🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3738. -- باب: لا يدخلون مسجدا بغير إذن
-- باب: وہ بغیر اجازت مسجد میں داخل نہیں ہوں گے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18727
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّجَّارِ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَهُ أَنْ يَرْفَعَ إِلَيْهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى فِي أَدِيمٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ لِأَبِي مُوسَى كَاتِبٌ نَصْرَانِيٌّ يَرْفَعُ إِلَيْهِ ذَلِكَ، فَعَجِبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وقَالَ: إِنَّ هَذَا لَحَافِظٌ، وَقَالَ: إِنَّ لَنَا كِتَابًا فِي الْمَسْجِدِ، وَكَانَ جَاءَ مِنَ الشَّامِ، فَادْعُهُ فَلْيَقْرَأْ. قَالَ أَبُو مُوسَى: إِنَّهُ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ. فَقَالَ عُمَرُ أَجُنُبٌ هُوَ؟ قَالَ: لَا، بَلْ نَصْرَانِيٌّ. قَالَ: فَانْتَهَرَنِي وَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ: أَخْرِجْهُ، وَقَرَأَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} [المائدة: ٥١] ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ جو کچھ وصول کیا اور جو کچھ دیا اس کا حساب ایک ہی چمڑے پر لکھ کر ان کے پاس بھیجیں اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا کاتب عیسائی تھا جو یہ حساب ان کے پاس لے کر آیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تعجب کیا اور فرمایا: یہ تو بڑا حافظ ہے۔ اور فرمایا: مسجد میں ہمارا ایک خط موجود ہے جو شام سے آیا ہے، اس کو بلاؤ یہ پڑھے۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ مسجد میں داخل نہیں ہو سکتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا وہ جنبی ہے؟ تو سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے: نہیں بلکہ وہ عیسائی ہے۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا اور میری ران پر مارا اور کہا: اس کو نکال دو اور اس آیت کی تلاوت کی ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ [سورة المائدة: 51] ”اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور جس نے تم میں سے ان سے دوستی کی وہ انہی میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18727]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3739. -- باب: لا يأخذ المسلمون من ثمار أهل الذمة ولا أموالهم شيئا بغير أمرهم إذا أعطوا ما عليهم، وما ورد من التشديد في ظلمهم وقتلهم
-- باب: مسلمان اہل ذمہ کے پھلوں اور ان کے مالوں میں سے ان کی اجازت کے بغیر کچھ نہ لیں جب وہ اپنے ذمے کے واجبات ادا کر دیں، اور ان پر ظلم کرنے اور انہیں قتل کرنے پر جو سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18728
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، أنبأ أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَكِيمَ بْنَ عُمَيْرٍ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: نَزَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ وَمَعَهُ مَنْ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَكَانَ صَاحِبُ خَيْبَرَ رَجُلًا مَارِدًا مُنْكَرًا، فَأَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَلَكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا حُمُرَنَا وَتَأْكُلُوا ثِمَارَنَا وَتَضْرِبُوا نِسَاءَنَا؟ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" يَا ابْنَ عَوْفٍ ارْكَبْ فَرَسَكَ ثُمَّ نَادِ: إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِمُؤْمِنٍ، وَأَنِ اجْتَمِعُوا لِلصَّلَاةِ". قَالَ: فَاجْتَمَعُوا ثُمَّ صَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ:" أَيَحْسَبُ أَحَدُكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ قَدْ يَظُنُّ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُحَرِّمْ شَيْئًا إِلَّا مَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ، أَلَا وَإِنِّي وَاللهِ قَدْ ⦗٣٤٤⦘ أَمَرْتُ وَوَعَظْتُ وَنَهَيْتُ عَنْ أَشْيَاءَ إِنَّهَا لَمِثْلُ الْقُرْآنِ أَوْ أَكْثَرُ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُحِلَّ لَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتَ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا بِإِذْنٍ وَلَا ضَرْبَ نِسَائِهِمْ وَلَا أَكْلَ ثِمَارِهِمْ إِذَا أَعْطَوْكُمُ الَّذِي عَلَيْهِمْ".
عرباض بن ساریہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر میں آئے اور خیبر کا ایک شخص جو سرکش تھا اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا تم ہمارے گدھوں کو ذبح کرو، ہمارے پھل کھاؤ اور ہماری عورتوں کو مارو، کیا یہ تمہارے لیے جائز ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہوئے اور فرمایا: ”اے ابن عوف! اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اعلان کر دو کہ جنت صرف مومن کے لیے حلال ہے اور نماز کے لیے جمع ہو جاؤ۔“ راوی کہتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم جمع ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھانے کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اپنے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ رب العزت نے صرف ان اشیاء کو حرام قرار دیا ہے جو قرآن میں موجود ہیں؟ اللہ کی قسم! میں نے حکم دیا اور وعظ و نصیحت کی اور کچھ اشیاء سے منع کیا اور ان کی حرمت بھی ویسے ہی ہے جیسے قرآن میں کسی چیز کی حرمت بیان کی گئی ہے یا اس سے بھی بڑھ کر، اور اللہ رب العزت نے تمہارے لیے جائز نہیں رکھا کہ تم اہل کتاب کے گھروں میں بغیر اجازت کے داخل ہو جاؤ اور ان کی عورتوں کو مارو اور ان کے باغات کے پھل کھاؤ۔ یہ جائز نہیں ہے جب وہ اپنا جزیہ ادا کرتے ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18728]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18729
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبِيدٍ الصَّفَارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا وَتَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ فَيُفَادُوكُمْ بِأَمْوَالِهِمْ دُونَ أَنْفُسِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ، وَتُصَالِحُوهُمْ عَلَى صُلْحٍ فَلَا تُصِيبُوا مِنْهُمْ فَوْقَ ذَلِكَ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَكُمْ". قَالَ الثَّقَفِيُّ: صَحِبْتُ الْجُهَنِيَّ فِي غَزَاةٍ أَوْ سَفَرٍ، وَكَانَ مِنْ أَعَفِّ النَّاسِ عَنِ الْأَعْدَاءِ. أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ.
جہینہ قبیلے کا ایک شخص بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایک قوم سے قتال کرتے ہوئے غلبہ حاصل کرو گے۔ وہ تمہیں مال دے کر صلح کریں گے، لیکن اپنی جانیں اور اولاد کو الگ تھلگ رکھیں گے۔ تم بھی اس سے زائد کچھ حاصل نہ کرنا، کیونکہ یہ تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔“
ثقفی کہتے ہیں: میں جہنی کے ساتھ غزوہ یا سفر میں رہا، وہ دشمنوں (کے مال) سے سب سے زیادہ بچنے والے لوگوں میں سے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18729]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18730
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلَّكُمْ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا فَتَظْهَرُوا عَلَيْهِمْ فَيَتَّقُونَكُمْ بِأَمْوَالِهِمْ دُونَ أَنْفُسِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ". قَالَ سَعِيدٌ فِي حَدِيثِهِ: فَيُصَالِحُونَكُمْ عَلَى صُلْحٍ ثُمَّ اتَّفَقَا فَلَا تُصِيبُوا مِنْهُمْ فَوْقَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكُمْ.
جہینہ قبیلے کے ایک شخص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تم کسی قوم سے قتال کرتے ہوئے غلبہ حاصل کرو تو وہ اپنا بچاؤ اپنے مالوں اور اولاد کے ذریعے کریں گے۔“
«قَالَ سَعِيدٌ فِي حَدِيثِهِ:» ”وہ تم سے صلح کریں گے،“ پھر دونوں کا اتفاق ہے کہ ”تم اس سے زائد کچھ حاصل نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے لیے نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18730]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18731
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ الْمَدَنِيُّ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ ثَلَاثِينَ مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ آبَائِهِمْ دِنْيَةً، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا مَنْ ظَلَمَ مُعَاهَدًا وَانْتَقَصَهُ وَكَلَّفَهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". وَأَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُصْبُعِهِ إِلَى صَدْرِهِ:" أَلَا وَمَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ رِيحَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ خَرِيفًا.
تیس صحابہ رضی اللہ عنہم کے بیٹے اپنے والدین سے روایت کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ذمی انسان پر ظلم کیا اور عیب نکالے اور طاقت سے بڑھ کر تکلیف دی اور اس کی رضا مندی کے بغیر اس کی کوئی چیز حاصل کی، تو کل قیامت کے دن میں اس کی جانب سے جھگڑا کروں گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”خبردار! جس نے کسی ذمی معاہد کو قتل کیا، اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام کر دی ہے، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے پائی جاتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18731]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18732
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْمَنِيعِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا بِغَيْرِ حَقٍّ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ لَيُوجَدُ رِيحُهَا مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا". ⦗٣٤٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ، عَنِ الْحَسَنِ، وَخَالَفَهُ مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ فَرَوَاهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے معاہد انسان کو ناحق قتل کیا وہ جنت کی خوشبو حاصل نہ کر سکے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے پائی جاتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18732]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18733
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ كَذَا وَكَذَا". أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو فَذَكَرَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ذمی انسان کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو نہ پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو اتنی مسافت سے آتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18733]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18734
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ ثُرْمُلَةَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حِلِّهَا فَقَدْ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَشُمَّ رِيحَهَا".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی معاہد انسان کو ناحق قتل کر دیا تو اللہ اس پر جنت کی خوشبو سونگھنا بھی حرام کر دے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18734]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3740. -- باب: النهي عن التشديد في جباية الجزية
-- باب: جزیہ وصول کرنے میں سختی کرنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18735
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَجَدَ رَجُلًا وَهُوَ عَلَى حِمْصَ يُشَمِّسُ نَاسًا مِنَ الْقِبْطِ فِي أَدَاءِ الْجِزْيَةِ فَقَالَ: مَا هَذَا؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جزیہ کی وصولی میں قبطی شخص کو دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا۔ انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتا ہے، اللہ اس کو عذاب دے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18735]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ٢٦١٣»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18736
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى بَزْرَجِ سَابُورَ فَقَالَ: لَا تَضْرِبَنَّ رَجُلًا سَوْطًا فِي جِبَايَةِ دِرْهَمٍ، وَلَا تَبِيعَنَّ لَهُمْ رِزْقًا وَلَا كِسْوَةَ شِتَاءٍ وَلَا صَيْفٍ، ⦗٣٤٦⦘ وَلَا دَابَّةً يَعْتَمِلُونَ عَلَيْهَا، وَلَا تُقِمْ رَجُلًا قَائِمًا فِي طَلَبِ دِرْهَمٍ. قَالَ: قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذًا أَرْجِعَ إِلَيْكَ كَمَا ذَهَبْتُ مِنْ عِنْدِكَ. قَالَ: وَإِنْ رَجَعْتَ كَمَا ذَهَبْتَ وَيْحَكَ إِنَّمَا أُمِرْنَا أَنْ نَأْخُذَ مِنْهُمُ الْعَفْوَ، يَعْنِي الْفَضْلَ.
ثقیف کے ایک شخص سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے بزرج سابور پر عامل مقرر کیا اور فرمایا: درہم کی وصولی میں کسی شخص کو کوڑے سے مت مارنا، ان کا رزق اور گرمی و سردی کا لباس فروخت نہ کرنا اور نہ ہی وہ جانور جس پر وہ کام کاج کرتے ہوں اور کسی شخص کو درہم کی وصولی کے لیے (سختی سے) کھڑا نہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں: اے امیر المؤمنین! تب تو میں ویسے ہی واپس آؤں گا جیسے آپ کے پاس سے جا رہا ہوں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگرچہ تو اسی حالت میں واپس آئے، تجھ پر افسوس! ہمیں تو ان سے صرف زائد مال لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18736]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں