مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
975. حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22026
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْرُسُهُ أَصْحَابُهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22027
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنِّي مُسْتَيْقِظٌ أَرَى رَجُلًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ , نَزَلَ عَلَى جِذْمِ حَائِطٍ مِنَ الْمَدِينَةِ , فَأَذَّنَ مَثْنَى مَثْنَى , ثُمَّ جَلَسَ , ثُمَّ أَقَامَ , فَقَالَ: مَثْنَى مَثْنَى , قَالَ: " نِعْمَ مَا رَأَيْتَ , عَلِّمْهَا بِلَالًا" , قَالَ: قَالَ عُمَرُ: قَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ ذَلِكَ , وَلَكِنَّهُ سَبَقَنِي .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے آج رات ایک خواب دیکھا ہے " جو مجھے بیداری کے واقعے کی طرح یاد ہے " میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو آسمان سے اترا اس نے دو سبز چادریں زیب تن کر رکھی تھیں وہ مدینہ منورہ کے کسی باغ کے ایک درخت پر اترا اور اس نے اذان کے کلمات دو دو مرتبہ دہرائے پھر وہ بیٹھ گیا کچھ دیر بعد اس نے اقامت کہی اور اس میں بھی یہی کلمات دو دو مرتبہ دہرائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے بہت اچھا خواب دیکھا یہ کلمات بلال کو سکھا دو، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں نے بھی اسی طرح کا خواب دیکھا ہے، لیکن وہ مجھ پر سبقت لے گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22027]
حکم دارالسلام: إسناده منقطع، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ، وقد اختلف على أبن أبى ليلى فيه
حدیث نمبر: 22028
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا , يُصَلِّي الْخَمْسَ , وَيَصُومُ رَمَضَانَ , غُفِرَ لَهُ" , قُلْتُ: أَفَلَا أُبَشِّرُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" دَعْهُمْ يَعْمَلُوا" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو پنجگانہ نماز ادا کرتا ہو اور ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو تو اس کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنادوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں عمل کرتے رہنے دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22028]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عطاء بن يسار لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22029
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاةَ الْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ , فَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ , وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ , وَالْعَامَّةِ , وَالْمَسْجِدِ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس طرح بکریوں کے لئے بھیڑیا ہوتا ہے اسی طرح انسان کے لئے شیطان بھیڑیا ہے جو اکیلی رہ جانے والی اور سب سے الگ تھلگ رہنے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے اس لئے تم گھاٹیوں میں تنہا رہنے سے اپنے آپ کو بچاؤ اور جماعت مسلمین کو، عوام کو اور مسجد کو اپنے اوپر لازم کرلو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22029]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، العلاء بن زياد لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22030
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , وَإِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى , أَخْبَرَنِي مَالِكٌ , عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقِ الشَّامِ , فَإِذَا أَنَا بِفَتًى بَرَّاقِ الثَّنَايَا , وَإِذَا النَّاسُ حَوْلَهُ , إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَسْنَدُوهُ إِلَيْهِ , وَصَدَرُوا عَنْ رَأْيِهِ , فَسَأَلْتُ عَنْهُ , فَقِيلَ: هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ , فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ هَجَّرْتُ , فَوَجَدْتُ قَدْ سَبَقَنِي بِالْهَجِيرِ , وَقَالَ إِسْحَاقُ: بِالتَّهْجِيرِ , وَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي , فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ جِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , فَقَالَ: أَللَّهِ؟ فَقُلْتُ: أَللَّهِ , فَقَالَ: أَللَّهِ؟ فَقُلْتُ: أَللَّهِ , فَأَخَذَ بِحُبْوَةِ رِدَائِي فَجَبَذَنِي إِلَيْهِ , وَقَالَ: أَبْشِرْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ , وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ , وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ , وَالْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ" .
ابوادریس کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ دمشق کی جامع مسجد میں داخل ہوا وہاں ایک نوجوان اور کم عمر صحابی بھی تھے ان کا رنگ کھلتا ہوا، بڑی اور سیاہ آنکھیں اور چمکدار دانت تھے، جب لوگوں میں کوئی اختلاف ہوتا اور وہ کوئی بات کہہ دیتے تو لوگ ان کی بات کو حرف آخر سمجھتے تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ اگلے دن میں دوبارہ حاضر ہوا تو وہ ایک ستون کی آڑ میں نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے نماز کو مختصر کیا اور گوٹ مار کر خاموشی سے بیٹھ گئے میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا بخدا! میں اللہ کے جلال کی وجہ سے آپ سے محبت کرتا ہوں انہوں نے قسم دے کر پوچھا واقعی؟ میں نے بھی قسم کھا کر جواب دیا انہوں نے میری چادر کا پلو پکڑ کر مجھے اپنی طرف کھینچا اور فرمایا تمہیں خوشخبری ہو کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں میری وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22030]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي سماع أبى إدريس من معاذ خلاف
حدیث نمبر: 22031
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الْأَسْوَدُ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ..
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے قیامت کے دن عرش الہٰی کے سائے میں ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22031]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، وهو لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22032
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْحَكَمِ , قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ النَّزَّالِ أَوْ النَّزَّالَ بْنَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعَهُ مِنْ مُعَاذٍ , قَالَ: لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ , وَقَدْ أَدْرَكَهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ , فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ مَعْمَرٍ , عَنْ عَاصِمٍ , أَنَّهُ قَالَ الْحَكَمُ: وَسَمِعْتُهُ مِنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22032]
حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، عروة بن النزال مجهول ولم يسمعه من معاذ، ومتابع عروة ميمون بن أبى شبيب لم يسمع من معاذ أيضا
حدیث نمبر: 22033
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْحُصَيْنُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: كَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُبِقَ الرَّجُلُ بِبَعْضِ صَلَاتِهِ سَأَلَهُمْ , فَأَوْمئوا إِلَيْهِ بِالَّذِي سُبِقَ بِهِ مِنَ الصَّلَاةِ , فَيَبْدَأُ فَيَقْضِي مَا سُبِقَ , ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِي صَلَاتِهِمْ , فَجَاءَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَالْقَوْمُ قُعُودٌ فِي صَلَاتِهِمْ , فَقَعَدَ , فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقَضَى مَا كَانَ سُبِقَ بِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اصْنَعُوا كَمَا صَنَعَ مُعَاذٌ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی دور باسعادت میں یہ معمول تھا کہ اگر کسی آدمی کی کچھ رکعتیں چھوٹ جاتیں تو وہ نمازیوں سے پوچھ لیتا وہ اسے اشارے سے بتا دیتے کہ اس کی کتنی رکعتیں چھوٹی ہیں، چنانچہ پہلے وہ اپنی چھوٹی ہوئی رکعتیں پڑھتا اور پھر لوگوں کی نماز میں شریک ہوجاتا ایک دن حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نماز میں کچھ تاخیر سے آئے لوگ اس وقت قعدے میں تھے وہ بھی بیٹھ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوگئے تو انہوں نے کھڑے ہو کر اپنی چھوٹی ہوئی نماز مکمل کرلی، یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا تم بھی اسی طرح کیا کرو جیسے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22033]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ، واختلف على ابن أبى ليلى فيه
حدیث نمبر: 22034
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أخبرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا صَالِحٌ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ لَنَا مُعَاذٌ فِي مَرَضِهِ: قَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا كُنْتُ أَكْتُمُكُمُوهُ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" .
کثیرہ بن مرہ کہتے ہیں کہ کہ اپنے مرض الوفات میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سن رکھی ہے جو میں اب تک تم سے چھپاتا رہا ہوں (اب بیان کر رہا ہوں) میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنیا سے رخصتی کے وقت جس شخص کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22034]
حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22035
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ , عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ , أَنَّ مُعَاذًا قَالَ: " وَاللَّهِ إِنَّ عُمَرَ فِي الْجَنَّةِ , وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ , وَأَنَّكُمْ تَفَرَّقْتُمْ قَبْلَ أَنْ أُخْبِرَكُمْ لِمَ قُلْتُ ذَاكَ؟ ثُمَّ حَدَّثَهُمْ الرُّؤْيَا الَّتِي رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ عُمَرَ , قَالَ: وَرُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا! حضرت عمر رضی اللہ عنہ جنت میں ہوں گے اور مجھے اس کے بدلے میں سرخ اونٹ لینا بھی پسند نہیں ہے اور قبل اس کے کہ میں تمہیں اپنی اس بات کی وجہ بتاؤں تم لوگ منتشر ہو رہے ہو، پھر انہوں نے وہ خواب بیان کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق دیکھا تھا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب برحق ہے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مرتبہ خواب میں میں جنت کے اندر تھا تو میں نے وہاں ایک محل دیکھا لوگوں سے پوچھا کہ یہ کس کا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22035]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره ، وهذا إسناد منقطع، مصعب بن سعد لم يسمع من معاذ