🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابٌ:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3996
حَدَّثَنِي خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" مَاتَ أَبُو زَيْدٍ وَلَمْ يَتْرُكْ عَقِبًا وَكَانَ بَدْرِيًّا".
مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ انصاری نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوزید رضی اللہ عنہ وفات پا گئے اور انہوں نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی، وہ بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3996]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت ابوزید رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان کی اولاد نہیں تھی اور وہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3996]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3997
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ خَبَّابٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدِ بْنَ مَالِكٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ , فَقَدَّمَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ لَحْمًا مِنْ لُحُومِ الْأَضْحَى، فَقَالَ:" مَا أَنَا بِآكِلِهِ حَتَّى أَسْأَلَ , فَانْطَلَقَ إِلَى أَخِيهِ لِأُمِّهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ نَقْضٌ لِمَا كَانُوا يُنْهَوْنَ عَنْهُ مِنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضْحَى بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا ان سے قاسم بن محمد نے، ان سے عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ نے کہ ابوسعید بن مالک خدری رضی اللہ عنہ سفر سے واپس آئے تو ان کے گھر والے قربانی کا گوشت ان کے سامنے لائے، انہوں نے کہا کہ میں اسے اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک اس کا حکم نہ معلوم کر لوں۔ چنانچہ وہ اپنی والدہ کی طرف سے اپنے ایک بھائی کے پاس معلوم کرنے گئے۔ وہ بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والوں میں سے تھے یعنی قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں وہ حکم منسوخ کر دیا گیا تھا جس میں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کی گئی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3997]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر سے واپس آئے تو ان کے اہل خانہ نے قربانی کا گوشت انہیں پیش کیا، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ گوشت میں نہیں کھاؤں گا یہاں تک کہ میں اس کے متعلق پوچھ لوں (تسلی کر لوں)، چنانچہ وہ اپنے مادری بھائی حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جو بدری تھے اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ تمہارے جانے کے بعد حکم منسوخ ہو گیا جس میں قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانا منع کیا گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3997]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3998
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ الزُّبَيْرُ:" لَقِيتُ يَوْمَ بَدْرٍ عُبَيْدَةَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ مُدَجَّجٌ لَا يُرَى مِنْهُ إِلَّا عَيْنَاهُ , وَهُوَ يُكْنَى أَبُو ذَاتِ الْكَرِشِ"، فَقَالَ:" أَنَا أَبُو ذَاتِ الْكَرِشِ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ بِالْعَنَزَةِ فَطَعَنْتُهُ فِي عَيْنِهِ فَمَاتَ"، قَالَ هِشَامٌ: فَأُخْبِرْتُ أَنَّ الزُّبَيْرَ، قَالَ:" لَقَدْ وَضَعْتُ رِجْلِي عَلَيْهِ , ثُمَّ تَمَطَّأْتُ فَكَانَ الْجَهْدَ أَنْ نَزَعْتُهَا وَقَدِ انْثَنَى طَرَفَاهَا"، قَالَ عُرْوَةُ:" فَسَأَلَهُ إِيَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُ , فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا، ثُمَّ طَلَبَهَا أَبُو بَكْرٍ فَأَعْطَاهُ , فَلَمَّا قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ سَأَلَهَا إِيَّاهُ عُمَرُ , فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا , فَلَمَّا قُبِضَ عُمَرُ أَخَذَهَا , ثُمَّ طَلَبَهَا عُثْمَانُ مِنْهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا , فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ وَقَعَتْ عِنْدَ آلِ عَلِيٍّ فَطَلَبَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَكَانَتْ عِنْدَهُ حَتَّى قُتِلَ".
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں میری مڈبھیڑ عبیدہ بن سعید بن عاص سے ہو گئی۔ اس کا سارا جسم لوہے میں غرق تھا اور صرف آنکھ دکھائی دے رہی تھی۔ اس کی کنیت ابوذات الکرش تھی۔ کہنے لگا کہ میں ابوذات الکرش ہوں۔ میں نے چھوٹے برچھے سے اس پر حملہ کیا اور اس کی آنکھ ہی کو نشانہ بنایا۔ چنانچہ اس زخم سے وہ مر گیا۔ ہشام نے بیان کیا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے اپنا پاؤں اس کے اوپر رکھ کر پورا زور لگایا اور بڑی دشواری سے وہ برچھا اس کی آنکھ سے نکال سکا۔ اس کے دونوں کنارے مڑ گئے تھے۔ عروہ نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کا وہ برچھا طلب فرمایا تو انہوں نے وہ پیش کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو انہوں نے اسے واپس لے لیا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے طلب کیا تو انہوں نے انہیں بھی دے دیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے طلب کیا۔ انہوں نے انہیں بھی دے دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد انہوں نے اسے لے لیا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے طلب کیا تو انہوں نے انہیں بھی دے دیا۔ عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد وہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا اور ان کے بعد ان کی اولاد کے پاس اور اس کے بعد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے لے لیا اور ان کے پاس ہی رہا، یہاں تک کہ وہ شہید کر دیئے گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3998]
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بدر کی لڑائی میں میرا مقابلہ عبیدہ بن سعید بن عاص سے ہوا جو ہتھیاروں سے لیس تھا۔ اس کی صرف دو آنکھیں ہی نظر آ رہی تھیں۔ اس کی کنیت ابو ذات کرش تھی۔ اس نے کہا: میں ابو ذات کرش ہوں۔ میں نے برچھے سے اس پر حملہ کیا اور اس کی آنکھوں پر ایسا تاک کر مارا کہ وہ تاب نہ لا کر مر گیا۔ ہشام کہتے ہیں: مجھے خبر دی گئی کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اپنا پاؤں اس پر رکھا اور زور لگا کر پوری طاقت سے برچھا نکالا جبکہ اس کے دونوں کنارے ٹیڑھے ہو چکے تھے۔ عروہ نے کہا: وہ برچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طلب کرنے پر انہوں نے آپ کو دے دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو انہوں نے وہ برچھا واپس لے لیا۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مانگنے پر انہیں دے دیا۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مانگ لیا تو انہیں دے دیا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو انہوں نے واپس لے لیا۔ اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے مانگا تو انہوں نے دے دیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو وہ برچھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خاندان کے ہاتھ لگا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے واپس لے کر اپنے پاس رکھا جو ان کی شہادت تک ان کے پاس رہا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3998]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3999
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَايِعُونِي".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے ابوادریس عائذ اللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے، وہ بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مجھ سے بیعت کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3999]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو غزوہ بدر میں شریک تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری بیعت کر لو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3999]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4000
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَنَّى سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا , وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ , وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ , حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ سورة الأحزاب آية 5 فَجَاءَتْ سَهْلَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، انہیں ابن شہاب زہری نے خبر دی، انہیں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے، انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والوں میں تھے، نے سالم رضی اللہ عنہ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا اور اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ سے شادی کرا دی تھی۔ سالم رضی اللہ عنہ ایک انصاری خاتون کے غلام تھے۔ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا۔ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیتا تو لوگ اسی کی طرف اسے منسوب کر کے پکارتے اور منہ بولا بیٹا اس کی میراث کا بھی وارث ہوتا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ادعوهم لآبائهم‏» انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو۔ تو سہلہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ پھر تفصیل سے راوی نے حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4000]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک تھے۔ انہوں نے حضرت سالم رضی اللہ عنہ کو اپنا لے پالک بنایا اور اپنی بھتیجی ہند بنت ولید سے ان کا نکاح کر دیا جبکہ وہ ایک انصاری عورت کے آزاد کردہ غلام تھے۔ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا۔ زمانہ جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ جسے لے پالک قرار دیا جاتا لوگ اسے اس (نقلی باپ) کی طرف منسوب کرتے تھے۔ وہ اس (نقلی باپ) کا وارث بھی ہوتا تھا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿ٱدْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ﴾ [سورة الأحزاب: 5] منہ بولے بیٹوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی نسبت سے پکارو۔ حضرت سہلہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔۔۔ اس کے بعد ایک طویل حدیث کا ذکر ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4000]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4001
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ بُنِيَ عَلَيَّ , فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي , وَجُوَيْرِيَاتٌ يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ يَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِهِنَّ يَوْمَ بَدْرٍ حَتَّى قَالَتْ جَارِيَةٌ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُولِي هَكَذَا وَقُولِي مَا كُنْتِ تَقُولِينَ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن ذکوان نے، ان سے ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جس رات میری شادی ہوئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی صبح کو میرے یہاں تشریف لائے اور میرے بستر پر بیٹھے، جیسے اب تم یہاں میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو۔ چند بچیاں دف بجا رہی تھیں اور وہ اشعار پڑھ رہی تھیں جن میں ان کے ان خاندان والوں کا ذکر تھا جو بدر کی لڑائی میں شہید ہو گئے تھے۔ انہیں میں ایک لڑکی نے یہ مصرع بھی پڑھا کہ ہم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو کل ہونے والی بات کو جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ پڑھو، بلکہ جو پہلے پڑھ رہی تھیں وہی پڑھو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4001]
حضرت خالد بن ذکوان سے روایت ہے، وہ حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میری شب زفاف کی صبح کو میرے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میرے بستر پر اس طرح بیٹھ گئے جس طرح تم بیٹھے ہو۔ کچھ بچیاں اس وقت دف بجا رہی تھیں اور میرے ان آباء و اجداد کے اوصاف گا رہی تھیں جو غزوہ بدر میں شہید ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک بچی گاتے گاتے کہنے لگی: ہم میں ہے ایک نبی جو جانتا ہے کل کی بات۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کہو بلکہ اس طرح کہو جس طرح پہلے کہہ رہی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4001]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4002
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ. ح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ" , يُرِيدُ التَّمَاثِيلَ الَّتِي فِيهَا الْأَرْوَاحُ.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں معمر بن راشد نے، انہیں زہری نے۔ (دوسری سند) اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے محمد بن ابی عتیق نے، ان سے ابن شہاب (زہری) نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی میں شریک تھے کہ فرشتے اس گھر میں نہیں آتے جس میں تصویر یا کتا ہو۔ ان کی مراد جاندار کی تصویر سے تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4002]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بتایا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی میں شریک تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا کوئی تصویر ہو۔ ان کی مراد کسی جاندار کی تصویر تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4002]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4003
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَيْهِمُ السَّلَام أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا، قَالَ: كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ , وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنَ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ , فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا فِي بَنِي قَيْنُقَاعَ أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِي فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ , فَأَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ فَنَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي , فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَيَّ مِنَ الْأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ وَشَارِفَايَ مُنَاخَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ حَتَّى جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ , فَإِذَا أَنَا بِشَارِفَيَّ قَدْ أُجِبَّتْ أَسْنِمَتُهَا وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا , فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ حِينَ رَأَيْتُ الْمَنْظَرَ، قُلْتُ: مَنْ فَعَلَ هَذَا؟ قَالُوا: فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عِنْدَهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابُهُ، فَقَالَتْ: فِي غِنَائِهَا أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ فَوَثَبَ حَمْزَةُ إِلَى السَّيْفِ , فَأَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا وَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، قَالَ عَلِيٌّ: فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ وَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي لَقِيتُ، فَقَالَ:" مَا لَكَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَيَّ فَأَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا وَهَهُوَذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ , فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ فَارْتَدَى، ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ , فَأُذِنَ لَهُ فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ , فَإِذَا حَمْزَةُ ثَمِلٌ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ , فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى رُكْبَتِهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ حَمْزَةُ: وَهَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي , فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ثَمِلٌ , فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى فَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہم کو احمد بن صالح نے خبر دی، ان سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے، انہیں علی بن حسین (امام زین العابدین) نے خبر دی، انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ بدر کی غنیمت میں سے مجھے ایک اور اونٹنی ملی تھی اور اسی جنگ کی غنیمت میں سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو خمس کے طور پر حصہ مقرر کیا تھا اس میں سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک اونٹنی عنایت فرمائی تھی۔ پھر میرا ارادہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کرا لاؤں۔ اس لیے بنی قینقاع کے ایک سنار سے بات چیت کی کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم اذخر گھاس لائیں۔ میرا ارادہ تھا کہ میں اس گھاس کو سناروں کے ہاتھ بیچ دوں گا اور اس کی قیمت ولیمہ کی دعوت میں لگاؤں گا۔ میں ابھی اپنی اونٹنی کے لیے پالان، ٹوکرے اور رسیاں جمع کر رہا تھا۔ اونٹنیاں ایک انصاری صحابی کے حجرہ کے قریب بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں جن انتظامات میں تھا جب وہ پورے ہو گئے تو (اونٹنیوں کو لینے آیا) وہاں دیکھا کہ ان کے کوہان کسی نے کاٹ دیئے ہیں اور کوکھ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی ہے۔ یہ حالت دیکھ کر میں اپنے آنسوؤں کو نہ روک سکا۔ میں نے پوچھا، یہ کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اور وہ ابھی اسی حجرہ میں انصار کے ساتھ شراب نوشی کی ایک مجلس میں موجود ہیں۔ ان کے پاس ایک گانے والی ہے اور ان کے دوست احباب ہیں۔ گانے والی نے گاتے ہوئے جب یہ مصرع پڑھا۔ ہاں، اے حمزہ! یہ عمدہ اور فربہ اونٹنیاں ہیں، تو حمزہ رضی اللہ عنہ نے کود کر اپنی تلوار تھامی اور ان دونوں اونٹنیوں کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی۔ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں وہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے غم کو پہلے ہی جان لیا اور فرمایا کہ کیا بات پیش آئی؟ میں بولا: یا رسول اللہ! آج جیسی تکلیف کی بات کبھی پیش نہیں آئی تھی۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں کو پکڑ کے ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھ چیر ڈالی ہے۔ وہ یہیں ایک گھر میں شراب کی مجلس جمائے بیٹھے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مبارک منگوائی اور اسے اوڑھ کر آپ تشریف لے چلے۔ میں اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ ساتھ ہولئے۔ جب اس گھر کے قریب آپ تشریف لے گئے اور حمزہ رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیا تھا اس پر انہیں تنبیہ فرمائی۔ حمزہ رضی اللہ عنہ شراب کے نشے میں مست تھے اور ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر اٹھائی، پھر ذرا اور اوپر اٹھائی اور آپ کے گھٹنوں پر دیکھنے لگے، پھر اور نظر اٹھائی اور آپ کے چہرہ پر دیکھنے لگے۔ پھر کہنے لگے، تم سب میرے باپ کے غلام ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ وہ اس وقت بیہوش ہیں۔ اس لیے آپ فوراً الٹے پاؤں اس گھر سے باہر نکل آئے، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4003]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ بدر کی غنیمت سے میرے حصے میں ایک اونٹنی آئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری اونٹنی مجھے مالِ فے کے خمس سے عنایت فرمائی تھی۔ میں نے ارادہ کیا کہ حضرت فاطمہ بنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصتی عمل میں لاؤں۔ میں نے بنو قینقاع کے ایک زرگر سے معاہدہ کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے تاکہ ہم «الْإِذْخِرُ» اذخر گھاس لائیں۔ میرا خیال تھا کہ اس گھاس کو سناروں کے پاس فروخت کر کے اس سے اپنی شادی کا ولیمہ کروں گا، چنانچہ میں نے دونوں اونٹنیوں کے لیے پالان، بوریاں اور رسیاں جمع کرنا شروع کر دیں جبکہ میری دونوں اونٹنیاں ایک انصاری شخص کے گھر کے قریب بیٹھی ہوئی تھیں۔ جب میں نے تمام سامان جمع کر لیا تو میں اپنی اونٹنیوں کے پاس آ کر کیا دیکھتا ہوں کہ ان کے کوہان کاٹ دیے گئے ہیں اور ان کی کوکھیں چیر کر ان کی کلیجیاں نکال لی گئی ہیں۔ جب میں نے یہ منظر دیکھا تو مجھے اپنی آنکھوں پر قابو نہ رہا۔ میں نے پوچھا: یہ کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کیا ہے اور وہ اس گھر میں انصار کے ساتھ شراب نوشی میں مصروف ہیں۔ ایک گلوکارہ اور اس کے سازندے بھی ان کے ساتھ ہیں۔ اس لونڈی نے اپنے گانے میں کہا: «أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ» اے حمزہ! ان موٹی اونٹنیوں کا قصد کرو۔ اچانک حمزہ رضی اللہ عنہ اٹھے، تلوار ہاتھ میں لی اور ان کے کوہان کاٹ دیے اور ان کی کوکھیں چیر کر ان سے کلیجیاں نکال لیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں (فوراً) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تکلیف کو بھانپ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے علی! تجھے کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آج جیسا دن کبھی نہیں دیکھا۔ حمزہ نے میری اونٹنیوں پر دست درازی کی ہے؛ انہوں نے ان کے کوہان کاٹ دیے ہیں اور ان کی کوکھیں چیر دی ہیں، وہ اس گھر میں موجود ہیں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ شراب نوشی میں مصروف ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی، اسے زیب تن کیا اور چل پڑے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ ہو لیے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مکان میں آئے جہاں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ آپ نے داخل ہونے کی اجازت مانگی جو اسی وقت دے دی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم (اندر تشریف لے گئے اور) حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو ان کی کارگزاری پر ملامت کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نشے میں دھت ہیں اور ان کی دونوں آنکھیں سرخ ہو رہی ہیں۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، پھر نظر اونچی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے دیکھے، پھر نظر اوپر اٹھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ دیکھا، پھر کہا: «هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي؟» تم تو میرے باپ کے غلام ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جان گئے کہ ابھی وہ نشے کی حالت میں ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں واپس ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے تشریف لے آئے اور ہم بھی آپ کے ہمراہ واپس آ گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4003]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4004
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: أَنْفَذَهُ لَنَا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، سَمِعَهُ مِنَ ابْنِ مَعْقِلٍ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَبَّرَ عَلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، فَقَالَ" إِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا".
مجھ سے محمد بن عباد نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، کہا کہ یہ روایت ہمیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ اصبہانی نے لکھ کر بھیجی، انہوں نے عبداللہ بن معقل سے سنا کہ علی رضی اللہ عنہ نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے جنازے پر تکبیریں کہیں اور کہا کہ وہ بدر کی لڑائی میں شریک تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4004]
حضرت عبداللہ بن معقل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے جنازے پر تکبیریں کہیں اور فرمایا: وہ جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4004]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4005
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ , وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَدْ شَهِدَ بَدْرًا تُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ عُمَرُ: فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، قَالَ: سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ، فَقَالَ: قَدْ بَدَا لِي أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا، قَالَ عُمَرُ: فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ فَصَمَتَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا , فَكُنْتُ عَلَيْهِ أَوْجَدَ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ، ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ إِلَّا أَنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَكَرَهَا , فَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ تَرَكَهَا لَقَبِلْتُهَا".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جب حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کے شوہر خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں تھے اور بدر کی لڑائی میں انہوں نے شرکت کی تھی اور مدینہ میں ان کی وفات ہو گئی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میری ملاقات عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے حفصہ کا ذکر کیا اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو اس کا نکاح میں آپ سے کر دوں۔ انہوں نے کہا کہ میں سوچوں گا۔ اس لیے میں چند دنوں کے لیے ٹھہر گیا، پھر انہوں نے کہا کہ میری رائے یہ ہوئی ہے کہ ابھی میں نکاح نہ کروں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میری ملاقات ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور ان سے بھی میں نے یہی کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح حفصہ بنت عمر سے کر دوں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کا یہ طریقہ عمل عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ میرے لیے باعث تکلیف ہوا۔ کچھ دنوں میں نے اور توقف کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حفصہ رضی اللہ عنہا کا پیغام بھیجا اور میں نے ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ملاقات مجھ سے ہوئی تو انہوں نے کہا، شاید آپ کو میرے اس طرز عمل سے تکلیف ہوئی ہو گی کہ جب آپ کی مجھ سے ملاقات ہوئی اور آپ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کے متعلق مجھ سے بات کی تو میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا کہ ہاں تکلیف ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ آپ کی بات کا میں نے صرف اس لیے کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تھا (مجھ سے مشورہ لیا تھا کہ میں اس سے نکاح کر لوں) اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش نہیں کر سکتا تھا۔ اگر آپ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا ارادہ چھوڑ دیتے تو بیشک میں ان سے نکاح کر لیتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4005]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے شوہر حضرت خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اصحاب میں سے تھے جنہوں نے جنگ بدر میں شرکت کی تھی اور وہ مدینہ میں فوت ہوئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا اور کہا کہ اگر تمہارا ارادہ ہو تو اپنی دختر حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح تم سے کر دوں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس پر غور کروں گا۔ پھر میں کئی راتیں ٹھہرا رہا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ابھی میں یہی مناسب خیال کرتا ہوں کہ ان دنوں نکاح نہ کروں۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا: اگر تم چاہو تو میں اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح تم سے کر دوں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا۔ مجھے ان پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ غصہ آیا، مگر میں چند راتیں ہی ٹھہرا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغامِ نکاح بھیجا، اس پر میں نے ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا۔ پھر مجھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ملے اور انہوں نے کہا: شاید تم مجھ سے ناراض ہو گئے ہو کیونکہ تم نے حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تھا اور میں نے خاموشی اختیار کرتے ہوئے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ میں نے کہا: ہاں، مجھے رنج تو ہوا تھا۔ انہوں نے فرمایا: دراصل بات یہ تھی کہ مجھے تمہاری پیش کش قبول کرنے میں کوئی امر مانع نہ تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنا مجھے منظور نہ تھا۔ ہاں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ارادہ ترک کر دیتے تو میں انہیں ضرور قبول کر لیتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4005]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں