🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَابُ: التَّلَقِّي
باب: آگے بڑھ کر تجارتی قافلے سے ملنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4503
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ التَّلَقِّي".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی قافلے سے آگے جا کر ملنے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4503]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی تاجر منڈی سے باہر جا کر تجارتی قافلے کو ملے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4503]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 4 (1517)، (تحفة الأشراف: 8181)، مسند احمد (2/2) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4503M
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: قُلْتُ: لِأَبِي أُسَامَةَ , أَحَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَلَقِّي الْجَلْبِ حَتَّى يَدْخُلَ بِهَا السُّوقَ"؟. فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ , وَقَالَ: نَعَمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ آگے جا کر قافلے سے ملا جائے یہاں تک کہ وہ خود بازار آئے (اور وہاں کا نرخ (بھاؤ) معلوم کر لے)۔ ابواسامہ نے اس کی تصدیق کی اور کہا: جی ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4503M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7872)، مسند احمد (2/7، 22، 63، 91) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4504
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ , وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ" , قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ؟ , قَالَ: لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی آگے جا کر تجارتی قافلے سے ملے، اور کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان بیچے، (راوی طاؤس کہتے ہیں:) میں نے ابن عباس سے کہا: اس قول کوئی شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: یعنی شہری دلال نہ بنے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4504]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ: کوئی تاجر منڈی اور بازار سے باہر ہی تجارتی قافلے کو ملے یا کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال بیچے۔ (راویِ حدیث جنابِ طاؤس رحمہ اللہ نے کہا کہ) میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: شہری کو دیہاتی کا مال بیچنے سے روکنے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ اس کا دلال نہ بنے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4504]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 68 (2158)، 71 (2163)، الإجارة 14 (2274)، صحیح مسلم/البیوع 6 (1521)، سنن ابی داود/البیوع 47 (3439)، سنن ابن ماجہ/التجارات 15 (2177)، (تحفة الأشراف: 5706)، مسند احمد (1/368) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4505
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ , أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ سِيرِينَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَلَقَّوْا الْجَلْبَ , فَمَنْ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرَى مِنْهُ , فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگے جا کر تجارتی قافلے سے نہ ملو، جو اس سے جا کر ملا اور اس سے کوئی چیز خرید لی، جب اس کا مالک بازار آئے تو اسے اختیار ہو گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4505]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: تجارتی قافلوں کو منڈی سے باہر جا کر نہ ملو۔ اگر کوئی تاجر منڈی سے باہر جا کر ملے گا اور قافلے سے کوئی چیز خریدے گا تو جب قافلہ بازار میں پہنچے گا، مالک کو اختیار ہو گا کہ وہ سودا واپس کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 5 (1519)، (تحفة الأشراف: 14538)، مسند احمد (2/284، 403، 488) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چاہے تو پہلی قیمت پر جو باہر نکل کر لگائی تھی فروخت کر دے یا بازار کی قیمت پر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں