مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. مُسْنَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 122
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: ضِفْتُ عُمَرَ ، فَتَنَاوَلَ امْرَأَتَهُ، فَضَرَبَهَا، وَقَالَ: يَا أَشْعَثُ، احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا حَفِظْتُهُنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسْأَلْ الرَّجُلَ فِيمَ ضَرَبَ امْرَأَتَهُ، وَلَا تَنَمْ إِلَّا عَلَى وَتْرٍ"، وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ.
اشعث بن قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دعوت کی، ان کی زوجہ محترمہ نے انہیں دعوت میں جانے سے روکا، انہیں یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے اپنی بیوی کو مارا، پھر مجھ سے فرمانے لگے اشعث! تین باتیں یاد رکھو جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی ہیں۔ کسی شخص سے یہ سوال مت کرو کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے؟ وتر پڑھے بغیر مت سویا کرو۔ تیسری بات میں بھول گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 122]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عبدالرحمن المسلي
حدیث نمبر: 123
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي الرِّشْكَ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ أُمِّ عَمْرٍو ابْنَةِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: سَمِعَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: إِنَّهُ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ يَلْبَسْ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا، فَلَا يُكْسَاهُ فِي الْآخِرَةِ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص دنیا میں ریشم پہنے گا، وہ آخرت میں اسے نہیں پہنایا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 123]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، أم عمرو ابنة عبد الله بن الزبير روى لها البخاري تعليقاً والنسائي
حدیث نمبر: 124
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَيَسِيرَنَّ الرَّاكِبُ فِي جَنَبَاتِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ لَيَقُولُ: لَقَدْ كَانَ فِي هَذَا حَاضِرٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَثِيرٌ". قَالَ أَبِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: وَلَمْ يَجُزْ بِهِ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ جَابِرًا.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب ایک سوار مدینہ منورہ کے اطراف و جوانب میں چکر لگاتا ہو گا اور کہتا ہو گا کہ کبھی یہاں بہت سے مومن آباد ہوا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 124]
حکم دارالسلام: حسن لغيره ، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيء الحفظ، وأبو الزبير رمي بالتدليس
حدیث نمبر: 125
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ السَّائِبِ حَدَّثَهُ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي الْقَاسِمِ السَّبَئِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ قَاصِّ الْأَجْنَادِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يَقْعُدَنَّ عَلَى مَائِدَةٍ يُدَارُ عَلَيْهَا بِالْخَمْرِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلْ الْحَمَّامَ إِلَّا بِإِزَارٍ، وَمَنْ كَانَتْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا تَدْخُلْ الْحَمَّامَ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ کسی ایسے دستر خوان پر مت بیٹھے جہاں شراب پیش کی جاتی ہو، جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ بغیر تہبند کے حمام میں داخل نہ ہو اور جو عورت اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ حمام میں مت جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 125]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة قاص الأجناد
حدیث نمبر: 126
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَنْبَأَنَا لَيْثٌ ، وَيُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ سُرَاقَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ أَظَلَّ رَأْسَ غَازٍ، أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا حَتَّى يَسْتَقِلَّ، كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ حَتَّى يَمُوتَ، قَالَ يُونُسُ: أَوْ يَرْجِعَ، وَمَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا يُذْكَرُ فِيهِ اسْمُ اللَّهِ تَعَالَى، بَنَى اللَّهُ لَهُ بِهِ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی مجاہد کے سر پر سایہ کرے، اللہ قیامت کے دن اس پر سایہ کرے گا، جو شخص مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کرے یہاں تک کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے، اس کے لئے اس مجاہد کے برابر اجر لکھا جاتا رہے گا جب تک وہ فوت نہ ہو جائے اور جو شخص اللہ کی رضا کے لئے مسجد تعمیر کرے جس میں اللہ کا ذکر کیا جائے، اللہ جنت میں اس کا گھر تعمیر کر دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 126]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، عثمان بن عبدالله بن سراقة - وهو ابن بنت عمر- مختلف فى إدراكه جده عمر، وهو ثقة من رجال البخاري
حدیث نمبر: 127
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةً، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَغَيْرُ هَؤُلَاءِ أَحَقُّ مِنْهُمْ أَهْلُ الصُّفَّةِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ تُخَيِّرُونِي بَيْنَ أَنْ تَسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ، وَبَيْنَ أَنْ تُبَخِّلُونِي، وَلَسْتُ بِبَاخِلٍ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چیزیں تقسیم فرمائیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان کے زیادہ حقدار تو ان لوگوں کو چھوڑ کر اہل صفہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم مجھ سے غیر مناسب طریقے سے سوال کرنے یا مجھے بخیل قرار دینے میں خود مختار ہو، حالانکہ میں بخیل نہیں ہوں۔“
(فائدہ: مطلب یہ ہے کہ اگر میں نے اہل صفہ کو کچھ نہیں دیا تو اپنے پاس کچھ بچا کر نہیں رکھا اور اگر دوسروں کو دیا ہے تو ان کی ضروریات کو سامنے رکھ دیا۔) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 127]
(فائدہ: مطلب یہ ہے کہ اگر میں نے اہل صفہ کو کچھ نہیں دیا تو اپنے پاس کچھ بچا کر نہیں رکھا اور اگر دوسروں کو دیا ہے تو ان کی ضروریات کو سامنے رکھ دیا۔) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 127]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1056
حدیث نمبر: 128
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَو عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْحَدَثِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے حدث لاحق ہونے کے بعد وضو کیا اور موزوں پر مسح فرما لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 128]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد وعاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 129
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ مُسْتَنِدًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وعنده ابن عمر، وسعيد بن زيد:" اعْلَمُوا أَنِّي لَمْ أَقُلْ فِي الْكَلَالَةِ شَيْئًا، وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِي أَحَدًا، وَأَنَّهُ مَنْ أَدْرَكَ وَفَاتِي مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ، فَهُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ: أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَشَرْتَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، لَأْتَمَنَكَ النَّاسُ، وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَأْتَمَنَهُ النَّاسُ. فَقَالَ عُمَرُ: قَدْ رَأَيْتُ مِنْ أَصْحَابِي حِرْصًا سَيِّئًا، وَإِنِّي جَاعِلٌ هَذَا الْأَمْرَ إِلَى هَؤُلَاءِ النَّفَرِ السِّتَّةِ الَّذِينَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: لَوْ أَدْرَكَنِي أَحَدُ رَجُلَيْنِ، ثُمَّ جَعَلْتُ هَذَا الْأَمْرَ إِلَيْهِ، لَوَثِقْتُ بِهِ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ".
سیدنا ابورافع کہتے ہیں کہ زندگی کے آخری ایام میں ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، آپ نے فرمایا کہ یہ بات آپ کے علم میں ہونی چاہیے کہ میں نے کلالہ کے حوالے سے کوئی قول اختیار نہیں کیا اور نہ ہی اپنے بعد کسی کو بطور خلیفہ کے نامزد کیا ہے اور یہ کہ میری وفات کے بعد عرب کے جتنے قیدی ہیں، سب اللہ کی راہ میں آزاد ہوں گے۔ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اگر آپ کسی مسلمان کے متعلق خلیفہ ہونے کا مشورہ ہی دے دیں تو لوگ آپ پر اعتماد کریں گے جیسا کہ اس سے قبل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا اور لوگوں نے ان پر بھی اعتماد کیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا: دراصل مجھے اپنے ساتھیوں میں ایک بری لالچ دکھائی دے رہی ہے، اس لئے میں ایسا تو نہیں کرتا، البتہ ان چھ آدمیوں پر اس بوجھ کو ڈال دیتا ہوں جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بوقت وفات دنیا سے راضی ہو کر گئے تھے، ان میں سے جسے چاہو، خلیفہ منتخب کرلو۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر دو میں سے کوئی ایک آدمی بھی موجود ہوتا اور میں خلافت اس کے حوالے کر دیتا تو مجھے اطمینان رہتا، ایک سالم جو کہ ابوحذیفہ کے غلام تھے اور دوسرے سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 129]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد وهو ابن جدعان
حدیث نمبر: 130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ فِيهِمْ عُمَرُ ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے ایسے لوگوں نے اس بات کی شہادت دی ہے ”جن کی بات قابل اعتماد ہوتی ہے ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں جو میری نطروں میں ان سب سے زیادہ قابل اعتماد ہیں“ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے فجر کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے اور عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نفلی نماز نہ پڑھی جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 130]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 581، م: 826
حدیث نمبر: 131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَكَبَّ عَلَى الرُّكْنِ، فَقَالَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْ لَمْ أَرَ حِبِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ أَوَ اسْتَلَمَكَ، مَا اسْتَلَمْتُكَ، وَلَا قَبَّلْتُكَ، وَلَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کو بوسہ دینے کے لئے اس پر جھکے تو فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو تیری تقبیل یا استلام کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا اور کبھی تیرا استلام نہ کرتا، ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر کی زندگی کے ایک ایک لمحے میں بہترین رہنمائی موجود ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 131]
حکم دارالسلام: إسناده قوي