🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3740. -- باب: النهي عن التشديد في جباية الجزية
-- باب: جزیہ وصول کرنے میں سختی کرنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18737
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ سَأَلَهُ مَا فِي أَمْوَالِ أَهْلِ الذِّمَّةِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" الْعَفْوُ" يَعْنِي الْفَضْلَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ذمی لوگوں کے مالوں کے بارے میں پوچھا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”زائد مال۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18737]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3741. -- باب: لا يأخذ منهم في الجزية خمرا ولا خنزيرا
-- باب: ان سے جزیہ میں شراب اور خنزیر نہیں لیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18738
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِي، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يُقَلِّبُ يَدَهُ هَكَذَا فَقُلْتُ لَهُ: مَا لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: عُوَيْمِلٌ لَنَا بِالْعِرَاقِ خَلَطَ فِي فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ أَثْمَانَ الْخَمْرِ وَأَثْمَانَ الْخَنَازِيرِ، أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ أَنْ يَأْكُلُوهَا فَجَمَّلُوهَا فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا". قَالَ سُفْيَانُ يَقُولُ: لَا تَأْخُذُوا فِي جِزْيَتِهِمُ الْخَمْرَ وَالْخَنَازِيرَ، وَلَكِنْ خَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ بَيْعِهَا، فَإِذَا بَاعُوهَا فَخُذُوا أَثْمَانَهَا فِي جِزْيَتِهِمْ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ رہے تھے۔ میں نے پوچھا: اے امیر المومنین! یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ عراق کے عامل نے شراب اور خنزیر کی قیمتیں مالِ فئے میں شامل کر دی ہیں۔ کیا آپ جانتے نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ یہود پر لعنت فرمائے، اللہ نے ان پر چربی کو کھانا حرام قرار دیا، پھر انہوں نے اسے پگھلا کر فروخت کر کے اس کی قیمت کو کھایا۔“ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان سے جزیہ میں شراب و خنزیر وصول نہ کرو، بلکہ ان کو فروخت کرنے دو، ان کی قیمت جزیہ میں وصول کر لو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18738]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3742. -- باب: الوصاة بأهل الذمة
-- باب: اہل ذمہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18739
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ أَرْضًا يُذْكَرُ فِيهَا الْقِيرَاطُ، فَاسْتَوْصُوا بِأَهْلِهَا خَيْرًا، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ عَلَى مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا". قَالَ: فَمَرَّ بِرَبِيعَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ يَتَنَازَعَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجَ مِنْهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ الْأَيْلِيِّ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں قیراط والی زمین کی فتح حاصل ہوگی، ان کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو، کیونکہ ان کے لیے ذمہ (عہد) بھی ہے اور رشتہ داری بھی ہے، اور جب تم دیکھو کہ دو شخص کسی ایک اینٹ کی جگہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں تو وہاں سے چلے جاؤ۔“ وہ فرماتے ہیں کہ ربیعہ اور عبدالرحمن بن شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہما ایک اینٹ کے برابر جگہ پر جھگڑ رہے تھے تو وہ وہاں سے چلے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18739]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ٢٥٤٣»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18740
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جُوَيْرِيَةَ بْنَ قُدَامَةَ التَّيْمِيَّ، يَقُولُ: حَجَجْتُ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَخْطُبُ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ دِيكًا نَقَرَنِي نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ، قَالَ: فَمَا كَانَتْ إِلَّا جُمُعَةٌ أَوْ نَحْوُ ذَلِكَ حَتَّى أُصِيبَ، ثُمَّ أَذِنَ لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَذِنَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ أَذِنَ لِأَهْلِ الشَّامِ، ثُمَّ أَذِنَ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ، فَكُنَّا فِي آخِرِ مَنْ دَخَلَ، فَإِذَا عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ أَوْ بُرْدٌ أَسْوَدُ قَدْ عُصِبَ عَلَى طَعْنَتِهِ، وَإِذَا الدَّمُ يَسِيلُ فَقُلْنَا: أَوْصِنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: أُوصِيكُمْ بِكِتَابِ اللهِ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَضِلُّوا مَا اتَّبَعْتُمُوهُ، وَأُوصِيكُمْ بِالْمُهَاجِرِينَ، فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ، وَأُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ، فَإِنَّهُمْ شَعْبُ الْإِسْلَامِ الَّذِي نَجَا إِلَيْهِ، وَأُوصِيكُمْ بِالْأَعْرَابِ، فَإِنَّهُمْ أَصْلُكُمْ وَمَادَّتُكُمْ، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: فَإِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَعَدُوُّ عَدُوِّكُمْ، وَأُوصِيكُمْ بِذِمَّةِ اللهِ، فَإِنَّهُمْ ذِمَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِزْقُ عِيَالِكُمْ، ثُمَّ قَالَ: قُومُوا عَنِّي. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.
جویریہ بن قدامہ کہتے ہیں کہ میں حج کر کے مدینہ آیا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ میں نے مرغ کو دیکھا، اس نے مجھے ایک یا دو مرتبہ چونچ ماری۔ راوی کہتے ہیں: ایک ہفتہ یا اس کے لگ بھگ ہی گزرا تھا کہ انہیں زخمی کر دیا گیا۔ سب سے پہلے صحابہ، پھر مدینہ والوں، پھر شامی، پھر عراقی لوگوں کو اجازت دی گئی۔ میں سب سے آخر میں داخل ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زخم پر سیاہ چادر باندھی گئی تھی اور خون بہہ رہا تھا۔ ہم نے وصیت کرنے کے بارے میں کہا تو فرمایا: جب تک تم کتاب اللہ کی پیروی کرتے رہو گے گمراہ نہ ہو گے اور میں تمہیں مہاجرین کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ لوگوں کی قلت و کثرت ہوتی رہتی ہے اور میں تمہیں انصار کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، یہ اسلام کی ایسی گھاٹی کی مانند ہیں جس میں پناہ حاصل کی جاتی ہے اور دیہاتیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہاری اصل ہیں اور دوسری مرتبہ فرمایا، کیونکہ یہ تمہارے بھائی اور تمہارے دشمنوں کے دشمن ہیں۔ میں تمہیں اللہ کے ذمہ (ذمیوں) کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، کیونکہ وہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ ہیں اور تمہارے عیال کا رزق ہیں۔ پھر فرمانے لگے: میرے قریب سے اٹھ جاؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18740]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18741
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أُوصِي الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِي بِأَهْلِ الذِّمَّةِ خَيْرًا، أَنْ يُوفِيَ لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَأَنْ يُقَاتِلَ مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَنْ لَا يُكَلَّفُوا فَوْقَ طَاقَتِهِمْ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ.
سیدنا عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں اپنے بعد والے خلیفہ کو ذمی لوگوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ان کے عہد کو پورا کرنا، ان کے پیچھے ہو کر (دشمن سے) قتال کرنا اور انہیں ان کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18741]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري في مواطن كثيره»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3743. -- باب: لا يقرب المسجد الحرام، وهو الحرم كله، مشرك
-- باب: کوئی مشرک مسجد حرام کے قریب نہ آئے، اور اس سے مراد پورا حرم ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q18742
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا} [التوبة: 28] ..
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا﴾ ”مشرک تو بس ناپاک ہیں، لہٰذا وہ اپنے اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ آئیں۔“ [سورة التوبة: 28] ... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: Q18742]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18742
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيمَنْ يُؤَذِّنُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى: أَنْ لَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَأَنْ لَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَيَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ، وَإِنَّمَا قِيلَ الْحَجُّ الْأَكْبَرُ مِنْ أَجْلِ قَوْلِ النَّاسِ الْحَجُّ الْأَصْغَرُ، فَنَبَذَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّاسِ فِي ذَلِكَ الْعَامِ فَلَمْ يَحُجَّ فِي الْعَامِ الْقَابِلِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ ⦗٣٤٨⦘ الْوَدَاعِ مُشْرِكٌ، وَأَنْزَلَ اللهُ فِي الْعَامِ الَّذِي نَبَذَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْمُشْرِكِينَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا} [التوبة: ٢٨] الْآيَةَ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں قربانی کے دن اعلان کے لیے بھیجا کہ ”اس سال کے بعد مشرک حج کے لیے نہ آئے اور بیت اللہ کا طواف بغیر کپڑوں کے نہ کیا جائے“ اور حجِ اکبر قربانی کا دن ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ لوگوں کے عمرہ کو حجِ اصغر کہنے کی وجہ سے حجِ اکبر کہا گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اعلان کروا دیا کہ اس سال حج کرنے والا مشرک آئندہ سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج نہ کرے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اعلان والے سال اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا﴾ [سورة التوبة: 28] ”اے ایمان والو! مشرک پلید ہیں وہ مسجد حرام کے قریب اس سال کے بعد نہ آئیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18742]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18743
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَرْسَلْتُ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِأَرْبَعٍ: لَا يَطُوفَنَّ بِالْكَعْبَةِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَقْرَبَنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ مُشْرِكٌ بَعْدَ عَامِهِ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَمَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ.
زید بن یثیع سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے چار چیزیں دے کر مکہ والوں کی طرف بھیجا گیا: ”بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر نہ کیا جائے، اس سال کے بعد کوئی مشرک مسجد حرام کے قریب نہ آئے، جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا ہوا عہد اس کی مدت تک پورا کیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18743]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18744
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، ثنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بِأِيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ؟ قَالَ: بِأَرْبَعٍ فَذَكَّرَهُنَّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَلَا يَجْتَمِعُ مُسْلِمٌ وَمُشْرِكٌ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا فِي الْحَجِّ، وَزَادَ: وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَهْدٌ فَأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ.
زید بن یثیع بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا آپ کو کوئی چیز دے کر بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ چار چیزیں اور انہیں بیان کیا۔ پھر فرمایا: ”مشرک و مومن آئندہ حج میں جمع نہ ہوں گے اور جس کا کوئی معاہدہ نہیں اس کے لیے چار ماہ (کی مہلت) ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18744]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3744. -- باب: لا يسكن أرض الحجاز مشرك
-- باب: سرزمینِ حجاز میں کوئی مشرک رہائش پذیر نہیں ہوگا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18745
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا الْمَرَّارُ بْنُ حَمُّويَهِ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْكِنَانِيُّ، قَالَ مُوسَى: وَهُوَ أَبُو غَسَّانَ الْكِنَانِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا فُدِعْتُ بِخَيْبَرَ قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطِيبًا فِي النَّاسِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَمْوَالِهَا وَقَالَ:" نُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ"، وَإِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ إِلَى مَالِهِ هُنَاكَ فَعُدِيَ عَلَيْهِ فِي اللَّيْلِ فَفُدِعَتْ يَدَاهُ وَلَيْسَ لَنَا عَدُوٌّ هُنَاكَ غَيْرَهُمْ وَهُمْ تُهْمَتُنَا، وَقَدْ رَأَيْتُ إِجْلَاءَهُمْ. فَلَمَّا أَجْمَعَ عَلَى ذَلِكَ أَتَاهُ أَحَدُ بَنِي أَبِي الْحُقَيْقِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، تُخْرِجُنَا وَقَدْ أَقَرَّنَا مُحَمَّدٌ وَعَامَلَنَا عَلَى الْأَمْوَالِ وَشَرَطَ ذَلِكَ لَنَا؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَظَنَنْتَ أَنِّي نَسِيتُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ بِكَ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ خَيْبَرَ تَعْدُو بِكَ قَلُوصُكَ لَيْلَةً بَعْدَ لَيْلَةٍ". فَأَجْلَاهُمْ وَأَعْطَاهُمْ قِيمَةَ مَالِهِمْ مِنَ الثَّمَرِ مَالًا وَإِبِلًا وَعُرُوضًا مِنْ أَقْتَابٍ وَحِبَالٍ وَغَيْرَ ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي أَحْمَدَ وَهُوَ مَرَّارُ بْنُ حَمُّويَهِ.
نافع رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب خیبر میں میرا جوڑ ٹوٹ گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو ان کے مالوں پر عامل بنایا تھا اور فرمایا: ”میں نے تمہیں برقرار رکھا جب تک اللہ نے تمہیں برقرار رکھا۔“ جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے مال لے کر نکلے تو ان پر رات کے وقت زیادتی کی گئی، جس کی بنا پر ان کا جوڑ ٹوٹ گیا، ان کے علاوہ ہمارا کوئی دشمن بھی نہ تھا اور وہی ہمارے ملزم تھے۔ میں نے ان کو جلا وطن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا پختہ ارادہ کر لیا تو بنو ابوالحقیق کا ایک فرد آیا، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ ہمیں نکال رہے ہیں، حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے مالوں پر عامل بنایا تھا اور ہمیں یہاں برقرار رکھا تھا؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تیرا خیال ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھول گیا ہوں؟ تمہاری حالت کیا ہوگی، جب تمہیں خیبر سے نکالا جائے گا اور تیری جوان اونٹنی تجھے یکے بعد دیگرے کئی راتیں چلے گی۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو جلا وطن کیا اور ان کے پھلوں کی قیمت کے بدلے مال، اونٹ، سامان پالان اور رسیاں وغیرہ دے دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18745]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں