السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3735. -- باب: الإمام يكتب كتاب الصلح على الجزية
-- باب: امام جزیہ پر صلح کی دستاویز تحریر کرے گا۔
حدیث نمبر: 18717
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْمُطَّوِّعِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ ثَعْلَبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي الْعَيْزَارِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالْوَلِيدِ بْنِ نُوحٍ، وَالسَّرِيِّ بْنِ مُصَرِّفٍ، يَذْكُرُونَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، قَالَ: كَتَبْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ صَالَحَ أَهْلَ الشَّامِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا كِتَابٌ لِعَبْدِ اللهِ عُمَرَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ نَصَارَى مَدِينَةِ كَذَا وَكَذَا، إِنَّكُمْ لَمَّا قَدِمْتُمْ عَلَيْنَا سَأَلْنَاكُمُ الْأَمَانَ لِأَنْفُسِنَا ⦗٣٤٠⦘ وَذَرَارِيِّنَا وَأَمْوَالِنَا وَأَهْلِ مِلَّتِنَا، وَشَرَطْنَا لَكُمْ عَلَى أَنْفُسِنَا أَنْ لَا نُحْدِثَ فِي مَدِينَتِنَا وَلَا فِيمَا حَوْلَهَا دَيْرًا وَلَا كَنِيسَةً وَلَا قَلَّايَةً وَلَا صَوْمَعَةَ رَاهِبٍ، وَلَا نُجَدِّدَ مَا خَرِبَ مِنْهَا، وَلَا نُحْيِيَ مَا كَانَ مِنْهَا فِي خُطَطِ الْمُسْلِمِينَ، وَأَنْ لَا نَمْنَعَ كَنَائِسَنَا أَنْ يَنْزِلَهَا أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ، وَأَنْ نُوَسِّعَ أَبْوَابَهَا لِلْمَارَّةِ وَابْنِ السَّبِيلِ، وَأَنْ نُنْزِلَ مَنْ مَرَّ بِنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَنُطْعِمَهُمْ، وَأَنْ لَا نُؤَمِّنَ فِي كَنَائِسِنَا وَلَا مَنَازِلِنَا جَاسُوسًا، وَلَا نَكْتُمَ غِشًّا لِلْمُسْلِمِينَ، وَلَا نُعَلِّمَ أَوْلَادَنَا الْقُرْآنَ، وَلَا نُظْهِرَ شِرْكًا وَلَا نَدْعُوَ إِلَيْهِ أَحَدًا، وَلَا نَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ قَرَابَتِنَا الدُّخُولَ فِي الْإِسْلَامِ إِنْ أَرَادَهُ، وَأَنْ نُوَقِّرَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَنْ نَقُومَ لَهُمْ مِنْ مَجَالِسِنَا إِنْ أَرَادُوا جُلُوسًا، وَلَا نَتَشَبَّهَ بِهِمْ فِي شَيْءٍ مِنْ لِبَاسِهِمْ مِنْ قَلَنْسُوَةٍ وَلَا عِمَامَةٍ وَلَا نَعْلَيْنِ وَلَا فَرْقِ شَعَرٍ، وَلَا نَتَكَلَّمَ بِكَلَامِهِمْ، وَلَا نَتَكَنَّى بِكُنَاهُمْ، وَلَا نَرْكَبَ السُّرُوجَ، وَلَا نَتَقَلَّدَ السُّيُوفَ، وَلَا نَتَّخِذَ شَيْئًا مِنَ السِّلَاحِ، وَلَا نَحْمِلَهُ مَعَنَا، وَلَا نَنْقُشَ خَوَاتِيمَنَا بِالْعَرَبِيَّةِ، وَلَا نَبِيعَ الْخُمُورَ، وَأَنْ نَجُزَّ مَقَادِيمَ رُءُوسِنَا، وَأَنْ نَلْزَمَ زِيَّنَا حَيْثُ مَا كُنَّا، وَأَنْ نَشُدَّ الزَّنَانِيرَ عَلَى أَوْسَاطِنَا، وَأَنْ لَا نُظْهِرَ صُلُبَنَا وَكُتُبَنَا فِي شَيْءٍ مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ وَلَا أَسْوَاقِهِمْ، وَأَنْ لَا نُظْهِرَ الصَّلِيبَ عَلَى كَنَائِسِنَا، وَأَنْ لَا نَضْرِبَ بِنَاقُوسٍ فِي كَنَائِسِنَا بَيْنَ حَضْرَةِ الْمُسْلِمِينَ، وَأَنْ لَا نُخْرِجَ سَعَانِينًا وَلَا بَاعُونًا، وَلَا نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا مَعَ أَمْوَاتِنَا، وَلَا نُظْهِرَ النِّيرَانَ مَعَهُمْ فِي شَيْءٍ مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ، وَلَا نُجَاوِزَهُمْ مَوْتَانَا، وَلَا نَتَّخِذَ مِنَ الرَّقِيقِ مَا جَرَى عَلَيْهِ سِهَامُ الْمُسْلِمِينَ، وَأَنْ نُرْشِدَ الْمُسْلِمِينَ، وَلَا نَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ فِي مَنَازِلِهِمْ. فَلَمَّا أَتَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْكِتَابِ زَادَ فِيهِ: وَأَنْ لَا نَضْرِبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، شَرَطْنَا لَهُمْ ذَلِكَ عَلَى أَنْفُسِنَا وَأَهْلِ مِلَّتِنَا وَقَبِلْنَا مِنْهُمُ الْأَمَانَ، فَإِنْ نَحْنُ خَالَفْنَا شَيْئًا مِمَّا شَرَطْنَاهُ لَكُمْ فَضَمِنَّاهُ عَلَى أَنْفُسِنَا فَلَا ذِمَّةَ لَنَا، وَقَدْ حَلَّ لَكُمْ مَا يَحِلُّ لَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْمُعَانَدَةِ وَالشَّقَاوَةِ.
عبد الرحمن بن غنم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس وقت شام والوں نے صلح کی تو میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے خط لکھا: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، بہت رحم والا ہے۔ یہ خط امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کے نام فلاں فلاں شہر کے عیسائیوں کی جانب سے ہے۔ جس وقت تم ہمارے پاس آئے تھے تو ہم نے تم سے پناہ طلب کی تھی؛ اپنی جانوں، اولاد، مال اور اپنے دین کے بارے میں۔ اور ہم نے یہ شرط رکھی تھی کہ ہم شہر کے ارد گرد کوئی معبد خانہ، خانقاہ اور راہب کا گھر نہیں بنائیں گے، اور نہ ویران شدہ کو تعمیر کریں گے، اور نہ مسلمانوں کے راستے میں ان کو آباد کریں گے، اور نہ ہم اپنے کلیسہ سے کسی مسلمان کو دن یا رات میں کسی وقت بھی روکیں گے، اور ہم اپنے دروازوں کو راہگیروں اور مسافروں کے لیے کھلا چھوڑیں گے، اور ہم اپنے مسلمان مہمانوں کی تین دن تک ضیافت کریں گے، اور ہم اپنے گھروں اور عبادت خانوں میں کسی جاسوس کو پناہ نہیں دیں گے، اور نہ مسلمانوں کے خلاف کسی دھوکے کو چھپائیں گے، اور نہ ہی اپنے بچوں کو قرآن پڑھائیں گے۔ نہ شرک کا اظہار کریں گے اور نہ اس کی طرف کسی کو دعوت دیں گے، اور نہ ہی ہم اپنے رشتہ داروں کو اسلام قبول کرنے سے منع کریں گے۔ ہم مسلمانوں کی تعظیم کریں گے۔ جب وہ ہماری مجلسوں میں بیٹھنا چاہیں گے تو ہم ان کے لیے کھڑے ہو جایا کریں گے۔ ہم مسلمانوں کے لباس، ٹوپی، پگڑی، جوتوں اور بالوں میں ان کی مشابہت اختیار نہیں کریں گے۔ ہم ان کے کلام جیسی گفتگو نہیں کریں گے۔ نہ ہم ان جیسی کنیتیں رکھیں گے۔ ہم زینوں پر سوار نہیں ہوں گے اور نہ ہی تلواریں لٹکائیں گے۔ نہ ہم کوئی اسلحہ لیں گے اور نہ اسے اپنے ساتھ اٹھائیں گے۔ ہم اپنی انگوٹھیوں پر عربی نقش نہیں بنوائیں گے اور نہ ہم شراب بیچیں گے۔ اور ہم اپنے سروں کے اگلے بال کاٹ ڈالیں گے، ہم اپنا (مخصوص) لباس ہی پہنیں گے جہاں بھی ہوں۔ ہم اپنی کمروں پر زنار باندھیں گے۔ ہم اپنی صلیبوں اور اپنی کتابوں کو مسلمانوں کے بازاروں اور راستوں میں ظاہر نہیں کریں گے، اور نہ ہی اپنی عبادت گاہوں پر صلیبیں لگائیں گے۔ مسلمانوں کی موجودگی میں ہم اپنی عبادت گاہوں میں ناقوس نہیں بجائیں گے۔ ہم اپنے تہوار نہیں منائیں گے اور نہ ہی ”باعوث“ نکالیں گے، اور نہ ہی ہم اپنے مردوں پر آوازیں بلند کریں گے۔ ہم مسلمانوں کے راستے میں اپنے ساتھ آگ وغیرہ نہیں لائیں گے۔ ہم اپنے مردوں کو ان کے پڑوس میں دفن نہیں کریں گے۔ نہ ہم وہ غلام لیں گے جس میں مسلمانوں کا حصہ ہو۔ ہم مسلمانوں کی خیر خواہی کریں گے اور ان کے گھروں پر نہیں جھانکیں گے۔“ جب میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس خط لایا، تو اس میں یہ زیادتی تھی کہ: ”ہم کسی مسلمان کو نہیں ماریں گے۔ ہم نے یہ سب ان کے لیے اپنے اوپر اور اپنے مذہب والوں پر لازم کر لیا ہے اور ہم نے امان طلب کی ہے۔ پھر اگر ہم اپنی طے کردہ شرائط کی خلاف ورزی کریں تو ہمارا کوئی ذمہ نہ رہے گا، پھر آپ کے لیے ہمارے ساتھ وہ سب کچھ کرنا حلال ہوگا جو اہل عناد اور بدبختوں کے لیے حلال ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18717]
3736. -- باب: يشترط عليهم أن يفرقوا بين هيئتهم وهيئة المسلمين
-- باب: ان پر یہ شرط عائد کی جائے گی کہ وہ اپنی ظاہری ہیئت اور مسلمانوں کی ہیئت میں نمایاں فرق رکھیں گے۔
حدیث نمبر: 18718
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَسْلَمَ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ أَنِ اخْتِمُوا رِقَابَ أَهْلِ الْجِزْيَةِ فِي أَعْنَاقِهِمْ.
