🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. مُسْنَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 142
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنِ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، فَحَدَّثَهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ:" غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَتَيْنِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ يَوْمَ بَدْرٍ، وَيَوْمَ الْفَتْحِ، فَأَفْطَرْنَا فِيهِمَا".
معمر (جو کہ ایک مشہور محدث ہیں) نے ایک مرتبہ سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ علیہ سے دوران سفر روزہ رکھنے کا حکم دریافت کیا تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث انہیں سنائی کہ ہم نے ماہ رمضان میں دو مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شرکت کی ہے، ایک غزوہ بدر کے موقع پر اور ایک فتح مکہ کے موقع پر اور دونوں مرتبہ ہم نے روزے نہیں رکھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 142]

حکم دارالسلام: حديث قوي، عبدالله بن لهيعة سيء الحفظ، لكن رواه عنه قتيبة بن سعيد، ورواية قتيبة عنه صالحة معتبر بها
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 143
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا دَيْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ عَبْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ الْكُرْدِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي، كُلُّ مُنَافِقٍ عَلِيمِ اللِّسَانِ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اپنی امت کے متعلق سب سے زیادہ خطرہ اس منافق سے ہے جو زبان دان ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 143]

حکم دارالسلام: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 144
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّهُ كَانَ مَعَ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فِي أَرْضِ الرُّومِ، فَوُجِدَ فِي مَتَاعِ رَجُلٍ غُلُولٌ، فَسَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ وَجَدْتُمْ فِي مَتَاعِهِ غُلُولًا، فَأَحْرِقُوهُ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَاضْرِبُوهُ"، قَالَ: فَأَخْرَجَ مَتَاعَهُ فِي السُّوقِ، قَالَ: فَوَجَدَ فِيهِ مُصْحَفًا، فَسَأَلَ سَالِمًا، فَقَالَ: بِعْهُ، وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ".
سیدنا سالم رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ وہ مسلمہ بن عبدالملک کے ساتھ ارض روم میں تھے کہ ایک آدمی کے سامان سے چوری کا مال غنیمت نکل آیا، لوگوں نے سیدنا سالم رحمہ اللہ علیہ سے اس مسئلے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اپنے والد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث نقل کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جس شخص کے سامان میں سے تمہیں چوری کا مال غنیمت مل جائے، اس سامان کو آگ لگا دو اور شاید یہ بھی فرمایا کہ اس شخص کی پٹائی کرو۔ چنانچہ لوگوں نے اس کا سامان نکال کر بازار میں لا کر رکھا، اس میں سے ایک قرآن شریف بھی نکلا، لوگوں نے سالم سے اس کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ اسے بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کر دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 144]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف صالح بن محمد بن زائدة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 145
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْبُخْلِ، وَالْجُبْنِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، «مِنَ الْبُخْلِ، وَالْجُبْنِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ» بخل سے، بزدلی سے، دل کے فتنہ سے، عذاب قبر سے اور بری عمر سے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 145]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 146
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الشُّهَدَاءُ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ، فَذَلِكَ الَّذِي يَرْفَعُ إِلَيْهِ النَّاسُ أَعْنَاقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ حَتَّى وَقَعَتْ قَلَنْسُوَتُهُ، أَوْ قَلَنْسُوَةُ عُمَرَ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَكَأَنَّمَا يُضْرَبُ جِلْدُهُ بِشَوْكِ الطَّلْحِ، أَتَاهُ سَهْمٌ غَرْبٌ، فَقَتَلَهُ، هُوَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ، خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا، وَآخَرَ سَيِّئًا، لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ، فَذَلِكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: شہداء تین طرح کے ہوتے ہیں۔ وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان مضبوط ہو، دشمن سے اس کا آمنا سامنا ہوا اور اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا یہاں تک کہ شہید ہو گیا، یہ تو وہ آدمی ہے جس کی طرف قیامت کے دن لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر بلند کر کے دکھایا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹوپی گر گئی۔ وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان مضبوط ہو، دشمن سے آمنا سامنا ہوا اور ایسا محسوس ہو کہ اس کے جسم پر کسی نے کانٹے چبھا دئیے ہوں، اچانک کہیں سے ایک تیر آیا اور وہ شہید ہو گیا، یہ دوسرے درجے میں ہو گا۔ وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان تو مضبوط ہو لیکن اس نے کچھ اچھے اور کچھ برے دونوں طرح کے عمل کیے ہوں، دشمن سے جب اس کا آمنا سامنا ہوا تو اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا، یہاں تک کہ شہید ہو گیا، یہ تیسرے درجے میں ہو گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 146]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الخولاني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 147
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُقَادُ وَالِدٌ مِنْ وَلَدٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرِثُ الْمَالَ مَنْ يَرِثُ الْوَلَاءَ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: باپ سے اس کی اولاد کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مال کا وارث وہی ہو گا جو ولاء کا وارث ہو گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 147]

حکم دارالسلام: حديث حسن، عبدالله بن لهيعة- وإن كان سيء الحفظ - قد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 148
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يُقَادُ لِوَلَدٍ مِنْ وَالِدِهِ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ سے اس کی اولاد کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 148]

حکم دارالسلام: حديث حسن كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 149
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ بھی دھویا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 149]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، عبدالله بن لهيعة تابعه رشدين بن سعد وهو ممن يعتبر بحديثه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 150
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الشُّهَدَاءُ أَرْبَعَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَصَدَقَ اللَّهَ، فَقُتِلَ، فَذَلِكَ الَّذِي يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهِ هَكَذَا، وَرَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى سَقَطَتْ قَلَنْسُوَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَلَنْسُوَةُ عُمَرَ، وَالثَّانِي: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَكَأَنَّمَا يُضْرَبُ ظَهْرُهُ بِشَوْكِ الطَّلْحِ، جَاءَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ، فَقَتَلَهُ، فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ، وَالثَّالِثُ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا، لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَصَدَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى قُتِلَ، قَالَ: فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ، وَالرَّابِعُ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ إِسْرَافًا كَثِيرًا، لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ، فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الرَّابِعَةِ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: شہداء چار طرح کے ہوتے ہیں۔ وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان مضبوط ہو، دشمن سے اس کا آمنا سامنا ہوا اور اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا یہاں تک کہ شہید ہو گیا، یہ تو وہ آدمی ہے جس کی طرف قیامت کے دن لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر بلند کر کے دکھایا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹوپی مبارک گر گئی۔ وہ مسلمان آدمی جس کا دشمن سے آمنا سامنا ہوا اور ایسا محسوس ہوا کہ اس کے جسم پر کسی نے کانٹے چبھا دئیے ہوں، اچانک کہیں سے ایک تیر آیا اور وہ شہید ہو گیا، یہ دوسرے درجے میں ہو گا۔ وہ مسلمان آدمی جس نے کچھ اچھے اور کچھ برے دونوں طرح کے عمل کیے ہوں، دشمن سے جب اس کا آمنا سامنا ہوا تو اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا، یہاں تک کہ شہید ہو گیا، یہ تیسرے درجے میں ہو گا۔ وہ مسلمان آدمی جس نے اپنی جان پر بےحد ظلم کیا، اس کا دشمن سے آمنا سامنا ہوا، تو اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا اور شہید ہو گیا، یہ چوتھے درجے میں ہو گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 150]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الخولاني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 151
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" تَوَضَّأَ عَامَ تَبُوكَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال اپنے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 151]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، رشدين بن سعد- على ضعفه - توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں