🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1032. حَدِيثُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22985
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بنُ هِشَامٍ ، وَأَبو أَحْمَدَ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابرِ، فَكَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، إنا إن شاء الله بكم لاحقون، قَالَ مُعَاوِيَةُ فِي حَدِيثِهِ: أَنْتُمْ فَرَطُنَا، وَنَحْنُ لَكُمْ تَبعٌ، وَنَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمْ الْعَافِيَةَ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہا کریں کہ مؤمنین ومسلمین کی جماعت والو! تم پر سلامتی ہو ہم بھی ان شاء اللہ تم سے آکرملنے والے ہیں تم ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم تمہارے پیچھے آنے والے ہیں اور ہم اپنے اور تمہارے لئے اللہ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22985]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 975
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22986
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبي برَيْدَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ شکم مادر میں کیا ہے؟ (خوش نصیب یا بدنصیب) کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس علاقے میں مرے گا؟ بیشک اللہ ہر چیز سے واقف اور باخبر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22986]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22987
حَدَّثَنَا زَيْدٌ هُوَ ابنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: احْتَبسَ جِبرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: " مَا حَبسَكَ؟" , قَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بيْتًا فِيهِ كَلْب .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے میں تاخیر کردی حاضر ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے تاخیر کی وجہ پوچھی تو عرض کیا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22987]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22988
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ هَارُونَ ، أَخْبرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَبي دَاوُدَ الْأَعْمَى ، عَنْ برَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ وَبرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا جَعَلْتَهَا عَلَى إِبرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" .
حضرت بریدہ خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ! یہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ آپ کو سلام کیسے کریں یہ بتائیے کہ آپ پر درود کس طرح پڑھیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر اپنی عنایات ' رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرما جیسا کہ آل ابراہیم علیہ السلام پر نازل فرمائیں بیشک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22988]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا من أجل أبى داود الأعمى، وهو متروك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22989
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ , أَنَّ أَمَةً سَوْدَاءَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعَ مِنْ بعْضِ مَغَازِيهِ، فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ صَالِحًا أَنْ أَضْرِب عِنْدَكَ بالدُّفِّ، قَالَ:" إِنْ كُنْتِ فَعَلْتِ، فَافْعَلِي، وَإِنْ كُنْتِ لَمْ تَفْعَلِي، فَلَا تَفْعَلِي"، فَضَرَبتْ، فَدَخَلَ أَبو بكْرٍ وَهِيَ تَضْرِب، وَدَخَلَ غَيْرُهُ وَهِيَ تَضْرِب، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ، قَالَ: فَجَعَلَتْ دُفَّهَا خَلْفَهَا وَهِيَ مُقَنَّعَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَفْرَقُ مِنْكَ يَا عُمَرُ، أَنَا جَالِسٌ وَدَخَلَ هَؤُلَاءِ، فَلَمَّا أَنْ دَخَلْتَ، فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ کسی غزوے سے واپس تشریف لائے تو ایک سیاہ فام عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میں نے منت مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح سلامت واپس لے آیا تو میں خوشی کے اظہار میں آپ کے پاس دف بجاؤں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے یہ منت مانی تھی تو اپنی منت پوری کرلو اور اگر نہیں مانی تھی تو نہ کرو چنانچہ وہ دف بجانے لگی اسی دوران حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آگئے اور وہ دف بجاتی رہی پھر کچھ اور لوگ آئے لیکن وہ بجاتی رہی تھوڑی دیر بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو اس نے اپنا دف اپنے پیچھے چھپالیا اور اپناچہرہ ڈھانپ لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا عمر! شیطان تم سے ڈرتا ہے میں بھی یہاں بیٹھا تھا اور یہ لوگ بھی آئے تھے لیکن جب تم آئے تو اس نے وہ کیا جو اس نے کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22989]

حکم دارالسلام: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22990
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحْسَاب أَهْلِ الدُّنْيَا الَّذِي يَذْهَبونَ إِلَيْهِ، هَذَا الْمَالُ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل دنیا کا حسب نسب " جس کی طرف وہ مائل ہوتے ہیں " یہ مال و دولت ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22990]

حکم دارالسلام: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22991
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبي رَبيعَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ: " يَا عَلِيُّ، لَا تُتْبعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى، وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا علی! نامحرم عورت پر ایک مرتبہ نظر پڑجانے کے بعد دوبارہ نظر مت ڈالا کرو کیونکہ پہلی نظر تمہیں معاف ہے لیکن دوسری نظر معاف نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22991]

حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبى ربيعة وشريك وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22992
حَدَّثَنَا زَيْدٌ هُوَ ابنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبي ، يَقُولُ: بيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مَعَهُ حِمَارٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ارْكَب، فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا، أَنْتَ أَحَقُّ بصَدْرِ دَابتِكَ مِنِّي إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهُ لِي"، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ، قَالَ: فَرَكِب .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چلے جا رہے تھے کہ ایک آدمی گدھے پر سوار آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! اس پر سوار ہوجائیے اور خود پیچھے ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنی سواری کے اگلے حصے پر بیٹھنے کے زیادہ حقدار ہو، الاّ یہ کہ تم مجھے اس کی اجازت دے دو اس نے کہا کہ میں نے آپ کو اجازت دے دی چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوگئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22992]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22993
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي أَبي برَيْدَةُ ، قَالَ: حَاصَرْنَا خَيْبرَ، فَأَخَذَ اللِّوَاءَ أَبو بكْرٍ، فَانْصَرَفَ وَلَمْ يُفْتَحْ لَهُ، ثُمَّ أَخَذَهُ مِنَ الْغَدِ عمر، فَخَرَجَ، فَرَجَعَ وَلَمْ يُفْتَحْ لَهُ، وَأَصَاب النَّاسَ يَوْمَئِذٍ شِدَّةٌ وَجَهْدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي دَافِعٌ اللِّوَاءَ غَدًا إِلَى رَجُلٍ يُحِبهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَيُحِب اللَّهَ وَرَسُولَهُ، لَا يَرْجِعُ حَتَّى يُفْتَحَ لَهُ"، فَبتْنَا طَيِّبةٌ أَنْفُسُنَا أَنَّ الْفَتْحَ غَدًا، فَلَمَّا أَنْ أَصْبحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ قَامَ قَائِمًا، فَدَعَا باللِّوَاءِ وَالنَّاسُ عَلَى مَصَافِّهِمْ، فَدَعَا عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ، فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ، وَدَفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ، وَفُتِحَ لَهُ ، قَالَ برَيْدَةُ: وَأَنَا فِيمَنْ تَطَاوَلَ لَهَا.
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے خیبر کا محاصرہ کیا تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا پکڑا لیکن وہ مخصوص اور اہم قلعہ فتح کئے بغیر واپس آگئے اگلے دن پھر جھنڈا پکڑا اور روانہ ہوگئے لیکن آج بھی وہ قلعہ فتح نہ ہوسکا اور اس دن لوگوں کو خوب مشقت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جسے اللہ اور اس کا رسول محبوب رکھتے ہوں گے اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور فتح حاصل کئے بغیر واپس نہ آئے گا۔ چنانچہ ساری رات ہم اس بات پر خوش ہوتے رہے کہ کل یہ قلعہ بھی فتح ہوجائے گا جب صبح ہوئی تو نماز فجر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور جھنڈا منگوایا لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا جنہیں آشوب چشم تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگایا اور جھنڈا ان کے حوالے کردیا اور ان کے ہاتھوں وہ قلعہ فتح ہوگیا حالانکہ اس کی خواہش کرنے والوں میں میں بھی تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22993]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22994
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ ب وَضُحَاهَا، وَأَشْباهِهَا مِنَ السُّوَرِ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں سورت الشمس اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22994]

حکم دارالسلام: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں