🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

63. بَابُ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ، قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا:
باب: جو شخص (حج یا عمرہ کی نیت سے) مکہ میں آئے تو اپنے گھر لوٹ جانے سے پہلے طواف کرے پھر دوگانہ طواف ادا کرے پھر صفا پہاڑ پر جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1614
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ذَكَرْتُ لِعُرْوَةَ، قال: فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،"أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ، ثُمَّ طَافَ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِثْلَهُ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ , وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَهُ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَهَلَّتْ هِيَ , وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا.
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن حارث نے محمد بن عبدالرحمٰن ابوالاسود سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے عروہ سے (حج کا مسئلہ) پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب (مکہ) تشریف لائے تو سب سے پہلا کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا کہ وضو کیا پھر طواف کیا اور طواف کرنے سے عمرہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح حج کیا۔ پھر عروہ نے کہا کہ میں نے اپنے والد زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی سب سے پہلے طواف کیا۔ مہاجرین اور انصار کو بھی میں نے اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔ میری والدہ (اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا) نے بھی مجھے بتایا کہ انہوں نے اپنی بہن (عائشہ رضی اللہ عنہا) اور زبیر اور فلاں فلاں کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ جب ان لوگوں نے حجر اسود کو بوسہ دے لیا تو احرام کھول ڈالا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1614]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ آئے تو سب سے پہلے وضو کر کے بیت اللہ کا طواف کیا، صرف طواف کرنے ہی سے آپ کا عمرہ مکمل نہیں ہوا تھا۔ پھر آپ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی حج کیا۔ پھر میں نے اپنے والد محترم حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حج کیا تو انہوں نے بھی سب سے پہلے طواف کیا۔ اس کے بعد میں نے مہاجرین و انصار کو دیکھا کہ وہ بھی اسی طرح کرتے تھے۔ میری والدہ (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا) نے مجھے بتایا کہ انہوں نے اور ان کی ہمشیرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور فلاں، فلاں نے عمرے کا احرام باندھا، انہوں نے جب حجر اسود کو ہاتھ لگایا (اور طواف مکمل کرنے کے بعد صفا و مروہ کی سعی کی) تو احرام کھول دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1614]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1615
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ذَكَرْتُ لِعُرْوَةَ، قال: فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،"أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ، ثُمَّ طَافَ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِثْلَهُ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ , وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَهُ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَهَلَّتْ هِيَ , وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا.
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن حارث نے محمد بن عبدالرحمٰن ابوالاسود سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے عروہ سے (حج کا مسئلہ) پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب (مکہ) تشریف لائے تو سب سے پہلا کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا کہ وضو کیا پھر طواف کیا اور طواف کرنے سے عمرہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح حج کیا۔ پھر عروہ نے کہا کہ میں نے اپنے والد زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی سب سے پہلے طواف کیا۔ مہاجرین اور انصار کو بھی میں نے اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔ میری والدہ (اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا) نے بھی مجھے بتایا کہ انہوں نے اپنی بہن (عائشہ رضی اللہ عنہا) اور زبیر اور فلاں فلاں کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ جب ان لوگوں نے حجر اسود کو بوسہ دے لیا تو احرام کھول ڈالا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1615]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ آئے تو سب سے پہلے وضو کر کے بیت اللہ کا طواف کیا، صرف طواف کرنے ہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمرہ مکمل نہیں ہوا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی حج کیا۔ پھر میں نے اپنے والد محترم حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حج کیا تو انہوں نے بھی سب سے پہلے طواف کیا۔ اس کے بعد میں نے مہاجرین و انصار کو دیکھا کہ وہ بھی اسی طرح کرتے تھے۔ میری والدہ (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا) نے مجھے بتایا کہ انہوں نے اور ان کی ہمشیرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما نے، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور فلاں، فلاں نے عمرے کا احرام باندھا، انہوں نے جب حجر اسود کو ہاتھ لگایا (اور طواف مکمل کرنے کے بعد صفا و مروہ کی سعی کی) تو احرام کھول دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1615]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1616
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ، أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ سَعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشَى أَرْبَعَةً، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوضمرہ انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے نافع سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مکہ) آنے کے بعد سب سے پہلے حج اور عمرہ کا طواف کیا تھا۔ اس کے تین چکروں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی (رمل) کی اور باقی چار میں حسب معمول چلے۔ پھر طواف کی دو رکعت نماز پڑھی اور صفا مروہ کی سعی کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1616]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حج یا عمرے کے لیے مکہ آتے تو سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کرتے، پہلے تین چکروں میں دوڑتے اور باقی چار میں معمول کے مطابق چلتے، طواف کے بعد دوگانہ ادا کرتے، پھر صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1616]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1617
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا طَافَ بالبيت الطَّوَافَ الْأَوَّلَ يَخُبُّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ , وَيَمْشِي أَرْبَعَةً، وَأَنَّهُ كَانَ يَسْعَى بَطْنَ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا والمروة".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا پہلا طواف (یعنی طواف قدوم) کرتے تو اس کے تین چکروں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوڑ کر چلتے اور چار میں معمول کے موافق چلتے پھر جب صفا اور مروہ کی سعی کرتے تو بطن مسیل (وادی) میں دوڑ کر چلتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1617]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلا طواف کرتے تو پہلے تین چکروں میں دوڑتے اور باقی چار میں معمول کے مطابق چلتے اور جب صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے تو نالے کے وسط میں ذرا تیز دوڑتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1617]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں