سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. بَابُ: ذُيُولِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کے دامن کی لمبائی کی حد کا بیان۔
حدیث نمبر: 5338
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَكَيْفَ تَصْنَعُ النِّسَاءُ بِذُيُولِهِنَّ؟ قَالَ:" تُرْخِينَهُ شِبْرًا". قَالَتْ: إِذًا تَنْكَشِفَ أَقْدَامُهُنَّ؟ قَالَ:" تُرْخِينَهُ ذِرَاعًا لَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا لٹکایا، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا“، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! تو پھر عورتیں اپنے دامن کیسے رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اسے ایک بالشت لٹکائیں“، وہ بولیں: تب تو ان کے قدم کھلے رہیں گے؟، آپ نے فرمایا: ”تو ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہ کریں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 9 (2085)، سنن الترمذی/اللباس 9 (1731)، (تحفة الأشراف: 7526)، مسند احمد (2/5، 55، 101) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5339
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُيُولَ النِّسَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُرْخِينَ شِبْرًا" , قَالَتْ: أُمُّ سَلَمَةَ: إِذًا يَنْكَشِفَ عَنْهَا؟ قَالَ:" تُرْخِي ذِرَاعًا لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں کے دامن لٹکانے کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک بالشت لٹکائیں“ ۱؎، ام سلمہ رضی اللہ عنہا بولیں: تب تو کھلا رہے گا؟ آپ نے فرمایا: ”تب ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہ کریں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18217) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عورتیں ایک بالشت یا ایک ہاتھ زیادہ کہاں سے لٹکائیں؟ اس بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ مردوں کی جائز حد (ٹخنوں) سے زیادہ ایک بالشت لٹکائیں یا حد سے حد ایک ہاتھ زیادہ لٹکا لیں، اس سے زیادہ نہیں، یہ اجازت اس لیے ہے تاکہ عورتوں کے قدم اور پنڈلیاں چلتے وقت ظاہر نہ ہو جائیں، آج ٹخنوں تک پاجامہ (شلوار) کے بعد لمبے موزوں سے عورتوں کا مذکورہ پردہ حاصل ہو سکتا ہے، لیکن عورتوں کے لباس اصلی شلوار وغیرہ میں اس بات کی احتیاط ہونی چاہیئے کہ وہ سلاتے وقت ٹخنے کے نیچے ناپ کر سلاتے جائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5340
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ذُكِرَ، فِي الْإِزَارِ مَا ذُكِرَ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَكَيْفَ بِالنِّسَاءِ؟ قَالَ:" يُرْخِينَ شِبْرًا" , قَالَتْ: إِذًا تَبْدُوَ أَقْدَامُهُنَّ؟ قَالَ:" فَذِرَاعًا لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تہبند کے بارے میں جو کچھ کیا اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر عورتیں کیسے کریں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک بالشت لٹکائیں“، وہ بولیں تب تو ان کے قدم کھل جائیں گے! آپ نے فرمایا: ”پھر ایک ہاتھ اور لٹکا لیں، اس سے زیادہ نہ لٹکائیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5340]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 40 (4117)، (تحفة الأشراف: 18282)، موطا امام مالک/اللباس 6 (13)، مسند احمد (6/295)، سنن الدارمی/الإستئذان 16 (2686) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5341
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ تَجُرُّ الْمَرْأَةُ مِنْ ذَيْلِهَا؟ قَالَ:" شِبْرًا" قَالَتْ: إِذًا يَنْكَشِفَ عَنْهَا؟ قَالَ:" ذِرَاعٌ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: عورت اپنا دامن کس قدر لٹکائے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک بالشت“، وہ بولیں: تب تو کھلا رہ جائے گا! آپ نے فرمایا: ”ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہ لٹکائیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 40 (4117)، سنن الترمذی/اللباس 9 (1731)، سنن ابن ماجہ/اللباس 13 (3580)، (تحفة الأشراف: 18159)، مسند احمد (6/293، 315) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح