مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. مُسْنَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 132
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَنْبَأَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى فِي يَدِ رَجُلٍ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ:" أَلْقِ ذَا"، فَأَلْقَاهُ، فَتَخَتَّمَ بِخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ:" ذَا شَرٌّ مِنْهُ"، فَتَخَتَّمَ بِخَاتَمٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَسَكَتَ عَنْهُ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اتار دو“، چنانچہ اس نے اتار دی اور اس کی جگہ لوہے کی انگوٹھی پہن لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو اس سے بھی بری ہے“، پھر اس نے چاندی کی انگوٹھی پہن لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سکوت فرما لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 132]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عمار بن أبى عمار لم يدرك عمر
حدیث نمبر: 133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ . وَحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ الْأَنْصَارُ: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَأَتَاهُمْ عُمَرُ ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّ النَّاسَ؟ فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہو گیا تو انصار کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر تم میں سے ہو گا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور فرمایا: اے گروہِ انصار! کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی امامت کا حکم خود دیا تھا؟ آپ میں سے کون شخص اپنے دل کی بشاشت کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھ سکتا ہے؟ اس پر انصار کہنے لگے: اللہ کی پناہ! کہ ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 133]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ، فَتَرَكَ مَوْضِعَ ظُفُرٍ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ، فَأَبْصَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ"، فَرَجَعَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو نماز کے لئے وضو کر رہا تھا، اس نے وضو کرتے ہوئے پاؤں کی پشت پر ایک ناخن کے بقدر جگہ چھوڑ دی یعنی وہ اسے دھو نہ سکا یا وہاں تک پانی نہیں پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے دیکھ لیا اور فرمایا کہ جا کر اچھی طرح وضو کرو، چنانچہ اس نے جا کر دوبارہ وضو کیا اور نماز پڑھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 134]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، عبدالله ابن لهيعة- وإن كان سيء الحفظ - توبع
حدیث نمبر: 135
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ رَافِعٍ الطَّاطَرِيُّ بَصْرِيٌّ ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، عَنْ فَرُّوخَ مَوْلَى عُثْمَانَ: أَنَّ عُمَرَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَرَأَى طَعَامًا مَنْثُورًا، فَقَالَ: مَا هَذَا الطَّعَامُ؟ فَقَالُوا: طَعَامٌ جُلِبَ إِلَيْنَا، قَالَ: بَارَكَ اللَّهُ فِيهِ وَفِيمَنْ جَلَبَهُ، قِيلَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنَّهُ قَدْ احْتُكِرَ، قَالَ: وَمَنْ احْتَكَرَهُ؟ قَالُوا: فَرُّوخُ مَوْلَى عُثْمَانَ، وَفُلَانٌ مَوْلَى عُمَرَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا، فَدَعَاهُمَا، فَقَالَ: مَا حَمَلَكُمَا عَلَى احْتِكَارِ طَعَامِ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، نَشْتَرِي بِأَمْوَالِنَا وَنَبِيعُ، فَقَالَ عُمَرُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمْ، ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْإِفْلَاسِ، أَوْ بِجُذَامٍ". فَقَالَ فَرُّوخُ عِنْدَ ذَلِكَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أُعَاهِدُ اللَّهَ وَأُعَاهِدُكَ، أَنْ لَا أَعُودَ فِي طَعَامٍ أَبَدًا، وَأَمَّا مَوْلَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنَّمَا نَشْتَرِي بِأَمْوَالِنَا وَنَبِيعُ. قَالَ أَبُو يَحْيَى: فَلَقَدْ رَأَيْتُ مَوْلَى عُمَرَ مَجْذُومًا.
فروخ کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں مسجد جانے کے لئے گھر سے نکلے، راستے میں انہیں جگہ جگہ غلہ نظر آیا، انہوں نے پوچھا: یہ غلہ کیسا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ درآمد کیا گیا ہے، فرمایا: اللہ اس میں برکت دے اور اس شخص کو بھی جس نے اسے درآمد کیا ہے، لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ تو ذخیرہ اندوزی کا مال ہے، پوچھا: کس نے ذخیرہ کر کے رکھا ہوا تھا؟ لوگوں نے بتایا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام فروخ اور آپ کے فلاں غلام نے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو بلاوا بھیجا اور فرمایا کہ تم نے مسلمانوں کی غذائی ضروریات کی ذخیرہ اندوزی کیوں کی؟ انہوں نے عرض کیا کہ امیر المؤمنین! ہم اپنے پیسوں سے خریدتے اور بیچتے ہیں (اس لئے ہمیں اپنی مملوکہ چیز پر اختیار ہے، جب مرضی بیچیں) فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مسلمانوں کی غذائی ضروریات کی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے تنگدستی اور کوڑھ کے مرض میں مبتلا کر دیتا ہے۔ فروخ نے تو یہ سن کر اسی وقت کہا: امیر المؤمنین! میں اللہ سے اور آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ ایسا نہیں کروں گا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا غلام اپنی اسی بات پر اڑا رہا کہ ہم اپنے پیسوں سے خریدتے اور بیچتے ہیں (اس لئے ہمیں اختیار ہونا چاہیے)۔ ابویحییٰ کہتے ہیں کہ بعد میں جب میں نے اسے دیکھا تو وہ کوڑھ کے مرض میں مبتلا ہوچکا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 135]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى يحيى المكي وفروخ مولي عثمان
حدیث نمبر: 136
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ، فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ، وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ، فَخُذْهُ، وَمَا لَا، فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ دینا چاہتے تو میں عرض کر دیتا کہ یا رسول اللہ! مجھ سے زیادہ جو محتاج لوگ ہیں، یہ انہیں دے دیجئے، اسی طرح ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ مال و دولت عطا فرمایا، میں نے حسب سابق یہی عرض کیا کہ مجھ سے زیادہ کسی ضرورت مند کو دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے لو اپنے مال میں اضافہ کرو، اس کے بعد صدقہ کر دو اور یاد رکھو! اگر تمہاری خواہش اور سوال کے بغیر کہیں سے مال آئے تو اسے لے لیا کرو، ورنہ اس کے پیچھے نہ پڑا کرو۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 136]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7164، م: 1045
حدیث نمبر: 137
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ... فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 137]
حکم دارالسلام: إسناده صحیح كسابقه
حدیث نمبر: 138
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: هَشَشْتُ يَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا، قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَاءٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟ قُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفِيمَ؟".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں بہت خوش تھا، خوشی سے سرشار ہو کر میں نے روزہ کی حالت میں ہی اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا، اس کے بعد احساس ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آج مجھ سے ایک بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے، میں نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی کو بوسہ دے دیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ! اگر آپ روزے کی حالت میں کلی کر لو تو کیا ہو گا؟“ میں نے عرض کیا: اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے، فرمایا: ”پھر اس میں کہاں سے ہو گا؟“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 138]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 139
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَافَيْتُهَا وَقَدْ وَقَعَ فِيهَا مَرَضٌ، فَهُمْ يَمُوتُونَ مَوْتًا ذَرِيعًا، فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ، فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرٌ، فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى، فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرٌ، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثَةِ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًُّ، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ: مَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَقُلْنَا: وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ: فَقَالَ: وَثَلَاثَةٌ، قَالَ: قُلْنَا: وَاثْنَانِ، قَالَ: وَاثْنَانِ"، قَالَ: ثُمَّ لَمْ نَسْأَلْهُ عَنِ الْوَاحِدِ.
ابوالاسود رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوا، وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ وہاں کوئی بیماری پھیلی ہوئی ہے جس سے لوگ بکثرت مر رہے ہیں، میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک جنازہ کا گزر ہوا، لوگوں نے اس مردے کی تعریف کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واجب ہو گئی، پھر دوسرا جنازہ گزرا، لوگوں نے اس کی بھی تعریف کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا: واجب ہو گئی، تیسراجنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی بیان کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا: واجب ہو گئی، میں نے بالآخر پوچھ ہی لیا کہ امیر المؤمنین! کیا چیز واجب ہو گئی؟ فرمایا: میں نے تو وہی کہا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس مسلمان کے لئے چار آدمی خیر کی گواہی دے دیں اس کے لئے جنت واجب ہو گئی، ہم نے عرض کیا اگر تین آدمی ہوں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب بھی یہی حکم ہے“، ہم نے دو کے متعلق پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے“، پھر ہم نے خود ہی ایک کے متعلق سوال نہیں کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 139]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2643
حدیث نمبر: 140
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، وَالْفَتْحَ فِي رَمَضَانَ،" فَأَفْطَرْنَا فِيهِمَا".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں بھی جہاد کے لئے نکلے تھے اور فتح مکہ کا واقعہ تو خیر رمضان ہی میں پیش آیا تھا، ان دونوں موقعوں پر ہم نے دوران سفر روزے نہیں رکھے تھے۔ (بلکہ بعد میں قضاء کی تھی)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 140]
حکم دارالسلام: حديث قوي، عبدالله بن لهيعة سيء الحفظ، لكن رواه عنه قتيبة بن سعيد، ورواية قتيبة عنه صالحة معتبر بها
حدیث نمبر: 141
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ عَوْفٍ الْعَنَزِيُّ بَصْرِيٌّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْغَضْبَانُ بْنُ حَنْظَلَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ حَنْظَلَةَ بْنَ نُعَيْمٍ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ، فَكَانَ عُمَرُ إِذَا مَرَّ بِهِ إِنْسَانٌ مِنَ الْوَفْدِ، سَأَلَهُ مِمَّنْ هُوَ، حَتَّى مَرَّ بِهِ أَبِي، فَسَأَلَهُ مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ عَنَزَةَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" حَيٌّ مِنْ هَاهُنَا مَبْغِيٌّ عَلَيْهِمْ مَنْصُورُونَ".
غضبان بن حنظلہ کہتے ہیں کہ ان کے والد حنظلہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک وفد لے کر حاضر ہوئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس وفد کے جس آدمی کے پاس سے بھی گزرتے اس کے متعلق یہ ضرور پوچھتے کہ اس کا تعلق کہاں سے ہے؟ چنانچہ جب میرے والد کے پاس پہنچے تو ان سے بھی یہی پوچھا کہ آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟ انہوں نے بتایا: قبیلہ عنزہ سے، تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس قبیلے کے لوگ مظفر و منصور ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 141]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الغضبان بن حنظلة وأبيه