🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
117. باب : أرواح المؤمنين
باب: مومنوں کی روحوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2080
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُكَذِّبَنِي، وَشَتَمَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتُمَنِي، أَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ , فَقَوْلُهُ: إِنِّي لَا أُعِيدُهُ كَمَا بَدَأْتُهُ، وَلَيْسَ آخِرُ الْخَلْقِ بِأَعَزَّ عَلَيَّ مِنْ أَوَّلِهِ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ , فَقَوْلُهُ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ مجھے جھٹلانا اس کے لیے مناسب نہ تھا، ابن آدم نے مجھے گالی دی حالانکہ مجھے گالی دینا اس کے لیے مناسب نہ تھا، رہا اس کا مجھے جھٹلانا تو وہ اس کا (یہ) کہنا ہے کہ میں اسے دوبارہ پیدا نہیں کر سکوں گا جیسے پہلی بار کیا تھا، حالانکہ آخری بار پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ دشوار مشکل نہیں، اور رہا اس کا مجھے گالی دینا تو وہ اس کا (یہ) کہنا ہے کہ اللہ کے بیٹا ہے، حالانکہ میں اللہ اکیلا اور بے نیاز ہوں، نہ میں نے کسی کو جنا، نہ مجھے کسی نے جنا، اور نہ کوئی میرا ہم سر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2080]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے فرمایا: آدم کا بیٹا میری تکذیب کرتا ہے، حالانکہ اسے میری تکذیب جچتی نہیں۔ (اسی طرح) آدم کا بیٹا مجھے گالی دیتا ہے، حالانکہ اسے جچتا نہیں کہ وہ مجھے گالی دے۔ اس کا میری تکذیب کرنا تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کر سکے گا، حالانکہ میں نے اسے پہلی دفعہ پیدا کیا ہے اور دوسری دفعہ بنانا میرے لیے پہلی دفعہ سے مشکل نہیں۔ اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ کی بھی اولاد ہے، حالانکہ میں یکتا اللہ ہوں جس کو قطعاً کسی کی کوئی ضرورت نہیں۔ نہ مجھ سے کوئی پیدا ہوا، نہ میں کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13869)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 1 (3193)، وتفسیر سورة الصمد 1 (4974)، مسند احمد 2/317، 350، 394 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت عالم
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
إمام ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← عبد الله بن ذكوان القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥شعيب بن الليث الفهمي، أبو عبد الملك
Newشعيب بن الليث الفهمي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
👤←👥الربيع بن سليمان المرادي، أبو محمد
Newالربيع بن سليمان المرادي ← شعيب بن الليث الفهمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3193
شتمني ابن آدم وما ينبغي له أن يشتمني يكذبني وما ينبغي له أما شتمه فقوله إن لي ولدا وأما تكذيبه فقوله ليس يعيدني كما بدأني
صحيح البخاري
4974
كذبني ابن آدم ولم يكن له ذلك شتمني ولم يكن له ذلك فأما تكذيبه إياي فقوله لن يعيدني كما بدأني وليس أول الخلق بأهون علي من إعادته وأما شتمه إياي فقوله اتخذ الله ولدا وأنا الأحد الصمد لم ألد ولم أولد ولم يكن لي كفئا أحد
صحيح البخاري
4975
كذبني ابن آدم ولم يكن له ذلك شتمني ولم يكن له ذلك أما تكذيبه إياي أن يقول إني لن أعيده كما بدأته وأما شتمه إياي أن يقول اتخذ الله ولدا وأنا الصمد الذي لم ألد ولم أولد ولم يكن لي كفؤا أحد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد
سنن النسائى الصغرى
2080
كذبني ابن آدم ولم يكن ينبغي له أن يكذبني شتمني ابن آدم ولم يكن ينبغي له أن يشتمني أما تكذيبه إياي فقوله إني لا أعيده كما بدأته وليس آخر الخلق بأعز علي من أوله وأما شتمه إياي فقوله اتخذ الله ولدا وأنا الله الأحد الصمد لم ألد ولم أولد ولم يكن لي كفوا أحد
صحيفة همام بن منبه
107
كذبني عبدي ولم يكن ذلك له شتمني عبدي ولم يكن ذلك له أما تكذيبه إياي أن يقول لن يعيدنا كما بدأنا وأما شتمه إياي أن يقول اتخذ الله ولدا وأنا الصمد لم ألد ولم أولد ولم يكن لي كفوا أحد
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2080 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2080
اردو حاشہ:
(1) آدم کا بیٹا کہنے کا مقصد، انسان کو اس کی اصلیت یاد دلانا ہے کہ اسے شرم آنی چاہیے، وہ مٹی سے بن کر اللہ تعالیٰ کی قدرت سے انکار کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کو اپنے جیسا سمجھتا ہے۔
(2) میری تکذیب یعنی میری قدرت کی تکذیب، نیز جب قدرت کی تکذیب کر دی تو گویا ذات ہی کی تکذیب کر دی۔
(3) گالی جو چیز کسی کے لائق نہ ہو، اس کی طرف نسبت کرنا گالی ہی ہے، جیسے کسی غیرشادی شدہ کی طرف اولاد کی نسبت کی جائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2080]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3193
3193. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ابن آدم مجھے گالی دیتاہے، حالانکہ اسے زیبا نہیں کہ مجھے گالی دے۔ اور میری تکذیب کرتاہے، حالانکہ اسے لائق نہیں (کہ میری تکذیب کرے)۔ اسکا مجھے گالی دینا تو اس کا یہ کہنا ہے کہ میری اولاد ہے۔ اور اس کامیری تکذیب کرنا اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ مجھے زندہ نہیں کرے گا جیسے اس نے مجھے پہلے پیدا کیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3193]
حدیث حاشیہ:
موت کے بعد اخروی زندگی کا تصور وہ ہے جس پر تمام انبیاءکرام کا اتفاق رہا ہے، تورات، زبور، انجیل، قرآن حتیٰ کہ اس ملک (ہندوستان)
کی مذہبی کتب میں بھی مرنے کے بعد ایک نئی زندگی کا تصور موجود ہے۔
اس کے باوجود کفار نے ہمیشہ اس عقیدے کی تکذیب کی اور اسے ناممکن قرار دیا ہے اور اس پر بہت سے استحالات پیش کرتے چلے آرہے ہیں جو سب باطل محض اور توہمات فاسدہ ہیں۔
اس حدیث میں اس عقیدہ پر وضاحت کی گئی ہے کہ آخرت کی زندگی کا انکار کرنا اللہ پاک کو جھٹلانا ہے۔
جس اللہ نے انسان کو پہلا وجود عطا فرمایا، اس کے لیے دوبارہ انسان کو پیدا کرنا کیوں مشکل ہوسکتا ہے۔
ایسا ہی باطل عقیدہ عیسائیوں کا ہے جو اللہ کے لیے ابنیت ثابت کرتے ہیں۔
حالانکہ یہ شان باری تعالیٰ کے اوپر بہت ہی بیہودہ الزام ہے، وہ اللہ ایسے الزامات سے مبرا ہے اور ایسی بے ہودہ بات منه سے نکالنا اور حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ کا بیٹا قرار دینا بہت ہی بڑا جھوٹ ہے۔
جو سراسر غلط بعید از عقل و بے ہودگی ہے۔
سچ ہے۔
﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1)
اللَّهُ الصَّمَدُ (2)
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3)
وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾
(إخلاص: 1-4)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3193]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4975
4975. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: (اللہ تعالٰی نے فرمایا:) ابن آدم نے مجھے جھٹلایا، حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا اور اس نے مجھے گالی دی، حالانکہ اس کے لیے یہ بھی مناسب نہ تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا، اس کا یہ کہنا ہے کہ میں اسے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا جیسا کہ میں نے اسے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا۔ اور اس کا مجھے گالی دینا یہ کہنا ہے کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے، حالانکہ میں بے نیاز ہوں، نہ میری کوئی اولاد ہے اورنہ میں کسی کی اولاد ہوں اور نہ میرا کوئی ہمسر ہی ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ خود جنا گیا، اس کا کوئی ہمسر ہی نہیں۔ وہ یکتا ہے۔ كُفُوًا، كفيئا اور كفاء سب ہم معنی ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4975]
حدیث حاشیہ:
یہ سورۃ اخلاص ہے اس میں توحید خالص کا بیان اور مشرکین کی تردید ہے جو اللہ کے ساتھ غیروں کو شریک بناتے ہیں بعض دو خدا ؤں کے قائل ہیں۔
بعض اللہ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں۔
بعض لوگ پیروں فقیروں انبیاءواولیاءکو عبارت میں اللہ کا شریک بناتے ہیں۔
اللہ نے اس سورۃ شریفہ میں ان سب کی تردید کی ہے اور توحید خالص پر نشاندہی فرمائی ہے۔
مشرکین مکہ نے اللہ کا نسب نامہ پوچھا تھا ان کے جواب میں یہ سورۃ شریفہ نازل ہوئی۔
کفو سے ہم ذات ہونا مراد ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4975]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3193
3193. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ابن آدم مجھے گالی دیتاہے، حالانکہ اسے زیبا نہیں کہ مجھے گالی دے۔ اور میری تکذیب کرتاہے، حالانکہ اسے لائق نہیں (کہ میری تکذیب کرے)۔ اسکا مجھے گالی دینا تو اس کا یہ کہنا ہے کہ میری اولاد ہے۔ اور اس کامیری تکذیب کرنا اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ مجھے زندہ نہیں کرے گا جیسے اس نے مجھے پہلے پیدا کیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3193]
حدیث حاشیہ:

یہ حدیث قدسی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے۔

گالی یہ ہے کہ کسی طرف وہ چیز منسوب کی جائے جس کی وجہ سے اس کی تذلیل و تحقیر ہو۔
چونکہ انسان کو اپنی نمود و نمائش کے لیے اولاد کی ضرورت ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اس قسم کے تمام عیوب سے پاک ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرنا گویا اس کی طرف نقص کو منسوب کرنا ہے اور یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کرے گا۔
بعثت کا انکار ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دی ہے یہ اس کی تکذیب کرنا ہے۔

امام بخاری ؒ نے آخری جملے سے عنوان کو ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کو ختم کرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔
اور اس سے وہ عاجز نہیں ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3193]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4974
4974. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے کہا: اللہ تعالٰی نے فرمایا: مجھے ابن آدم نے جھٹلایا، حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہیں تھا اور مجھے اس نے گالی دی، حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہیں تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا، اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ اس کو دوبارہ پیدا نہیں کرے گا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا، حالانکہ میرے لیے دوبارہ پیدا کرنا اس کے پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل نہیں۔ اور اس کا مجھے گالی دینا، اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ نے اپنا بیٹا بنایا ہے، حالانکہ میں یکتا ہوں، بے نیاز ہوں، نہ میری کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں اور نہ کوئی میرا ہمسر ہی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4974]
حدیث حاشیہ:

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:
ہم سے اپنے رب کا نسب نامہ بیان کرو تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی:
آپ کہہ دیں، اللہ یکتا ہے۔
اللہ بے نیاز ہے۔
۔
۔

الصمد وہ ہوتا ہے جو نہ کسی کو جنم دے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہو، اس لیے کہ جو کسی سے پیدا ہوگا وہ ضرور مرے گا اور جومرے گا اس کا کوئی وارث بھی ہوگا، اللہ نہ مرے گا اور نہ کسی کا کوئی وارث ہوگا اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے۔
راوی کہتا ہے:
کفو کے معنی یہ ہیں کہ نہ کوئی اس کے مشابہ ہے اور نہ کوئی اس کے برابر ہے اور اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔
(جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3364)

واضح رہے کہ اس سورت میں توحید کے تمام پہلوؤں پر مکمل روشنی ڈال دی گئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت کو ایک تہائی قرآن کے برابر قرار دیا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن میں بنیادی طور پر تین طرح کے مسائل بیان ہوئے ہیں:
توحید، رسالت اور آخرت۔
اس سورت میں چونکہ توحید کا بیان ہے، اس لیے اسے ایک تہائی قرآن کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
(صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 1886(811)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4974]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4975
4975. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: (اللہ تعالٰی نے فرمایا:) ابن آدم نے مجھے جھٹلایا، حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا اور اس نے مجھے گالی دی، حالانکہ اس کے لیے یہ بھی مناسب نہ تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا، اس کا یہ کہنا ہے کہ میں اسے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا جیسا کہ میں نے اسے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا۔ اور اس کا مجھے گالی دینا یہ کہنا ہے کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے، حالانکہ میں بے نیاز ہوں، نہ میری کوئی اولاد ہے اورنہ میں کسی کی اولاد ہوں اور نہ میرا کوئی ہمسر ہی ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ خود جنا گیا، اس کا کوئی ہمسر ہی نہیں۔ وہ یکتا ہے۔ كُفُوًا، كفيئا اور كفاء سب ہم معنی ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4975]
حدیث حاشیہ:
سورت اخلاص میں توحید خالص کا بیان ہے اور مشرکین کی تردید ہے۔
جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔
مجوس دو خداؤں کے قائل ہیں۔
کچھ لوگ اللہ کے لیے اولاد ثابت کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ پیروں، فقیروں انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کو عبادت میں اللہ کا شریک بناتے ہیں اس سورت میں ان سب کی تردید ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑ جاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا کا ذکر کیا جائے تو اچانک وہ بہت خوش ہو جاتے ہیں۔
(الزمر: 45)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4975]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2080 in Urdu