نافع، اسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لشکروں کے امراء کو لکھا کہ جزیہ ادا کرنے والوں کی گردنوں پر مہریں لگا دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18718]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18719
وَاحْتَجَّ أَصْحَابُنَا فِي ذَلِكَ أَيْضًا بِمَا: ⦗٣٤١⦘ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ، وَالْمَارُّ عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوٹا بڑے کو، گزرنے والا بیٹھنے والے کو اور تھوڑے زیادہ کو سلام کہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18719]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18720
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ". قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: الْمَاشِيَانِ إِذَا اجْتَمَعَا فَأَيُّهُمَا بَدَأَ بِالسَّلَامِ فَهُوَ أَفْضَلُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَوْحٍ دُونَ قَوْلِ جَابِرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ رَوْحٍ بِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیدل چلنے والے کو اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے زیادہ کو سلام کہیں۔“
(ب) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب دو پیدل چلنے والے ایک جگہ جمع ہو جائیں تو جو سلام کی ابتدا کرے وہ افضل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18720]
(ب) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب دو پیدل چلنے والے ایک جگہ جمع ہو جائیں تو جو سلام کی ابتدا کرے وہ افضل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18720]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18721
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ لَاقُونَ الْيَهُودَ غَدًا، فَلَا تَبْدءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، فَإِنْ سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا: وَعَلَيْكَ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم یہودیوں سے ملو تو انہیں پہلے سلام نہ کہو، اگر وہ تمہیں سلام کہیں تو تم جواب میں کہو: «وَعَلَيْكَ» یعنی ”تجھ پر۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18721]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ إِنَّمَا يَقُولُ السَّامُ عَلَيْكَ، فَقُلْ: عَلَيْكَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود جب تمہیں سلام کہتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ آپ پر موت پڑے، تو آپ جواب میں کہیں: تجھ پر بھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18722]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18723
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَفَهِمْتُهَا ⦗٣٤٢⦘ فَقُلْتُ: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْلًا يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ". قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ أَصْحَابُنَا: وَهَذِهِ السُّنَنُ لَا يُمْكِنُ اسْتِعْمَالُهَا إِلَّا بَعْدَ الْمَعْرِفَةِ بِهِمْ، وَلَيْسَ كُلُّ أَحَدٍ يَعْرِفُهُمْ فَلَا بُدَّ مِنْ غِيَارٍ يَتَمَيَّزُونَ بِهِ عَنِ الْمُسْلِمِينَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہودیوں کا ایک گروہ آیا، انہوں نے کہا: «السَّامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر موت پڑے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے ان کی بات کو سمجھ کر کہا: «وَعَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ» ”تم پر موت پڑے اور لعنت ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ رضی اللہ عنہا! ٹھہر جاؤ، کیونکہ اللہ رب العزت تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“ وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نے ان کی بات نہیں سنی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جواب میں کہہ دیا تھا: «وَعَلَيْكُمْ» ”تمہارے اوپر موت پڑے۔““
نوٹ: کسی ایسی علامت کا ہونا ضروری ہے جس کی وجہ سے ان کی مسلمانوں سے تمیز ہو سکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18723]
نوٹ: کسی ایسی علامت کا ہونا ضروری ہے جس کی وجہ سے ان کی مسلمانوں سے تمیز ہو سکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18723]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18724
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ مَرَّ بِرَجُلٍ هَيْئَتُهُ هَيْئَةُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ، فَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ عُقْبَةُ وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ: أَتَدْرِي عَلَى مَنْ رَدَدْتَ؟ فَقَالَ: أَلَيْسَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟ فَقَالُوا: لَا، وَلَكِنَّهُ نَصْرَانِيٌّ. فَقَامَ عُقْبَةُ فَتَبِعَهُ حَتَّى أَدْرَكَهُ فَقَالَ: إِنَّ رَحْمَةَ اللهِ وَبَرَكَاتِهِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، لَكِنْ أَطَالَ اللهُ حَيَاتَكَ وَأَكْثَرَ مَالَكَ وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَعْنَاهُ فِي الِابْتِدَاءِ بِالسَّلَامِ.
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کے پاس سے ایک شخص مسلمانوں جیسی حالت والا گزرا اور اس نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو سلام کیا، تو انہوں نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کچھ اضافہ کیا کہ ”اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔“ تو ان کے غلام نے پوچھا: ”کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے کس کو سلام کا جواب دیا ہے؟“ تو وہ کہنے لگے: ”کیا وہ مسلمان انسان نہیں ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، بلکہ وہ عیسائی ہے۔“ تو سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اس کے پیچھے گئے یہاں تک کہ اسے جا ملے اور فرمانے لگے: ”اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں مومنین پر ہوں، لیکن اللہ آپ کی لمبی زندگی اور زیادہ مال عطا کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18724]
3737. -- باب: لا يأخذون على المسلمين سروات الطرق ولا المجالس في الأسواق
-- باب: وہ مسلمانوں کے مقابلے میں راستوں کے درمیانی حصوں اور بازاروں کی مجالس پر قبضہ نہیں جمائیں گے۔
حدیث نمبر: 18725
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا لَقِيتُمُ الْمُشْرِكِينَ فِي الطَّرِيقِ فَلَا تَبْدءُوهُمْ بِالسَّلَامِ وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مشرکین سے راستہ میں ملو تو انہیں پہلے سلام نہ کہو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18725]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٢٦٧»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18726
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الزِّيَادِيُّ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، أنبأ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، ⦗٣٤٣⦘ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِ الطَّرِيقِ". قَالَ هَذَا لِلنَّصَارَى فِي النَّعْتِ، وَنَحْنُ نَرَاهُ لِلْمُشْرِكِينَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَرِيرٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ان سے ملاقات کرو تو سلام کی ابتدا نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی جانب مجبور کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: یہ نصاریٰ کی صفت تھی اور ہم اس کو مشرکین کے بارے میں خیال کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18726]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح