سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
117. بَابُ: أَرْوَاحِ الْمُؤْمِنِينَ
باب: مومنوں کی روحوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2075
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی جان جنت کے درختوں پہ اڑتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس کے جسم کی طرف بھیج دے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2075]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی روح (وفات کے بعد) جنت کے درختوں میں اڑتی رہتی ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اس کے جسم میں داخل کرے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2075]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجھاد 13 (1641)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 4 (1449)، والزھد 32 (4271)، (تحفة الأشراف: 11148)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (49)، مسند احمد 3/455، 456، 460، 6/386 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2076
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، أَخَذَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ , فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرِينَا مَصَارِعَهُمْ بِالْأَمْسِ قَالَ:" هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا" قَالَ عُمَرُ: وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَئُوا تِيكَ فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ، فَأَتَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى" يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ، يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا" , فَقَالَ عُمَرُ: تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا، فَقَالَ:" مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ وہ ہم سے اہل بدر کے سلسلہ میں بیان کرنے لگے، اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (کافروں کے) مارے جانے کی جگہیں ایک دن پہلے دکھلا دیں، اور فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کل فلاں کے پچھاڑ کھا کر گرنے کی جگہ یہاں ہو گی، اور فلاں کی یہاں“، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! ان جگہوں میں کوئی فرق نہیں آیا، چنانچہ انہیں ایک کنویں میں ڈال دیا گیا، (پھر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، (اور) پکارا: ”اے فلاں، فلاں کے بیٹے! اے فلاں، فلاں کے بیٹے! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے صحیح پایا؟ میں نے تو اللہ نے جو وعدہ مجھ سے کیا تھا اسے صحیح پایا“، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ایسے جسموں سے بات کر رہے ہیں جن میں روح نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سنتے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2076]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ ہمیں بدر کے کافر مقتولین کے بارے میں بتانے لگے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنگ سے ایک دن قبل ہمیں ان کے ہلاک ہونے کی جگہیں دکھا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کل یہ فلاں کی ہلاکت گاہ ہو گی۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق نبی بنایا! وہ ان جگہوں سے ذرہ بھر بھی ادھر ادھر نہیں ہوئے، پھر انہیں ایک کنویں میں پھینک دیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس (اس کنویں پر) گئے اور بلند آواز سے پکارا: ”اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! کیا تم نے سچ پائی وہ چیز جس کا تم سے تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا؟ میں نے تو اللہ کے وعدے کو سچ پایا ہے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ ایسے اجسام سے باتیں کر رہے ہیں جن میں روح نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میری باتوں کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2076]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنة 17 (2873)، (تحفة الأشراف: 10410)، مسند احمد 1/26 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2077
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ مِنَ اللَّيْلِ بِبِئْرِ بَدْرٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُنَادِي" يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَيَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا، فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَوَ تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا , فَقَالَ:" مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے رات کو بدر کے کنویں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے آواز لگاتے سنا: ”اے ابوجہل بن ہشام! اے شیبہ بن ربیعہ! اے عتبہ بن ربیعہ! اور اے امیہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے صحیح پایا؟، میں نے تو اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ان لوگوں کو پکارتے ہیں جو محض بدبودار لاش ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سن سکتے، لیکن (فرق صرف اتنا ہے کہ) وہ جواب نہیں دے سکتے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2077]
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں نے (جنگ بدر کے بعد) رات کو بدر کے کنویں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر فرماتے ہوئے سنا: ”اے ابو جہل بن ہشام! اے شیبہ بن ربیعہ! اے عتبہ بن ربیعہ! اے امیہ بن خلف! کیا تم نے اپنے رب کا وعدہ سچ پایا؟ میں نے تو اپنے رب کا وعدہ سچ پایا ہے۔“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ان لوگوں کو پکار رہے ہیں جو لاش بن چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سنتے مگر وہ جواب نہیں دے سکتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2077]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 713)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2874)، مسند احمد 3/104، 220، 263 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2078
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ , فَقَالَ:" هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا، قَالَ: إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ الْآنَ مَا أَقُولُ لَهُمْ"، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ , فَقَالَتْ: وَهِلَ ابْنُ عُمَرَ , إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُمُ الْآنَ يَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ"، ثُمَّ قَرَأَتْ قَوْلَهُ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 حَتَّى قَرَأَتِ الْآيَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے کنویں پہ کھڑے ہوئے (اور) فرمایا: ”کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا؟“ (پھر) آپ نے فرمایا: ”اس وقت جو کچھ میں ان سے کہہ رہا ہوں اسے یہ لوگ سن رہے ہیں“، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا، تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھول ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یوں) کہا تھا: ”یہ لوگ اب خوب جان رہے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ سچ تھا“، پھر انہوں نے اللہ کا قول پڑھا: «إنك لا تسمع الموتى» (النمل: ۸۰) یہاں تک کہ پوری آیت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2078]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جنگ بدر سے اگلے دن) بدر کے کنویں کے کنارے جا کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو برحق پایا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب یہ میری بات کو بخوبی سن رہے ہیں۔“ یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا: ابن عمر کو غلط فہمی ہوگئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اب وہ بخوبی جان چکے ہیں کہ میں جو کچھ ان کو کہتا رہا ہوں، وہ بالکل سچ ہے۔“ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھا ﴿إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى﴾ [سورة النمل: 80] ”یقینا تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔“ انہوں نے پوری آیت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2078]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 8 (3980)، صحیح مسلم/الجنائز 9 (932)، (تحفة الأشراف: 7323)، مسند احمد 2/38 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2079
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، وَمُغِيرَةُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ بَنِي آدَمَ وَفِي حَدِيثِ مُغِيرَةَ كُلُّ ابْنِ آدَمَ , يَأْكُلُهُ التُّرَابُ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی آدم (کے جسم کا ہر حصہ)، (مغیرہ والی حدیث میں ہے) ابن آدم (کے جسم کے ہر حصہ کو) مٹی کھا جاتی ہے، سوائے اس کی ریڑھ کی ہڈی کے، اسی سے وہ پیدا کیا گیا ہے، اور اسی سے (دوبارہ) جوڑا جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2079]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(مرنے کے بعد) انسان کے تمام اعضاء کو مٹی کھا لیتی ہے سوائے «عَجْبِ الذَّنَبِ» (ریڑھ کی ہڈی کا آخری سرا) کے، اسی وجہ سے انسان کی پیدائش کی ابتدا ہوئی اور اسی سے (دوبارہ) جسم جوڑا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2079]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر الزمر 4 (4814)، وتفسیر النبأ 1 (4945)، صحیح مسلم/الفتن 28 (2955)، سنن ابی داود/السنة 24 (4743)، (تحفة الأشراف: 13835، 13884)، سنن ابن ماجہ/الزھد 32 (4266)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (48)، مسند احمد 2/315، 322، 428، 499 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2080
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُكَذِّبَنِي، وَشَتَمَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتُمَنِي، أَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ , فَقَوْلُهُ: إِنِّي لَا أُعِيدُهُ كَمَا بَدَأْتُهُ، وَلَيْسَ آخِرُ الْخَلْقِ بِأَعَزَّ عَلَيَّ مِنْ أَوَّلِهِ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ , فَقَوْلُهُ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ مجھے جھٹلانا اس کے لیے مناسب نہ تھا، ابن آدم نے مجھے گالی دی حالانکہ مجھے گالی دینا اس کے لیے مناسب نہ تھا، رہا اس کا مجھے جھٹلانا تو وہ اس کا (یہ) کہنا ہے کہ میں اسے دوبارہ پیدا نہیں کر سکوں گا جیسے پہلی بار کیا تھا، حالانکہ آخری بار پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ دشوار مشکل نہیں، اور رہا اس کا مجھے گالی دینا تو وہ اس کا (یہ) کہنا ہے کہ اللہ کے بیٹا ہے، حالانکہ میں اللہ اکیلا اور بے نیاز ہوں، نہ میں نے کسی کو جنا، نہ مجھے کسی نے جنا، اور نہ کوئی میرا ہم سر ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2080]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: ”آدم کا بیٹا میری تکذیب کرتا ہے، حالانکہ اسے میری تکذیب جچتی نہیں۔ (اسی طرح) آدم کا بیٹا مجھے گالی دیتا ہے، حالانکہ اسے جچتا نہیں کہ وہ مجھے گالی دے۔ اس کا میری تکذیب کرنا تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کر سکے گا، حالانکہ میں نے اسے پہلی دفعہ پیدا کیا ہے اور دوسری دفعہ بنانا میرے لیے پہلی دفعہ سے مشکل نہیں۔ اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ کی بھی اولاد ہے، حالانکہ میں یکتا اللہ ہوں جس کو قطعاً کسی کی کوئی ضرورت نہیں۔ نہ مجھ سے کوئی پیدا ہوا، نہ میں کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے۔““ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13869)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 1 (3193)، وتفسیر سورة الصمد 1 (4974)، مسند احمد 2/317، 350، 394 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2081
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَسْرَفَ عَبْدٌ عَلَى نَفْسِهِ حَتَّى حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اسْحَقُونِي، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيَّ لَيُعَذِّبَنِّي عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِهِ، قَالَ: فَفَعَلَ أَهْلُهُ ذَلِكَ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ شَيْءٍ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا: أَدِّ مَا أَخَذْتَ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: خَشْيَتُكَ , فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: ”ایک بندے نے اپنے اوپر (بڑا) ظلم کیا، یہاں تک کہ موت (کا وقت) آپ پہنچا، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر مجھے پیس ڈالنا، کچھ ہوا میں اڑا دینا اور کچھ سمندر میں ڈال دینا، اس لیے کہ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہوا تو ایسا (سخت) عذاب دے گا کہ ویسا عذاب اپنی کسی مخلوق کو نہیں دے گا“، تو اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو جس نے اس کا کچھ حصہ لیا تھا حکم دیا کہ حاضر کرو جو کچھ تم نے لیا ہے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سامنے کھڑا ہے، (تو) اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے اکسایا؟ اس نے کہا: تیرے خوف نے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2081]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”ایک آدمی نے اپنے آپ پر بہت ظلم کیا تھا (بہت گناہ کیے تھے) حتیٰ کہ اس کی وفات کا وقت آگیا، اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میری ہڈیوں کو پیس لینا، پھر ہوا والے دن میری راکھ سمندر میں اڑا دینا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے پکڑ لیا تو مجھے ایسا عذاب دے گا جو اس نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہ دیا ہو گا۔ اس کے گھر والوں نے ایسے ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر اس چیز کو، جس میں اس کے جسم کا کوئی حصہ تھا، حکم دیا کہ جو کچھ تجھ میں اس کا حصہ ہے، نکال دے۔ تو ناگہاں وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پورے کا پورا کھڑا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو کچھ تو نے کیا، کس بنا پر کیا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر کی بنا پر۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 54 (3481)، والتوحید 35 (7506)، صحیح مسلم/التوبة 5 (2756)، سنن ابن ماجہ/الزھد 30 (4255)، (تحفة الأشراف: 12280)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (51)، مسند احمد 2/269 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2082
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُسِيءُ الظَّنَّ بِعَمَلِهِ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اطْحَنُونِي، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ، فَإِنَّ اللَّهَ إِنْ يَقْدِرْ عَلَيَّ لَمْ يَغْفِرْ لِي، قَالَ: فَأَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِكَةَ فَتَلَقَّتْ رُوحَهُ , قَالَ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ: يَا رَبِّ , مَا فَعَلْتُ إِلَّا مِنْ مَخَافَتِكَ، فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ".
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں میں کا ایک آدمی اپنے اعمال کے سلسلہ میں بدگمان تھا، چنانچہ جب موت (کا وقت) آپ پہنچا، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر پیس ڈالنا، پھر مجھے دریا میں اڑا دینا، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہو گا تو وہ مجھے بخشے گا نہیں، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو وہ اس کی روح کو پکڑ کر لائے، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! میں نے صرف تیرے خوف کی وجہ سے ایسا کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2082]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی اپنے اعمال کے بارے میں برا گمان رکھتا تھا (کہ وہ قابل معافی نہیں)، لہٰذا جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر پیس کر آٹا کر دینا، پھر میری راکھ کو سمندر میں اڑا دینا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر قابو پا لیا تو مجھے ہرگز معاف نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے اس کی روح نکال لی، پھر اللہ تعالیٰ نے (اس کا ڈھانچا حاضر کیا اور) فرمایا: جو کچھ تو نے کیا، کیوں کیا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! میں نے جو کچھ کیا، تیرے ڈر سے کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2082]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 54 (3479)، والرقاق 25 (6480)، (تحفة الأشراف: 3312)، مسند احمد 5/383، 395، 407 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري