنُ نُبَلِّغُ عَنْكِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَأَتَيَا فَصَدَّقَا عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ بِمَا قَالَ. قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ لِلْيَهُودِيِّ: وَاللهِ مَا عَلَى هَذَا عَاهَدْنَاكُمْ. فَأَمَرَ بِهِ فَصُلِبَ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ فُوا بِذِمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ فَعَلَ مِنْهُمْ هَذَا فَلَا ذِمَّةَ لَهُ. قَالَ سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ: وَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَصْلُوبٍ رَأَيْتُهُ. تَابَعَهُ ابْنُ أَشْوَعَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ.
سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ ہم امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام میں تھے کہ ایک نبطی شخص آیا جس کو سخت مار کے ذریعے زخمی کیا گیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سخت غصہ آیا اور صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا: دیکھو کس نے اسے مارا ہے؟ صہیب رضی اللہ عنہ گئے تو عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کو پایا کہ انہوں نے اسے مارا تھا، تو صہیب رضی اللہ عنہ نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر امیر المومنین کے پاس جانا، مجھے خطرہ ہے کہ وہ سزا دینے میں جلدی کریں گے، تو عوف بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو لے کر ان کے پاس گئے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: صہیب کدھر ہے؟ صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! میں حاضر ہوں۔ پوچھا: مارنے والے شخص کو لے کر آئے ہو؟ تو صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! لے کر آیا ہوں، تو معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی بات سن لینا، جلدی نہ کرنا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: معاملہ کیا ہے؟ تو عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! اس نے ایک مسلم عورت کے گدھے کو بھگا دیا تاکہ وہ گر جائے لیکن وہ نہ گری، اس نے دوبارہ گدھے کو بھگا کر اس کو گرا دیا اور اس کے ساتھ زنا کیا، تب میں نے یہ کیا جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: عورت کو لاؤ تاکہ وہ تیری تصدیق کر سکے، تو عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے عورت کے سامنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات کا تذکرہ کیا۔ اس کے والد اور خاوند نے کہا: تو ہماری عورت کی تذلیل چاہتا ہے۔ عورت نے کہا: اللہ کی قسم! میں ضرور اس کے ساتھ امیر المومنین کے پاس جاؤں گی۔ جب اس نے اس کا پختہ ارادہ کر لیا تو اس عورت کے والد اور خاوند نے پھر کہا: چلو ہم تیری تصدیق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کر دیتے ہیں۔ جب انہوں نے تصدیق کر دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس یہودی سے کہا: ہمارا تمہارے ساتھ اس پر تو معاہدہ نہیں تھا۔ اس یہودی کو سولی دے دی۔ پھر کہا: اے لوگو! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کو پورا کرو، جس نے اس طرح کی حرکت کی اس کے لیے کوئی ذمہ نہیں ہے۔ سوید بن غفلہ کہتے ہیں: یہ پہلا شخص میں نے دیکھا جس کو سولی دی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18712]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3733. -- باب: يشترط عليهم أن لا يحدثوا في أمصار المسلمين كنيسة، ولا مجمعا لصلاتهم، ولا صوت ناقوس، ولا حمل خمر، ولا إدخال خنزير
-- باب: ان پر یہ شرط لگائی جائے گی کہ وہ مسلمانوں کے شہروں میں کوئی نیا گرجا گھر، یا اپنی عبادت کی جگہ، یا ناقوس کی آواز، یا شراب لانے، یا سور داخل کرنے کا نیا کام نہیں کریں گے۔
حدیث نمبر: 18713
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، قَالُوا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: كَتَبَ ⦗٣٣٩⦘ إِلَيْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ أَدِّبُوا الْخَيْلَ، وَلَا يُرْفَعَنَّ بَيْنَ ظَهْرَانَيْكُمُ الصَّلِيبُ، وَلَا يُجَاوِرَنَّكُمُ الْخَنَازِيرُ.
حرام بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خط لکھا کہ گھوڑوں کی تربیت کرو، لیکن تمہارے درمیان صلیب کو بلند نہ کیا جائے اور نہ ہی تمہارے قریب خنزیر رہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18713]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18714
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو مُسْلِمٍ، ح وَأنبأ أَبُو مَنْصُورٍ عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ طَاهِرٍ الْبَغْدَادِيُّ الْإِمَامُ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْدَانَ الْفَارِسِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ قَالُوا: ثنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُلُّ مِصْرٍ مَصَّرَهُ الْمُسْلِمُونَ لَا يُبْنَى فِيهِ بِيعَةٌ وَلَا كَنِيسَةٌ، وَلَا يُضْرَبُ فِيهِ بِنَاقُوسٍ، وَلَا يُبَاعُ فِيهِ لَحْمُ خِنْزِيرٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہر وہ شہر جس کو مسلمانوں نے آباد کیا ہو، اس میں یہود و عیسائی اپنے معبد خانے نہ بنائیں گے اور نہ ہی ناقوس بجایا جائے گا اور نہ ہی خنزیر کا گوشت بیچا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18714]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3734. -- باب: لا تهدم لهم كنيسة ولا بيعة
-- باب: ان کا کوئی گرجا گھر یا عبادت گاہ منہدم نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 18715
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْيَامِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، أنبأ أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: صَالَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ نَجْرَانَ عَلَى أَلْفَيْ حُلَّةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ كَمَا مَضَى قَالَ فِيهِ: عَلَى أَنْ لَا تُهْدَمَ لَهُمْ بِيعَةٌ، وَلَا يُخْرَجَ لَهُمْ قِسٌّ، وَلَا يُفْتَنُونَ عَنْ دِينِهِمْ مَا لَمْ يُحْدِثُوا حَدَثًا أَوْ يَأْكُلُوا الرِّبَا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے دو ہزار سوٹوں پر صلح کی۔ مذکورہ حدیث میں ہے کہ ”ان کے معبد خانے نہ گرائے جائیں گے، پادری کو نہ نکالا جائے گا اور ان کے دین سے نہ ہٹایا جائے گا، جب تک کوئی نیا کام نہ کریں یا سود نہ کھائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18715]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18716
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبِي، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَيُّمَا مِصْرٍ أَعَدَّهُ الْعَرَبُ فَلَيْسَ لِلْعَجَمِ أَنْ يَبْنُوا فِيهِ بِيعَةً، أَوْ قَالَ: كَنِيسَةً، وَلَا يَضْرِبُوا فِيهِ نَاقُوسًا، وَلَا يُدْخِلُوا فِيهِ خَمْرًا وَلَا خِنْزِيرًا، وَأَيُّمَا مِصْرٍ اتَّخَذَهُ الْعَجَمُ فَعَلَى الْعَرَبِ أَنْ يَفُوا لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ فِيهِ وَلَا يُكَلِّفُوهُمْ مَا لَا طَاقَةَ لَهُمْ بِهِ.
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جو شہر عرب والوں نے بسایا تو عجمی لوگ اس میں معبد خانے نہیں بنا سکتے اور ان کو ناقوس بجانے کی بھی اجازت نہیں ہے اور اس میں شراب اور خنزیر کا گوشت بھی نہیں لا سکتے، اور جس شہر کو عجم آباد کریں تو عرب والے ان کا عہد پورا کریں اور ان کی طاقت سے بڑھ کر ان کو تکلیف نہ دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18716]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف